تم زندگی میں جتنی بار ٹوٹو گے وہ اللّٰه اتنی بار تمہیں جوڑے گا۔۔ تم جتنی بار تھک�� گے وہ بار بار تمہیں بلائے گا۔۔ تمہاری خواہشیں پوری ہونے پر جیسے تم منہ موڑو گے وہ پھر بھی تمہارے واپس دیکھنے پر عطا کرے گا کیونکہ وہ جانتا ہے اس کے علاوہ اس کے بندے کا کوئی نہیں
1/2
تبھی وہ دن میں پانچ مرتبہ تمہیں بلاتا ہے:
"حی الصلاة"
( آؤ میری نماز کے پاس
جہاں وہ ہوتا ہے سجدوں میں )
"حی الفلاح"
( آؤ کامیابی کی طرف)
جہاں تمہارے ہر قدموں میں تمہیں کامیابی ملے گی جہاں نہ صرف تم بلکہ تمہاری دل سے پڑھی گئی نماز بھی تمہارے حق میں دعا کرے گی۔۔!
2/2
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا - - ”اللہ سے پناہ مانگا کرو آزمائش کی مشقت، بدبختی کی پستی، برے خاتمے اور دشمن کے ہنسنے سے۔ -
-
(صحیح بخاری، ۶۶۱۶)
اے زندگی
ایک بار مجھے پکار
کہ میں پھر سے کھڑا ہو سکوں
بکھرے ہوئے ارادوں کو
اپنی مٹھی میں بھر سکوں
جو خواب راستوں میں گر گئے ہیں
انہیں پھر کندھوں پر اٹھا سکوں
اگر ہوا چل پڑے
تو میں بھی سفر شروع کر دوں
اگر روشنی مل جائے
تو اپنے اندھیروں کو شکست دے دوں
اے زندگی
صرف اتنا کر
مجھے آواز دے
اور میں پھر جینا سیکھ لوں
دتے کے گھر کے مالی حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ ایک دن تنگ آ کر وہ پنڈ سے چپ چاپ غائب ہو گیا۔
پنڈ سے نکل کر وہ ایک مدرسے جا پہنچا۔ مدرسے کے مولوی صاحب سے اس نے کہا کہ وہ قرآن پاک حفظ کرنا چاہتا ہے۔ انگوٹھا چھاپ دتے نے مولوی صاحب کی کچھ اس طرح م��ت سماجت کی کہ مولوی صاحب کا دل پسیج گیا۔ انہوں نے دتے کو قرآن پاک حفظ کروانا شروع کر دیا۔ دن رات محنت کر کے دتے نے ایک سال میں قرآن پاک حفظ کر لیا۔
قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد دتہ اسی طرح خاموشی سے پنڈ واپس آ گیا۔ پنڈ کے لوگوں نے نہ اس کے غائب ہونے کا نوٹس لیا تھا اور نہ ہی واپس آنے کا، میرے اور میرے ساتھ والے پنڈ کے لوگ ایسے ہی ہیں۔
دتہ سارا دن خاموشی سے پنڈ میں مٹر گشت کرتا رہتا۔ چھ ماہ گزرنے کے بعد ایک دن وہ پنڈ کی مسجد کے بلند مینار پر چڑھ گیا۔ اس زمانے میں لاؤڈ اسپیکر نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مسجد کے مینار پر چڑھ کر اعلان یا اذان دیا کرتے تھے۔ دتے نے مینار پر چڑھ کر بلد آواز میں لوگوں کو بتایا کہ پچھلی رات جب میں سو رہا تھا تو خواب میں آ کر ایک فرشتے نے مجھے سینے سے لگایا ۔ سینے سے لگاتے ہی مجھے قرآن پاک حفظ ہو گیا۔ لوگو! یہ بہت بڑی کرامت ہے جو میرے ساتھ ہو گئی ہے۔ ان پڑھ دتے کے منہ سے یہ دعویٰ سن کر پنڈ والے ششدر ہو کر رہ گئے۔
مسجد کے مولوی صاحب بھی اعلان سن کر گھر سے باہر نکل آئے۔ پنڈ والے سب کے سب بھی چوھ��ری سمیت مسجد کے گرد جمع ہو گئے۔ پنڈ کا چوھدری حقے کا کش لگا کر بولا "اوئے دتے تیرے پاس کیا ثبوت ہے اپنے دعوے کا؟ دتہ بولا چوھدری جی مجھ سے پورا قرآن پاک سن لو ۔ اس کے ساتھ ہی اس نے بلند آواز میں قرآت شروع کر دی۔پنڈ والے دتے کی قرآن پاک کی روانی دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے۔ ادھر دتہ آنکھیں بند کئیے تلاوت میں مشغول تھا۔ میرے پنڈ کے اور ساتھ والے پنڈ کے لوگ ایسی کرامات دیکھنے کے حد سے زیادہ شائق ہیں۔ چٹے انپڑھ دتے کی اس کرامت نے ان کو پاگل سا کر دیا۔ تلاوت کے دوران چند جوشیلے دیہاتیوں نے نعرہ تکبیر لگانا شروع کر دیا۔ پنڈ کے مرد و زن جوش و خروش سے نعروں کے جواب دینے لگے۔
