زبان اک میڈیم تو ودھ کہ اک قومی یادداشت ہندی اے.
ساڈی تریخ ،مزاحمت، کلچر پنجابی زبان دے مختلف رنگاں چہ محفوظ اے. زبان نو چھڈیا تے اج اپنی پہچان تے شرمندہ نسل اپنی ٹارگٹ کلنگ تے حقوق لیے بولدے وی جھجک دی. اپنی بولی نوں چھڈکے کاہنوں در در رلدے پھریئے
اس لیے ماں بولی بول پنجابی.
@mrysathmainhoon اصل چہ لوکل نو ویکھ کے اے ٹرینڈ سیکھیا. ایتھے دی لوکل عوام خصوصاً سنکیانگ دی بہت کج کردی اے، شام ہونی تے ہر وڈے چوک تے پارک چہ عوام گروپ بنا کے نچ رئی ہندی. صحیح موجی لوک نیں. اونہاں نو ویکھ کے فر اوور سیز وی اپنے اپنے گروپ لے جاندے.
@TMChowk تمام معتبرین نے پولیس گردی پر بات کرنےکی بجائےزیادہ زور پنجابی کو گالی دینے پر لگایا. پھر دونوں طرف سے چل سو چل.
کہیں پڑھا تھا کہ جس کے ساتھ لڑائی ہوئی وہ پنجابی بھی نہیں تھا بلکہ کشمیر سے تھا. لیکن معتبرین نے اسے لسانی مسئلہ بنا دیا.
سات آٹھ برس پہلے ایوب پارک میں کچھ لڑکے فیملیوں کو تنگ کر رہے تھے، لڑائی ہوئی، پولیس آئی اور انہیں پکڑ کر لے گئی۔ میں وہیں تھا سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ گھر پہنچ کر ٹویٹر دیکھا تو پی ٹی ایم نے ٹرینڈ چلا رکھا تھا کہ پٹھانوں کو نسلی تعصب کی بنیاد پر اٹھا لیا گیا ہے
@khantainer میں اس گالی والے اکاؤنٹ کو فالو کر رہا ہوں جناب نسل پرست؟ نہیں. لیکن تم ضرور اس گند کو فالو کر رہے ہو.
دوسروں کو طعنہ دینے سے پہلے اپنے تعصب کی طرف دیکھ لیں گھٹیا انسان.
جناب دوسروں کو طعنےدےرہےہیں، جو خود نسل پرستی کر رہے.
یہ ایکٹوسٹس صاحب پہلے سکرین شاٹ والےکو فالو کر رہے. اس پر کوئی مذمتی ٹویٹ کی؟
باقاعدہ پنجابیوں کو ٹارگٹ کر رہےہیں، جواب مل رہاہے تو کہتےہیں کہ لسانی کارڈ لےآۓ. پولیس گردی پر بات کرنےکی بجائے پوری کمپئین پنجابی نفرت پر چلا رہے
A guy killed a Pashtun because he asked for his loan to be paid back. In revenge, the victim’s family killed the same guy. Police arrested the victim’s family members, including women, but these assholes will never tell you the whole story, and they are giving it a Punjabi/Pathan ethnic touch.
چینی سیٹھ کی ہے، اس لیے چینی باہر بیچنے کی اجازت مل جائے گی. پھر کچھ عرصے بعد ملک میں بحران آنے کی خبر چلائی جاۓ گی اور ساتھ ہی ریٹ بڑھا دیا جائے گا.
گندم چونکہ کسان کی ہے، تو وہ صوبے سے بھی باہر نہیں جاسکتی. جب تک فلور مل والے سیٹھ یا بڑے گودام والے سیٹھ کے پاس نہ چلی جائے.
زیادہ تر اس پڑھے لکھے طبقے میں بھی جاگیر دار گھرانوں کے ہی چشم و چراغ ہوتے ہیں.
جو شوقیہ انقلابی بنے ہوتے ہیں، لاہور، اسلام آباد بیٹھ کر دنیا جہان کے پاپولسٹ بیانیہ کو پکڑ کر ایکٹوازم کر رہے ہوتے ہیں، لیکن اپنے ہی خاندان کے جاگیردارانہ نظام میں پسنے والوں کےلیےایک لفظ نہیں نکلتا.
Even when we see educated people talking about rights, people who studied abroad, speak fluent English, and can quote Fanon and Marx with confidence, talk about national questions, equality, state repression but they still stay silent about the lands their families held for generations and the wealth and power they continue to draw from them. Lawyers, politicians, judges, even activists, academics all speak about exploitation in theory, but very few are willing to question the feudal structures that benefit their own class.
You will hardly hear anyone seriously talk about land reforms or giving land to farmers. The system only changed its appearance. Many children of feudal families became more ‘angrez’ after studying abroad and gained greater exposure to the world, yet they rarely speak about the inequality and unequal power structures from which they continue to benefit.
Without land reforms, no amount of education, technology, or new laws can truly change the condition of ordinary people in Pakistan. A small wealthy class continues to dominate the country, and their children remain the biggest beneficiaries of this system.