حکمران پیپلز پارٹی کا کراچی کا جنرل سیکرٹری تیمور سیال خود ہمارے کیمروں کے سامنے آیا، بلکہ مئیر کراچی نے اسے خود بھجوایا، اس نے خود بات شروع کی اور ہم نے جب احترام سے سوال کیا تو سوال کو جھوٹے جذبات اور جھوٹے الفاظ کہہ ک�� اُلٹا سوال کرنے والے کو جھوٹا ثابت کرنے کی گھٹیا کوشش کی۔ خود کو فرعون سمجھنے والے ان حکمرانوں اور ان کے درباریوں کو سوال سننے کی عادت ڈالنا ہو گی۔۔۔
تحریک انصاف پر ظلم کرنے کا سب سے بڑا نقصان قانون، آہین تو ختم کیا لیکن معاشرے کو جو بے حس تماش بین بنا دیا جو صرف اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے بے شرم، بے غیرت ہوچکے ہیں۔
ان تین جاہل ترین عورتوں کو فضا علی کا شاندار جواب...
ہر کام کرنے والے کی عزت ہوتی ہیں۔ یہ لوگ زندگیوں کو رسک میں ڈال کر ہمارے لئے کھانا لاتے ہیں، فیضا علی
“ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے۔ عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی- اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا- عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے-
اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے- جسکی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے- اس دور میں جس طرح عام عوام کا قتل عام کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے سانحات، طاقت کے اس اندھے استعمال کی بدترین مثال ہیں۔ جس طرح نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں یہ کسی مہذب معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا-
خواتین پر جتنا ظلم عاصم منیر کے دور میں ہوا ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ اور کینسر سروائیوور ہیں، ان کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف چھوڑنے سے انکار کیا۔ بشریٰ بیگم کو بھی صرف اس لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ کہاں کا قانون ہے کہ جنھوں نے تحریک انصاف چھوڑ دی ان کے لیے عام معافی اور جو میرے نظریات کا ساتھ دیتے رہے ان پر ہر طرح کا ظلم و جبر۔
ہم غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
عاصم منیر مجھ پر اور میری اہلیہ پر ہر طرح کا ظلم کر رہا ہے۔ ایسا ظلم کسی سیاسی رہنما کے اہل خانہ کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں نہ ہی میں جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں "یا موت یا آزادی" جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انھیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف نہ فارم 47 حکومت سے مذاکرات کرے گی نہ اسٹیبلشمنٹ سے۔ ایسی کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات کا تو ویسے ہی کوئی فائدہ نہیں جس کا وزیراعظم ہی "پوچھ کر بتاؤں گا" کے تحت چل رہا ہو۔ مذاکرات اس لئے بھی بے سود ہیں کہ جب بھی ہم نے مذاکرات کئے، ہم پر سختیاں اور ظلم مزید بڑھا دیا گیا۔ اس وقت ساری طاقت ویسے بھی ایک فرد واحد یعنی عاصم منیر کے پاس ہے جو اپنی کرسی کی خاطرکسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ہمارے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اتحادی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔
تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں، پارلیمنٹیرنز، آئی ایل ایف اور سینئیر وکلاء کو ہائی کورٹس جانا چاہیے اور وہاں سے تاریخ لئے بغیر نہ اُٹھیں، کیونکہ میرے اور بشری بیگم کے مقدمات کی تاریخیں ہی نہیں دی جا رہیں اور جان بوجھ کر مقدمات کو طوالت دی جا رہی ہے تاکہ ہم جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں رکھا اور آخر کار انہوں نے زمین بوس ہی ہونا ہے لہٰذا ان کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا جا رہا۔
سلمان اکرم راجہ پر مکمل اعتماد ہے۔ پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور ملاقات کی لسٹ سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی بھیجی جائیں گی، سلمان اکرم راجہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ہدایات پر عملدرآمد کروائیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ سے ملاقات میں پیغام۔۔۔ نومبر 4، 2025
"ایکسٹینشن چاہئے؟ کیوں بھائی؟
جس نے روندا آئین کو،
توڑا قانون کو،
دو لخت کیا اس وطنِ عزیز کو،
اب کہتا ہے،
"مجھے ایکسٹینشن چاہئے!"
قوم کہتی ہے — کیوں بھائی؟ نہیں دیں گے!
#ایکسٹینشن_نامنظور#ذہنی_مریض_نامنظور
آرٹیکل 8، آرٹیکل199، آرٹیکل 200 اور کہی اور معاملات ستائیسویں آئینی ترامیم میں بدلے جا سکتے ہیں ، اگر یہ بدلے جاتے ہیں تو آپکو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان آرٹیکلز میں ہے کیا۔۔یہ عوامی انٹرسٹ عوامی مفاد کے آرٹیکلز ہیں اور عوامی مفاد کو مکمل عوامی سہولت کو مکمل ختم کرنا ہے
میری پیاری بہن، میری ہمدرد، میری دوست، اورمجھ سے بے پناہ محبت کرنے والی ڈاکٹر زعیمہ علوی احمد اللہ کو پیاری ہو گئیں۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِ��َيْهِ رَاجِعُونَ
وہ ایک نیک دل، مخیر خاتون تھیں، جنہوں نے اپنی زندگی اللہ کی رضا اور اور اُسکے بندوں کی خدمت میں وقف کر دی تھی۔ بالخصوص اپنے شوہر ڈاکٹر رشید احمد کی 2019 میں وفات پانے کے بعد سے ان کی اللہ سے قربت میں اضافہ ہوتا گیا ۔
اور جب فرشتوں نے انہیں آواز دی ہوگی:
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي
"اے نفس مطمئنہ! اپنے رب کی طرف لوٹ آ، تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی، پس میرے بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔"
تو میری مطمئن بہن اپنے رب کی طرف چل پڑی ہونگیں۔
اے اللہ! اپنی رحمت سے ان کی مغفرت فرما، انہیں جنت الفردوس میں اعلی�� مقام عطا کر، اور ان کے درجات بلند فرما۔ آمین۔
میری بہن کے ساتھ جن کا زندگی میں کوئی تعلق رہا، میں التجا کرتا ہوں کہ اُن کی کوتاہیوں کو معاف کر دیں اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ اللہ آپ پر بھی اپنی رحمت نازل فرمائے۔ آمین۔