مولوی صاب کا پورا دھیان دتے کی تلاوت کی طرف تھا وہ دتے کی غلطی پکڑنا چاہتے تھے۔ لیکن دتہ کی تلاوت میں ان کو کوئی غلطی نہیں مل رہی تھی۔ بالآخر مولوی جی نے اعلان کیا کہ دتہ کی کرامت حق پر مبنی ہے۔ مولوی جی کی بات سن کر پنڈ والوں کے جذبات اپنے عروج پر پہنچ گئے۔ کچھ تو خوشی سے دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ میرے پنڈ کے ��ور میرے ساتھ والے پنڈ کے لوگ ایسے ہی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ کچھ جذباتی ہو کر مینار پر چڑھنے لگے ۔ انہوں نے اوپر پہنچ کر دتے کے ہاتھ پاؤں چوم کر عقیدت کا اظہار کیا اور اپنے آپ کو ان خوش نصیبوں میں شمار کرنے لگے جنہوں نے سب سے پہلے دتے کے ہاتھ پاؤں چومے تھے۔ خیر ان عقیدت مندوں نے آنکھیں بند کر کے تلاوت کرتے ہوئے دتے کو کندھوں پر اٹھا لیا اور بہت احترام سے مینار سے نیچے اتار لائے جبکہ دتہ ہنوز آنکھیں بند کئے تلاوت میں مشغول تھا۔دتے کے مینار سے نیچے اترتے ہی چوھدری نے روتے ہوئے ��پنے کھیسے میں سے ہاتھ ڈال کر دس کا نوٹ نکالا اور دتے کے مٹھی میں دے دیا۔ باقی گاؤں والے بھی حسب توفیق دتے کی خدمت کرنے لگے۔
دتہ پیر بن چکا تھا۔ اس کو کندھے پر اٹھا کر گھر پہنچایا گیا۔ نہلا دہلا کر نیا جوڑا پہنایا گیا۔ اس کے بعد لنگر کا اہتمام کیا گیا۔ وہ دتہ جس کو اپنی دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے رہتے تھے اب اس کے لنگر پر غریب آ آ کر اپنا پیٹ بھرنے لگے۔ قوالوں نے مستقل دتے کے گھر پر ڈیرے لگا لئے محفل سماع کا اہتمام کیا جانے لگا۔ جس میں لوگوں پر حال (وجد) طاری ہوتا۔ دتے کو اونچی سی مسند پر بٹھا کر اس کے سامنے قوالیاں کی جاتیں۔ کھسرے وغیرہ بھی مجرے پیش کرتے یعنی اس کا گھر پورا پورا دربار بنا دیا گیا تھا۔ قصہ مختصر دتے کے مرنے کے بعد باقاعدہ عرس بھی کیا جانے لگا۔ ایک بار مدرسے والے مولوی صاحب بھی دربار پر منت مانگنے آئے ان کو بتایا گیا تھا کہ یہ ایک کرنی والے پیر کا دربار ہے جہاں منتیں مانی جاتی ہیں اور ہر کام ہو جاتا ہے۔ مولوی کو پیر کی کرامت کے بارے بتایا گیا۔ مزار پر لگی فوٹو دیکھ کر بوڑھے مولوی جی کو اپنا شاگرد یاد آگیا۔ ساری کہانی سمجھ کر مولوی نے مریدوں کو اصل کہانی بتانے کی کوشش کی مگر مریدوں نے مولوی کی ٹھکائی شروع کر دی وہ دتہ پیر جی کے خلاف ایک لفظ بھی سننے پر تیار نہ تھے بمشکل مولوی جان بچا کے بھاگے اور پھر دوبارہ دربار کے قریب بھی جانے کی انہوں نے کوشش نہ کی۔
دتہ آج ہمارا سماجی اثاثہ ہے اور دھرتی پر دتہ راج ہے ۔۔
منقول
قرآن میں ایک سورت ہے جو ایک خاص احساس کے لیے نازل ہوئی تھی۔ غم کے لیے نہیں، خوف کے لیے نہیں، تنہائی کے لیے نہیں۔ بلکہ اُس احساس کے لیے جب آپ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ کام نہیں بن رہا ہوتا۔ اور اللہ کا جواب... آپ کو رُلا دے گا۔
اس سورہ کے نازل ہونے سے پہلے نبی ﷺ کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کے بارے میں زیادہ لوگ بات نہیں کرتے۔ وحی رک گئی تھی۔ ہفتوں تک—کچھ علماء کے مطابق مہینوں تک جبرائیل علیہ السلام نہیں آئے۔ نہ کوئی آیات، نہ کوئی ہدایت۔ بس... خاموشی۔
اور نبی ﷺ — جو اللہ کے سب سے محبوب تھے — سوچنے لگے: "کیا مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی؟ کیا میرے ��ب نے مجھے چھوڑ دیا ہے؟ کیا وہ مجھ سے ناراض ہے؟" قریش کے دشمنوں نے ان کا مذاق اڑایا اور کہا: "تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے۔" اس بات نے انہیں گہرا دکھ پہنچایا۔
پھر اللہ نے اس خاموشی کو توڑا۔ کسی تنبیہ یا حکم کے ساتھ نہیں، بلکہ ایک قسم کے ساتھ:
وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ
"قسم ہے صبح کی روشنی کی، اور رات کی جب وہ چھا جاتی ہے۔"
اور پھر وہ آیت نازل ہوئی جو انسان کی زندگی کی ہر تاریک رات کا جواب بن جاتی ہے:
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ
"تمہارے رب نے نہ تمہیں چھوڑا ہے اور نہ وہ تم سے ناراض ہوا ہے۔"
اللہ نے یہ نہیں کہا کہ 'صبر کرو' یا 'اور زیادہ کوشش کرو'، اس نے بس یہ کہا کہ میں نے تمہیں چھوڑا نہیں ہے، میں کبھی گیا ہی نہیں تھا۔
اللہ نے انہیں کوئی پانچ قدموں والا منصوبہ نہیں دیا، بلکہ ان کی اپنی زندگی کی تاریخ کو دلیل بنا دیا۔ گویا فرمایا: "اپنی زندگی کو دیکھو۔ دیکھو میں نے پہلے تمہارے لیے کیا کیا ہے۔ میں اُس وقت بھی تمہارے ساتھ تھا۔ تو اب کیوں تمہیں چھوڑ دوں گا؟" اللہ اپنے نبی ﷺ کی زندگی کی کہانی ہی یاد دلاتا ہے:
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ۔ وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ۔ وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ
"کیا اس نے تمہیں یتیم نہیں پایا اور پناہ دی؟ کیا اس نے تمہیں راستہ تلاش کرتے نہیں پایا اور ہدایت دی؟ کیا اس نے تمہیں محتاج نہیں پایا اور غنی کر دیا؟"
رات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چلا گیا ہے۔ خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ناراض ہے۔ کبھی کبھی اللہ خاموش ہو جاتا ہے، اس لیے نہیں کہ اُس نے تمہیں چھوڑ دیا ہے بلکہ اس لیے کہ جو آنے والا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے جو پہلے تھا۔
وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَىٰ
"اور آخرت تمہارے لیے پہلی زندگی سے بہتر ہے۔" (93:4)
اور یہ ہر دور پر لاگو ہوتا ہے۔ ہر باب پر، ہر موسم پر، ہر انتظار کے وقت پر۔ جو آنے والا مرحلہ ہے وہ اس مرحلے سے بہتر ہے جو ابھی ہے۔
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ
"اور عنقریب تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔" (93:5)
اس نے "شاید" نہیں کہا، اس ��ے کہا "عنقریب"۔ اس نے کہا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔ اسے ان دنوں کے لیے سنبھال کر رکھو جب خاموشی برداشت کے قابل نہ لگے۔
اور پھر اللہ وہ کام کرتا ہے جو نہ کوئی انسانی معالج، نہ کوئی سیلف ہیلپ کتاب اور نہ ہی کوئی موٹیویشنل اسپیکر کبھی کر سکا۔ اگر آپ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں، دعا کر رہے ہیں مگر وہ قبول ہوتی محسوس نہیں ہو رہی، آپ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں مگر کچھ بدلتا نظر نہیں آ رہا اور آپ کو لگنے لگا ہے کہ شاید اس خاموشی کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہی میں کوئی کمی ہے... تو یہ سورت آپ کے لیے ہے۔ یہ صرف ایک یاد دہانی نہیں، بلکہ ایسے ہے جیسے اللہ اُس حصے سے براہ راست بات کر رہا ہو جو اندر سے ڈرتا ہے کہ شاید اسے بھلا دیا گیا ہے
❤️
مـــــᷟــᷴــᷝــᷢــᷧــᷟــريم طــᷢــᷬــⷩــⷶــⷮـــاہر
#BazmeNaz
تقریباً 2500 سال پہلے پیش آنے والا ایک حیرت انگیز اور سبق آموز واقعہ…
دوستو! سب سے پہلے معذرت کہ یہ واقعہ مختصر نہیں کیا جا سکتا، مگر یقین کریں آخر تک پڑھیں گے تو دل کو عجیب سی کیفیت محسوس ہوگی۔
تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے ملکِ یمن پر اَسْعَد تُبَّان حِمْیَری نامی بادشاہ کی حکومت تھی۔ یمن کی زبان میں بادشاہ کو تُبَّع کہا جاتا تھا، اسی وجہ سے تاریخ میں یہ بادشاہ تُبَّعُ الاوّل کے نام سے مشہور ہوا۔
