یہ گھسی پٹی باتیں ھم دھائیوں سے سنتے اۤ رھے ھیں۔۔۔'یہ کرنا ھوگا۔۔وہ کرنا ھوگا'۔۔۔ او خدا کے بندو حکومت تم لوگوں کی ھے تو کرو نا۔ کس نے منع کیا ھے؟ بھر جب بعد میں بے عزّت ھو کر باھر پھینکے جاتے ھیں تو الپنے کیلیئے ایک ھی راگ رہ جاتا ھے کی 'اسٹیبلشمنٹ نے کچھ کرنے نہیں دیا'
This composition has been rinsed and repeated so many times on both sides of Wahga that it's lost all its charm. Collabs in Punjabi pop are almost always futile and ridiculous as the second fiddle or sidekick usually adds nothing meaningful to the song. Pathetic overall
Punjabi music icon Abrar Ul Haq has made a powerful return with the release of Husna Di Sarkar, a global collaboration featuring Roach Killa and Dr. Zeus. The new track blends Punjabi beats with an international sound, bringing together three well-known names from the South Asian music industry. @AbrarUlHaqPK
@UsmanQazi1@feast22nd Exactly, system is rigged in a way that when it suits the elites we have a laissez fair model but when it harms their interests we switch to protective model.
سرمایہ دارانہ نظام اور فری مارکیٹ اکانومی میں رہتے ہوئے یا انہیں اپنا کر بہت سے ممالک نے بے مثال ترقی کی ہے، ہم نہیں کر پائے شاید خرابی ہم میں ہے۔ جمہوریت کے جو ماڈلز ہمارے ہاں رائج ہیں، ایک میں فوج پیچھے رہ کر حکومت چلاتی تھی، اب دس سال سے دوسرے ماڈل کے تحت ساتھ بیٹھ کر 1/2
میرا جمہوری سسٹم پر اتنا believe نہیں رہا لگتا ہے کہ مغرب کا دیا ہوا یہ concept پوری دنیا میں اب فیل ہو رہا ہے ۔ capitalism بھی 8 ارب کی آبادی کے 90 فیصد سے زیادہ لوگوں کو غربت یا struggling stage سے نکلنے نہیں دے رہا ۔ ملک چلانے کا طریقہ کار معاشی concept اب کچھ اور مانگ رہا ہے کوئی اور سلوشن جس میں دولت کی تقسیم کلاس سسٹم برابر ہو ۔ یہ آنے 50 سالوں میں بدلاؤ آئے گا یا زیادہ سے زیادہ سو سال مزید ۔ لیکن پھر بھی ہم چونکہ جمہوری نظام میں چل رہے ہیں تو یہ عوامی مناظر اچھے لگتے ہیں ۔ خواجہ سعد رفیق اور خرم دستگیر جیسے لوگ لیڈ کرتے ہوئے سٹیج پر اچھے لگتے ہیں ۔ عوام انکے لئے نعرے لگاتی بھی اچھی لگتی ہے ۔ تمام جماعتوں کے عوام کا الیکشن کے دن باہر نکلنا اچھا لگتا ہے ۔ خدا کرے الیکشن فری اینڈ فئیر ہوں ۔ جسکو عوام ووٹ دے وہ ہی کرسی پر بیٹھے اور باقی تحمل سے اس پراسیس کو قبول کریں ۔
Why South Indian languages are written moree in a curved artistic way while North Indian languages are written in straight lines in an architectural way.
کوئی پاکستانی وزیر تعلیمی پالیسی میں امریکی چارٹر سکولوں کی مثال دے رہا ہے تو یہ پریشانی کی بات ہے۔ چارٹر سکول کوئی قابل فخر یا قابل تقلید مثال نہیں کیونکہ یہ حقیقت میں پبلک سکول کی ناکامی ہی کی وجہ سے وجود میں لایا گیا ہے نہ کہ پبلک سکولز کے نظام کو بہتر کرنے۔
یہ کسی حد تک ایسے ہے جیسے کوئی امریکہ میں قائم نجی جیلوں کو مثال بنا کر پاکستان میں بھی یہ کام شروع کر دے۔ امریکہ میں دنیا میں سب سے زیادہ لوگ جیلوں میں قید ہونے کی ایک وجہ پرائیویٹ کاروباری افراد کا گورنمنٹ سے ساز باز کر کے جیلوں کو دھندے و کاروبار میں کنورٹ کرنا ہے۔ یہ بھی کوئی قابل تقلید مثال نہیں۔
امریکہ دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک ضرور ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں ہونے والی ہر چیز مثالی ہے۔ اگر امریکہ سے مثال لینی ہے تو کیلیفورنیا میں قائم پبلک یونیورسٹیوں کے نظام کی لینی چاہیے، نا کہ چارٹر سکولوں کی۔ اور اگر سکولوں کی مثال ڈھونڈنی ہے تو فن لینڈ، جاپان اور ساؤتھ کوریا کو سٹڈی کریں۔
