عمران خان اپنی جماعت کے لوگوں کیساتھ بیٹھے ہیں۔ بالکل ساتھ شاہ محمود قریشی بیٹھے ہیں۔ پریس کانفرنس شروع ہونے والی ہے۔ میڈیا چینلز کے مائکس سامنے پڑے ہیں۔ عمران خان لانگ مارچ کا اعلان کرنے جارہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کے فون پر کسی کی کال آتی ہے۔ وہ عمران خان کے کان میں سرگوشی کرتے ہیں “ وہ کہہ رہے ہیں ہم ٹریپ کرلیں گے “ عمران خان جواب دیتے ہیں “ کرلو کرلو “۔ یہ مختصر سی گفتگو مائکس میں ریکارڈ ہوجاتی ہے ملک بھر میں پھیل جاتی ہے۔ لانگ مارچ یعنی احتجاج کے اعلنا سے عین قبل آخری آپشن کے طور پر بھی پریس کانفرنس میں بیٹھے ہوئے رہنماؤں کو دھمکی لگا کر ٹالنے کی کوشش کی۔ اس سے پہلے معلوم نہیں کتنی کوششیں کی گئی ہوں گی۔ بنیادی نکتہ؟ احتجاج کو ٹالنا کسی بھی قیمت پر ٹالنا۔
تھوڑا پیچھے چلیں ، رجیم چینج سے اگلی رات عوام سڑکوں پر تھے کچھ لوگوں نے فورا ٹھنڈی ہوائیں چلا دیں۔ کہا فوج کو سمجھ آگئی ہے۔ فوج سب ٹھیک کرنے والی ہے۔
اب ساتھ ساتھ آگے چلیں۔ کچھ سیاسی چالوں ، عمران خان پر بے تحاشا مقدمات اور قاتلانہ حملے کے بعد پچھلا آرمی چیف چلا جاتا ہے موجودہ آجاتا ہے ، اسکے آنے سے قبل کئی صحافی جن میں سر فہرست چچا صابر شاکر ہیں ٹھنڈی ہواؤں کی خبریں چلانا شروع کردیتے ہیں۔
تحریک انصاف کی جانب سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے فورا بعد ایک تاریک دور کا آغاز ہوجاتا ہے۔ طاقت ، وحشت اور خوف ہتھیار بن جاتا ہے۔ نومئی اس کا نقطہ عروج ہوتا ہے۔ خونی ریڈ لائن پورا ملک لہولہان کردیتی ہے اور اس سب کا ردعمل آٹھ فروری کو ریڈ لائن اڑا کر رکھ دیتا ہے۔ اسی رات ، شکست کی پہلی رات ہی حامد میر اور اسد طور بتانا شروع کردیتے ہیں کہ فوجی جرنیل عمران خان سے جیل میں ملاقاتیں کررہے ہیں۔ عادی مجرم ٹھنڈی ہوائیں چلانا شروع کردیتے ہیں۔
پھر ان ٹھنڈی ہواؤں کی ضرورت اچانک ختم ہوجاتی ہے اور عمران خان کے اگست میں احتجاج کے اعلان کے بعد پھر شروع ہوجاتی ہیں۔ ستمبر اکتوبر اور انہی “ طے ہوتے معاملات “ اور “ بہتری “ کی نوید کے درمیان گزر جاتے ہیں۔ درمیان میں کبھی نجم سیٹھی تو کبھی صدیق جان ، کبھی مظہر برلاس تو کبھی کوئی اور ہرکارہ عمران خان کی رہائی اور معاملات طے ہونے کی نوید سناتا رہتا ہے۔ کمی کو لطیف کھوسہ اور بیرسٹر گوہر جیسے لوگ پورا کرتے ہیں۔
امریکہ میں حکومت بدلنے کا وقت آتا ہے تو فورا سے پہلے امریکی ڈاکٹرز کو بلوا کر بتایا جاتا ہے کہ تین ہفتے میں سب ٹھیک کردیں گے بس ہمارے اوپر کسی طرح تنقید بن کردیں۔ اسی دوران ٹرمپ کی تشریف چوم چوم کر معاملات طے کرلیتے ہیں۔ پھر اگلی ضرورت پیش تب آتی ہے جب انڈیا حملے شروع کردیتا ہے۔ علی امین سے پیرول کی درخواست ڈلوائی جاتی ہے اور میاں علی اشفاق جیسے اکاونٹس سیاسی سیز فائر کی خوشخبریاں سنانا شروع کردیتے ہیں۔
عمران خان علی امین کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو وزیراعلی بناتے ہیں تو رکی ہوئی ٹھنڈی ہوائیں ایک بار پھر چل پڑتی ہیں۔ عمران خان کی بیماری کے ایام میں کارکنان میں غم و غصہ پھیلتا ہے تو بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی محسن نقوی کی ٹھنڈی چھاؤں میں جا بیٹھتے ہیں۔
یاداشت کی کمزوری اور وقت کی قلت کے سب کئی بدلتے موسموں اور کن من کن من برستے صحافیوں کی خبروں کا تذکرہ رہ گیا۔ جب کب فوج کہیں پھنستی ہے یا تحریک انصاف کی طرف سے احتجاج کی کسی چنگاری کا امکان پیدا ہوتا ہے تو فورا کچھ نئے کچھ پرانے ، کچھ باخبر کچھ بے خبر میدان میں کود پڑتے ہیں۔