ایک مرتبہ تُبَّع اپن�� وزیر کے ساتھ سیر و سفر پر نکلا۔ اس کے ساتھ تقریباً 1 لاکھ 13 ہزار پیدل سپاہی اور 1 لاکھ 30 ہزار گھڑ سوار تھے۔ جہاں بھی یہ عظیم قافلہ پہنچتا لوگ حیرت اور ہیبت سے ان کا شاندار استقبال کرتے۔
اس سفر کے دوران تُبَّع ایک عجیب کام بھی کرتا رہا۔ وہ ہر شہر سے 10 علماء کو منتخب کر کے اپنے قافلے میں شامل کر ��یتا۔ یوں مختلف شہروں سے گزرتے گزرتے تقریباً 4 ہزار علماء اس کے ساتھ جمع ہو گئے۔
جب یہ قافلہ مکہ مکرمہ پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے اس قافلے کی کوئی خاص آؤ بھگت نہ کی۔ یہ بات تُبَّع کو بہت ناگوار گزری۔ اس نے وزیر کو بلا کر وجہ پوچھی تو وزیر نے کہا:
“بادشاہ سلامت! اس شہر میں ایک عمارت ہے جسے کعبہ کہتے ہیں۔ یہاں کے لوگ اسی کے گرد عبادت کرتے ہیں اور بتوں کو پوجتے ہیں۔”
یہ سن کر تُبَّع کے دل میں شدید غصہ پیدا ہوا۔ اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ مکہ کے مردوں کو قتل کر دے گا، عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لے گا اور کعبہ کو بھی گرا دے گا۔
لیکن جیسے ہی اس نے یہ ارادہ کیا، اچانک اس کے سر میں شدید درد شروع ہو گیا۔ اس کی آنکھ، ناک، کان اور منہ سے بدبودار پانی بہنے لگا۔ بدبو اس قدر شدید تھی کہ کوئی شخص اس کے قریب ٹھہر بھی نہیں سکتا تھا۔
طبیبوں کو بلایا گیا مگر کوئی بھی اس بیماری کا علاج نہ بتا سکا۔ سب کا یہی کہنا تھا کہ یہ کوئی آسمانی معاملہ معلوم ہوتا ہے۔
اسی دوران رات کے وقت ایک عالم وزیر کے پاس آئے اور کہا:
“��گر بادشاہ میرے ایک سوال کا سچا جواب دے تو میں اس کا علاج کر سکتا ہوں۔”
جب عالم بادشاہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے پوچھا:
“سچ سچ بتاؤ! تمہارے دل میں کعبہ کے بارے میں کیا ارادہ ہے؟”
بیماری سے نڈھال تُبَّع نے فوراً اپنا برا ارادہ بیان کر دیا۔
عالم نے فرمایا:
“تمہاری بیماری کی وجہ یہی بری نیت ہے۔ کعبہ کا مالک اللہ ہے اور وہ دلوں کے حال جانتا ہے۔ اگر تم دل سے اس ارادے سے توبہ کر لو تو تم ٹھیک ہو جاؤ گے۔”
تُبَّع نے فوراً اپنے ارادے سے توبہ کی اور حیرت انگیز طور پر اسی وقت صحت یاب ہو گیا۔
یہ معجزہ دیکھ کر تُبَّع اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آیا اور دینِ ابراہیمی اختیار کر لیا۔ ا�� نے کعبہ کی تعظیم میں 7 غلاف تیار کروائے۔ روایت کے مطابق اس سے پہلے کسی نے کعبہ پر غلاف نہیں چڑھایا تھا۔
اس کے بعد وہ مکہ سے روانہ ہو کر مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔
اس وقت مدینہ میں باقاعدہ آبادی نہیں تھی۔ صرف ایک چشمہ تھا۔ قافلہ وہیں ٹھہر گیا۔
یہاں موجود 4 ہزار علماء نے آپس میں مشورہ کیا اور ان میں سے 400 علماء نے فیصلہ کیا کہ وہ اس سرزمین کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔
جب تُبَّع کو اس کی وجہ معلوم ہوئی تو علماء نے بتایا:
“اس سرزمین پر ایک آخری نبی تشریف لائیں گے جن کا ��ام محمد ﷺ ہوگا۔ وہ مکہ میں پیدا ہوں گے اور مدینہ ہجرت کریں گے۔ ہمیں امید ہے کہ یا تو ہم ان کا زمانہ پا لیں یا ہماری اولاد اس سعادت سے فیض یاب ہو جائے۔”
یہ سن کر تُبَّع بھی ایک سال تک وہیں ٹھہر گیا۔ اس نے ان 400 علماء کے لیے 400 گھر بنوائے، ان کی شادیاں کروائیں اور انہیں مال و دولت دیا۔
ایک سال بعد جب اس نے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو اس نے نبی آخر الزمان ﷺ کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں اپنی ایمان اور محبت کا اظہار کیا اور شفاعت کی درخواست بھی کی۔