آپ نے جس پہلے شعر کو بنیاد بنا کر آپ نے یہ پورا مقدمہ کھڑا کیا ہے، وہی آپ کے دعوے کی نفی کے لیے کافی ہے کیونکہ خوشحال خان خٹک کے پورے دیوان، کلیات یا کسی بھی مستند خطی نسخے میں ستاروں پر کمند ڈالنے والا شعر سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ یہ دراصل علامہ اقبال کا ہی اصل اردو شعر ہے جس کا بیسویں صدی میں کسی پختون مترجم نے پشتو ترجمہ کیا، اور آپ جیسے احباب نے تحقیق کیے بغیر اسے خوشحال بابا سے منسوب کر کے اقبال پر چوری کا الزام دھر دیا۔ جو انسان اپنے قومی ہیرو کا اصل کلام ہی نہ پہچانتا ہو، اس کا علامہ اقبال جیسے عالمی فلسفی پر فکری سرقے کا الزام لگانا محض ایک مذاق ہے۔ ایک بار پھر یہ دعویٰ کرنا کہ علامہ اقبال نے خوشحال خان خٹک یا رحمان بابا کا کلام چوری کیا تھا، دراصل اقبال کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ فلسفے، فکری عظمت اور ادبی مقام کی توہین ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری میں روحانی آزادی، جرات، خود شناسی، انکساری، عشقِ الٰہی، شاہین اور بیج جیسی تمثیلات جن موضوعات کی نمائندگی کرتی ہیں، وہ صرف پشتو ادب تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ تصورات دراصل اسلامی، فارسی اور صوفیانہ ادبی روایت کا حصہ ہیں، جو صدیوں پہلے عربی اور فارسی شاعری میں موجود تھے۔ مثال کے طور پر شاہین کی علامت خوشحال خان خٹک سے بہت پہلے فارسی اور عربی شاعری میں سنائی، مولانا رومی اور عطار جیسے کلاسیکی شعراء کے ہاں واضح طور پر استعمال ہو چکی تھی۔ اسی طرح رحمان بابا کے تخم والے شعر اور اقبال کے دانہ خاک میں ملنے والے شعر کے پیچھے جو بیج کا مٹی میں فنا ہو کر نئی زندگی پانا کا تصور ہے، وہ ایک آفاقی صوفیانہ حقیقت ہے جو مولانا رومی کی مثنوی میں رحمان بابا سے بہت پہلے موجود ہے جہاں وہ فرماتے ہیں چوں تخم اندر خاک شو اقبال نے خود اپنی فکری اور ادبی تحریک کے سرچشموں کا کئی مقامات پر ذکر کیا ہے جہاں انہوں نے مولانا رومی، حافظ شیرازی اور دیگر فارسی کلاسیکی مفکرین کو اپنا رہنما قرار دیا، جیسا کہ وہ فرماتے ہیں نکتہ ہا از پیرِ روم آموختم خویش را در حرفِ او واسوختم ۔ مزید یہ کہ معروف افغان پشتون محقق ڈاکٹر سیا سنگ نے بھی اپنی فارسی تحقیق میں یہ مؤقف پیش کیا ہے کہ خود رحمان بابا کے بعض اشعار فارسی-تاجک شاعر حافظ شیرازی کے کلام سے ماخوذ یا ان کے اثرات کے حامل ہیں، مگر اس سے رحمان بابا کی اپنی عظمت کم نہیں ہوتی۔ ادبی اثرات، فکری مماثلت اور مشترکہ صوفیانہ روایت کو سرقہ قرار دینا علمی دیانت کے خلاف ہے، کیونکہ کسی شاعر کے ہاں ملتے جلتے مضامین پائے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے دوسرے شاعر کا کلام چوری کیا ہو، خصوصاً جب وہ مضامین صدیوں پر محیط ایک وسیع تہذیبی، اسلامی اور فارسی ادبی روایت کا حصہ ہوں۔ رہی بات ملکہ وکٹوریہ کے مرثیے کی، تو 1901ء میں جب ملکہ کا انتقال ہوا تو اقبال محض 24 سال کے ایک طالب علم تھے اور اس وقت پورے برصغیر میں انگریز کے خلاف اس طرح سیاسی شعور بیدار نہیں ہوا تھا، مگر اہم تاریخی حقیقت یہ ہے کہ جب اقبال کا فکری ارتقا ہوا تو انہوں نے اپنے اس نوجوانی کے مرثیے سے نہ صرف برأت کا اظہار کیا بلکہ اسے اپنی کلیات سے ہمیشہ کے لیے خارج کر دیا اور برطانوی سامراج کے مکر و فریب کے خلاف وہ بے باک شاعری کی جس کی مثال پورے برصغیر میں نہیں ملتی، یہاں تک کہ انہوں نے افغانستان کے غازی امان اللہ خان کی استعمار ضد تحریک کی کھل کر حمایت کی اور اپنی کتاب پیامِ مشرق ان کے نام معنون کی۔ چنانچہ فیس بک کی چند گمراہ کن پوسٹوں، قوم پرستوں کے سیاسی بیانات اور تعصب کو بنیاد بنا کر تاریخ اور ادب کے اتنے بڑے سچ کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
@Nazranausufzai درست فرمایا آپ نے۔ کوئلے کی کانوں پر اکبر نوتیزئی صاحب نے کچھ کمال کے فیچرز کئے ہیں۔ ایک میں یہ بھی بتایا تھا کہ کم عمر لڑکوں کو شانگلہ سے لایا جاتا اور ان کا جنسی استحصال کیا جاتا ہے۔ غربت کے ہاتھوں بے بس لوگوں کے پھیپھڑے مضبوط بتانا عجیب بے رحمی ہے
@HummaSaif You're right but AI has far bigger challenges to overcome than dotcom era companies like massive amount of power required to run the systems, ever expanding data centers, expensive chips and all it has to show against it for now is some coding skills and AI slop.