یہ خط اس نے ایک عالم کے سپرد کیا اور وصیت کی کہ اگر وہ نبی ﷺ کے زمانے تک پہنچ جائے تو یہ خط ان تک پہنچا دیا جائے۔
اس کے بعد تُبَّ�� وہاں سے روانہ ہو کر ہند کے شہر غلسان چلا گیا جہاں اس کا انتقال ہو گیا۔
تقریباً 1000 سال بعد حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت ہوئی اور پھر ہجرت کے وقت مدینہ تشریف لائے۔ مدینہ کے انصار دراصل انہی 400 علماء کی اولاد تھے جو نسل در نسل اس خط کی حفاظت کرتے رہے۔
آخرکار وہ خط حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے سن کر تین مرتبہ فرمایا:
“مَرْحَبًا بِالْاَخِ الصَّالِح”
یعنی: “نیک بھائی کو ��وش آمدید۔”
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کے نیک بندے صدیوں پہلے بھی حق کو پہچان لیتے تھے اور آنے والے نبی ﷺ سے محبت رکھتے تھے۔
(ماخوذ از: تاریخ دمشق)
@IamIhsanMarwat اللہ اسکو جزائے خیر دے لیکن بچوں کو اجنبیوں سے دور رہنے کی تربیت دینی چاہئیے اگر وہ بندہ بچوں کو اغوا کرلیتا تو کوئی سی سی ٹی وی ریکارڈ کوہی ویڈیو نہی ملنی تھی
یہ وہ مبارک مقام ہے جہاں حضرت جبریل علیہ السلام نے حضور سرورِ کائنات ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام پیش کیا اور آپ ﷺ کو امت کے بارے میں یہ خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں آخرت میں مایوس نہیں فرمائیں گے۔
اس عظیم بشارت پر نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اسی مقام پر طویل سجدہ فرمایا۔ اسی نسبت سے اس جگہ کو غارِ سجدہ کہا جاتا ہے۔
پہلے اس مقام پر ایک قبہ (گنبد) بھی موجود تھا، مگر سن 2005ء میں اسے منہدم کر دیا گیا۔
یہاں قریب ہی ایک پتھر پر نقشِ پائے مبارک کا نشان بھی موجود تھا، جسے بعد میں ختم کر دیا گیا۔ اسی جگہ پر حضور ﷺ کے جسمِ اطہر سے منسوب چند آثار بھی بیان کیے جاتے ہیں، جیسے مہرِ نبوت، سرِ مبارک اور ہاتھ مبارک کے نشانات۔
اس مقام کے قریب ایک قدرتی چشمہ بھی موجود تھا جو اس جگہ کی تاریخی اور روحانی اہمیت کو مزید بڑھاتا تھا۔
یہ مبارک مقام ہمیں نبی کریم ﷺ کی امت سے محبت، اللہ کے حضور شکر گزاری اور آپ ﷺ کی عظیم رحمت کی یاد دلاتا ہے۔
اشفاق احمد کو بات کرنے کا چسکا تھا ۔ اس نے خاکروب سے بات چھیڑی، کہنے لگا، اے میاں، تم چوڑے ہو کیا؟ چوڑے لگتے تو نہیں ہوـ
وہ رک گیا، بولا باؤ جی ـ میں عیسائی ہوں ـ چوڑا نہیں ہوں ـ
عیسائی تو ہو ٹھیک ہے، اشفاق نے کہا، پر کیا یہ کام تمہارا جدی کام ہےـ
جی نہیں، وہ بولا، یہ کام ہمارا جدی کام نہیں ہےـ اور نہ یہ کام میرا کام ہےـ
تو پھر کیوں کر رہے ہو تم یہ کام ـ
بس جی مجبوری ہے ـ
کیسی مجبوری ـ
بس جی میں دفتر میں چپڑ اسی تھا، پھر حکم ہو گیا کہ فضل مسیح جھاڑو کا کام کروـ
کس نے حکم دیا؟ اشفاق بولے
جی میرے مرشد نے حکم دیاـ مجھ سے ایک غلطی ہو گئ تھی ـ مرشد نے سزا دے دی ـ بولا فضل مسیح تین سال گندگی اٹھاؤ، پھر تین سال جھاڑو لگاؤـ چھ سال کے بعد آ کر ہم سے بات کرناـ
فضل مسیح کی بات سن کر شہاب(قدرت اللہ شہاب) کے کان کھڑے ہو گۓـ بولا فضل مسیح عیسائیوں کے ��ھی مرشد ہوتے ہیں کیا؟
صاحب جی، وہ بولا، یہ تو بندے بندے کی بات ہے، کوئی مرشد مان لیتا ہے، کوئی نہیں مانتاـ کوئی زبردستی نہیں صاحب جی ـایسے بھی ہیں جو مرشد مان کر بھی حکم نہیں مانتےـ آپ مسلمانوں میں بھی تو یہی ہوتا ہے جی ـ
ان کے لیۓ چاۓ کا ایک پیالہ منگوائیے، شہاب نے کہاـ
فضل نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ماتھے پر رکھ لیۓـ بولا، نہیں سرکار چاۓ کی تکلیف نہ کریں ـ چاۓ میں نہیں پیتاـ
کیوں نہیں پیتے، اشفاق نے پوچھاـ
حکم نہیں ہے، بابو جی، وہ بولا ـ
چاۓ منع ہے کیاـ اشفاق نے بوچھا
منع تو نہیں ـ دوجے سے لے کر پینے کا حکم نہیں ہےـ
لیکن کیوں ؟
حکم تو حکم ہوتا ہے جی ـ اس میں نہ ن��یں ہوتاـ کس لیۓ نہیں ہوتاـ پچھنا نہیں ہوتا جی ـ پچھنا حجت ہےـ حکم ہے کہ فضل مسیح کسی کا دیا ہوا نہیں کھانا پیناـ کسی کا دیا ہوا نہیں پہنناـ ادھار نہیں مانگنا چاہے فاقے آئیں، پڑے آئے فاقےـ
بڑے سخت حکم ہیں، اشفاق نے کہا ـ
بابو جی، وہ بولا، جو سخت نہ ہو تو پھر وہ حکم ہی کیا ہواـ
تم نہ مانو ممتاز مفتی نے کہا۔۔۔۔
فضل مسیح ھنسا اور کہنے لگا صاحب جی ۔ مرشد مان کر جو حکم نہ مانے وہ مرد نہیں۔۔۔
ہم مسلمانوں میں تو بہت سارے ایسے ہیں فضل مسیح جو مرشد تو بنا لیتے ہیں پر حکم نہیں مانتے، میں نے بات کی وضاحت کی ـ
بس جی اس لیۓ مسلمان رل رہے ہیں ـ کوئی قدر نہیں، کوئی مان نہیں، وکھو وکھ ہو رہے ہیں، انگلاں ہی انگلاں مٹھ نہ بنےـ
سچ کہہ رہا ہے فضل مسیح، شہاب گنگنایاـ
صاحب جی صرف مسلمان کی گل نہیں ـ مسلمان ہو، عیسائی ہو، سکھ ہو، ہندو ہو کوئی بھی ہوـ اس سے فرق نہیں پڑتاـ بس شرط اک ہی ہے حکم منےـ اگوں بولنا نہیں ـ پچھنا نہیں ـ بس سر جھکا دینا ہے جس قوم نے حکم منیا وہ چڑھ گئ، نہ منیا تورل گئی ـ
شاباشے، اشفاق بولا، تو کھری باتاں کر رہا ہے فضل، پر یہ بتا کہ تیری سزا کے کتنے سال ب��قی ہیں ـ
فضل نے ماتھے پر زور سے ہاتھ مارا بولاـ وہ تو پورے ہو گۓ تھےـ صاحب جی ـ پر آخری سال میں پھر اک بھل ہو گئی ـ بندہ بشر ہے ناں صاحب جی، وہ بولاـ بھل ہو ہی جاندی ہے- سزا میں تین سال اور بڑھ گۓ جی ـ
تم مسلمان کیوں نہیں ہو جاتے، اشفاق نے اسے چھیڑاـ
کیا فرق پڑے گا جی، وہ بولا، میں تو یہی رہوں گا جی ـ جو میں ہوں، میری بھل بھی یونہی رہے گی ـ یہاں بھل ہو جاۓ تو بندہ پراسچیت کر لیتا ہےـ مسلمانوں میں بھل ہو جاۓ تو ناواں کاٹ دیتے ہیں ـ اک چانس بھی نہیں دیتے ـ اور پھر مسلمان پیراں نے بڑی اوچی شرطاں لگا رکھیاں نیں ـ کوئی سالوں سال کھوہ میں لٹک کر نام جپتا ہے، کوئی سالوں سال پیٹ پر پتھر بنھے پھرتا ہےـ کوئی اپنے پتر توں خود نوں قربان کرنے کو اٹھ کھڑا ہوتا ہےـ توبہ جی توبہ، یہ تو جنوں کے کام ہیں ـ ان کے لیۓ سمندر جیسا حوصلہ چاہیۓ ـ صاحب جی ـ
فضل مسیح اٹھ بیٹھاـ اچھا صاحب جی، وہ بولاـ میں اپنا کام نپٹا لوں ـ
ہم دونوں فضل مسیح کو جاتے ہوۓ دیکھتے رہےـ یہ فضل مسیح کتنا بڑا آدمی ہےـ میں نے سوچا جو جانے بغیر ماننے کی ہمت رکھتا ہےـ زندگی بھر میں نے ماننے کی عظمت کو نہیں سمجھا تھاـ میں سمجھتا تھا جانے بغیر ماننا ممکن ہی نہیں، جو لوگ آنکھیں بند کر کے مان لیتے ہیں وہ جاہل ہیں ـ
نوٹ۔۔یہی فضل مسیح والا کردار اشفاق احمد صاحب نے تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اپنا مشہور ڈرامہ من چلےکا سودا میں فردوس جمال سے ادا کروایا تھا جو کہ انہوں نے نہایت خوبصورتی سے ادا کیا تھا۔۔۔
صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5007
ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ ہم ایک فوجی سفر میں تھے (رات میں) ہم نے ایک قبیلہ کے نزدیک پڑاؤ کیا۔ پھر ایک لونڈی آئی اور کہا کہ قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے اور ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں، کیا تم میں کوئی بچھو کا جھاڑ پھونک کرنے والا ہے؟ ایک صحابی (خود ابوسعید) اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے، ہم کو معلوم تھا کہ وہ جھاڑ پھونک نہیں جانتے لیکن انہوں نے قبیلہ کے سردار کو جھاڑا تو اسے صحت ہوگئی۔ اس نے اس کے شکرانے میں تیس بکریاں دینے کا حکم دیا اور ہمیں دودھ پلایا۔ جب وہ جھاڑ پھونک کر کے واپس آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کیا تم واقعی کوئی منتر جانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں میں نے تو صرف سورة فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کردیا تھا۔ ہم نے کہا کہ اچھا جب تک ہم رسول اللہ ﷺ سے ��س کے متعلق نہ پوچھ لیں ان بکریوں کے بارے میں اپنی طرف سے کچھ نہ کہو۔ چناچہ ہم نے مدینہ پہنچ کر نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے کیسے جانا کہ سورة فاتحہ منتر بھی ہے۔ (جاؤ یہ مال حلال ہے) اسے تقسیم کرلو اور اس میں میرا بھی حصہ لگانا۔
اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ ان بابرکت دنوں میں اللہ کتنی رحمت نازل کرتا ہے، کتنی مغفرت کے دروازے اپنے بندوں کے لیے کھول دیتا ہے، کتنی رزق کی تقسیم ہوتی ہے اور اپنے بندوں کے لیے اجر کو کتنے گنا بڑھا دیتا ہے… تو وہ اپنی زندگی کی ترجیحات کوبالکل بدل دیں۔
اگر انسان واقعی سمجھ لے+
کہ ان دنوں میں اللہ کی طرف سے کتنی عظیم عطائیں ہو رہی ہیں، تو وہ دنیا کے پیچھے دوڑنے سے کچھ دیر رک جائے، اپنے کاموں اور مفادات میں کمی کر دے، اور اپنے وقت اور دل کا بڑا حصہ اللہ کے قریب ہونے کے لیے وقف کر دے۔
کتنے ہی لوگ ہیں جن کے دل میں ایسی پریشانیاں ہیں جن کا انہیں کوئی حل+
نظر نہیں آتا، یا وہ ایسے خوف اور بے چینی میں رہتے ہیں جس سے نکلنے کا راستہ نہیں ملتا، یا وہ ایسی تنگی سے گزر رہے ہوتے ہیں کہ انہیں لگتا ہے کہ سارے دروازے بند ہو گئے ہیں۔
اور ایسے ہی وقت میں یہ مبارک دن اسے یہ پیغام دیتے ہیں:
اللہ کی طرف لوٹ آؤ، اس کے سامنے اپنا دل کھول دو، اور+
جو چاہو اس سے مانگو۔ اس کا دروازہ کھلا ہے، اس کی رحمت بہت وسیع ہے، اور اس کا کرم بے حد ہے۔
پس ان دنوں میں اپنے لیے زیادہ حصہ رکھو:
نماز، دعا، قرآن، استغفار، صدقہ اور معاف کرنے کا۔
شاید ایک سچی دعا آپ کی زندگی کا رخ بدل دے،
اور شاید اللہ کے قرب کی ایک لمحہ آپکے لیے ایسے دروازے+
آج رات یہ دعا ضرور مانگیں۔ اللہ قبول کرنے والا ھے۔۔
یہ دعا بہت پیاری ہے اِسے سکون سے پڑھیں اور دل میں آمین کہیں اور اسے دوسروں تک پہنچائیں. ھو سکتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی آمین سے اپنی دعا قبول ھو جائے(آمین)😰
⚡اے اللہ رب العزت
💧اے ساری کائنات کے شہنشاہ
💧اے ساری مخلوق کے پالنے والے
💧اے زندگی موت کا فیصلہ کرنےوالے
💧اے آسمانوں اور زمینوں کے مالک
💧اے پہاڑوں اور سمندروں کے مالک
💧اے انسانوں اور جناتوں کے معبود
💧اے عرشِ اعظم کے مالک
��اے فرشتوں کے معبود
💧اے عزت اور ذلت کے مالک
💧اے بیماروں کو شِفا دینے والے
💧اے بادشاہوں کے بادشاہ
💧اے اللہ ہم تیرے گناہگار بندے ہیں
💧تیرے خطاکار بندے ہیں
💦ہمارے گناہوں کو معاف فرما🙏🙏
💦ہماری خطاؤں کو معاف فرما🙏
💦اے اللہ ہم اپنے اگلےپچھلے،صغیرہ کبیرہ سبھی گناہوں،خطاؤں اور نافرمانیوں کی معافی مانگتے ہیں🙏🙏
💦اے اللہ رب العزت ہم اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ہماری توبہ قبول فرما
💦اے اللہ ہم گناہگار ہیں،سی��ہ کار ہیں،بدکار ہیں تیرے احکام کے نافرمان ہیں،ناشُکرے ہیں لیکن میرے معبود تیرے نام لیوا بندے ہیں، تیری توحید کی گواہی دیتے ہیں.
💦تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے
💦تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے
💦تیرے سوا کوئی تعریف کے لائق نہیں ہے
💦ہمارے معبود ہمارے گناہ تیری رحمت سے بڑے نہیں ہیں
💦تو اپنی رحمت سے ہمارے گناہ معاف کر دے🙏🙏🙏
💦اے اللہ پاک ہمیں گمراہی کے راستے سے ہٹا کر صراط المستقیم کے راستے پہ چلنے والا بنا دے
💦اے اللہ ایسی نماز پڑھنے کی توفیق عطا کر جس نماز سے تو راضی ہو جائے
💦زندگی میں ایسے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا کر جن اعمالوں سے تو راضی ��و جائے
💦ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر جس زندگی سے تو راضی ہو جائے
💦ایمان پہ زندہ رکھ اور ایمان پہ ہی موت عطا کر
💦اے اللہ ہمیں تیرے احکام کی فرمابرداری کرنے والا بنا
💦اور تیرے پیارے حبیب جنابِ محمد رسول اللہ(صلی للہ علیہ وآلہ وسلم) کے نیک اور پاکیزہ آداب کو اپنانے والا بنا دے
💦اے اللہ ہماری پریشانیوں کو دور کر دے
💦اے اللہ جو بیمار ہیں اُنہیں شفاءکاملہ عطا فرما
💦اے اللہ جو قرض کے بوجھ تلے دبے ھوئے ہیں اُنکا قرض جلد سے جلد ادا کروا دے
💦اے رب العزت شیطان سے ہماری حفاظت فرما
💦اے اللہ اسلام کے دشمنوں کو ہدایت عطا فرما
💦اے اللہ حلال رزق کمانے کی توفیق عطا فرما
💦اے پروردگارِ عالم ہمیں تُجھ سے مانگنا نہیں آتا لیکن تجھے دینا آتا ہے تو ھر چیز پہ قادر ہے
💦اے اللہ جو مانگا وہ بھی عطا فرما اور جو مانگنے سے رِہ گیا وہ ب ھی عنائت فرما
💦ہماری دعا اپنے رحم سے اپنے کرم سے قبول فرما اور جس نے یہ دعا بھیجی ہے اور اِسے آگے بڑھا رہا ہے اُسکی ساری پریشانیوں،تکلیفوں اور بیماریوں کو دور فرما اور صحت تندرستی عطا كر: یہ دُعا پوری ضرور پڑھیں
"اے میرے پروردگار اپنےپیارےمحبوب حضرت محمدﷺ کے صدقے پوری دُنیا میں جتنے لوگ وفات پا چُکے ہیں اُن کی مغفرت فرما، اُنہیں قبر کے عذاب سے بچا۔ جو بیمار ہیں یا پریشان ہیں تُو اُن کو اپنے کرم سے معاف فرما اور اُن کی بیماری اور پریشانیوں کو دُور فرما۔"
اے میرےالله اپنے پیارے حبیبﷺ کے صدقے جس نے مجھے یہ دُعا بھیجی ہے اُس کے تمام گُناہوں کو معاف فرما اور ہر کام میں کامیابی عطا فرما اور اُس کا نَصیب کھول دے۔ اٰمئین!
اپنے لئے ضرور دُعا کرؤایں نجانے کس کی زبان سے آپ کی تقدیر کھول جائے۔
نوٹ: آج کے دِن یہ دُعا آگے ضرور شير کریں۔۔🌹🌹
یا اللہ آپ کی بارگاہ میں آنے والے نیک لوگ کوئی اور ہونگے
متقی کوئی اور ہونگے
اچھے اعمال والے کوئی اور ہونگے
ہم تو اس آیت مبارکہ کے مطابق وہ ناہنجار ہیں جنہوں نے اپنی جانوں پہ ��ہت زیادتی کی ہے
اور بھیک لینے آئے ہیں کہ آپ نے فرمایا ایسے لوگ میری رحمت سے مایوس نا ہوں میں چاہوں+