اب پھر وہی موسم ہے۔ وہی خبریں ہیں اور وہی دعوے ہیں۔ عمران خان واپس آسکتا ہے۔ ہزار بار آسکتا ہے۔ عاصم منیر ایک بار چلا گیا تو جنرل کونسلر بن کر بھی واپس نہیں آسکتا۔ یہ بات اسے سب سے زیادہ بہتر پتہ ہے۔ فوج کو راتوں کو گیزر ٹھیک کروا کر دینے والے تابعدار وزیر اعظم چاہییں۔ فوج کو دفتر کے باہر انتظار کروانے والا وزیراعظم نہیں چاہیے۔
وہ آئے گا ، وہ فوج کے شکست تسلیم کرنے اور بیرکوں کی واپسی کے بعد آئے گا۔ وہ کسی ڈیل یا کسی ٹھنڈی ہوا پر سوار نہیں آئے گا۔ کیونکہ وہ کہتا ہے مر جاؤں گا یزید کی بیعت نہیں کروں گا۔
مکمل مقبول رائے
خواتین پر پروفیشنل ڈگریوں کے علاوہ مطالعہ پاکستان اسلامیات اور سوشیالوجی میں ماسٹرز کرکے ڈھیر لگانے پر پابندی ہونی چاہیے۔ یہ آرٹس ، کرافٹس ، فیشن ڈیزائننگ اور وغیرہ وغیرہ پڑھیں۔ انارکلی سے سستا کپڑا خرید کر خود ڈیزائن کریں اور پہنیں۔ چھوٹے چھوٹے یونٹس بنا کر ایکسپورٹ کریں زرمبادلہ کمائیں۔
مرد حضرات جو پروفیشنل ڈگریز میں دلچسپی نہیں لیتے انہیں کھوتے بنا کر دینے چاہییں تاکہ مزدوری کریں اور ملکی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔
جی ہاں ناظرین یہ تھے “ ریچ بڑھانے کے لیے ہیلو لکھ کر رپلائی کریں “ والی پوسٹ کے نیچے ہیلو لکھنے والے ملک کے معروف تحقیقاتی صحافی۔
اسرائیل کے ساتھ غزہ پیس بورڈ کا حصہ عاصم منیر بنا ہے
اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے پر پابندی عاصم منیر نے لگائی ہے
فوج کے فرنٹ مین علی الاعلان اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں
نیتن یاہو کی تقریر اس چینل پر پہلی دفعہ چل رہی ہے جس کے آپ ملازم ہیں
کوشش کریں کئی دفعہ نا بھی آئے ہلکی ہلکی محسوس ہو ہی جاتی ہے شرم۔
Share for humanity
چار دن چار رات روز گزر چکے ہیں پر میرے شوہر بابر کا کچھ پتہ نہیں چل رہا .اہلیہ بابر
کے مطابق میرے شوہر کو کسی دوست کی کال آئی دوست سے ملنے کے لئے گھر سے نکلے پر آج اتنے دن گزر گئے کچھ پتہ نہ چل سکا.
میرے معصوم بچوں کا ساتھ ہے رمضان کا بابرکت مہینہ ہے کرائے پر رہائش پزیر ہوں گھر میں فاقہ پڑا ہے
میں ہاتھ جوڑ کر اعلیٰ حکام اعلیٰ افسران سے درخواست کرتی ہوں میرے شوہر کو بازیاب کرایا جائے
کراچی: میں وزیر داخلہ سندھ, ڈی جی رینجرز سندھ IG سندھ, ایڈیشنل آئی جی سے گزارش کرتی ہوں مجھ بہن بیٹی پر رحم کریں اہلیہ بابر
میں اپنے معصوم بچوں کے ساتھ روزے سے در در کی ٹھوکریں کھا چکی ہوں پر میرے شوہر کا کچھ پتہ نہیں چل سکا اہلیہ بابر
ک میں میڈیا سے انصاف کا مطالبہ کرتی ہوں میری مدد کریں اعلیٰ حکام اعلیٰ افسران سے میرے شوہر کی بازیابی میں کردار ادا کریں. اہلیہ بابر
بحرین میں امریکی فخر خاک میں مل گیا ایران کے سستے ڈرون نے امریکہ کا 30 کروڑ ڈالر کا ریڈار سسٹم تباہ کر دیا
ففتھ فلیٹ کا میزائل ڈیفنس سسٹم ناکام 30 ہزار ڈالر بمقابلہ 300 ملین ڈالرمہنگی ٹیکنالوجی سستے ڈرونز کے سامنے بے بس.
#copied
#USNavy#Bahrain#IranVsUSA#DroneStrike
اب بس عجیب سی کیفیت ہے۔ جو تلاطم تھا وہ اب ٹھہراؤ کی صورت اختیار کرچکا۔ مایوسی اور بے بسی کی حدیں چھوتا ہوا۔ شاید ہم تھکا دیے گئے ہیں۔ شاید ہم الجھا دیے گئے ہیں۔
شاید آپ اس کے اثر میں نا ہوں۔ شاید آپ تسلیم نہ کرتے ہوں میں تو کرتا ہوں۔ عمران خان کی بیماری تک کا کسی کو علم نہیں ہونے دیا جارہا۔ علاج کی تفصیلات بھی ہر کسی کی اپنی اپنی۔ مہینوں سے اسکی اپنی بہنوں سے کوئی ملاقات نہیں۔
لیکن پھر ہم تو وہ ہیں جن سے اختیار تو چھینا گیا اظہار بھی چھین لیا گیا۔ ہمیں مارا اور گھسیٹا جاتا ہے۔ ہماری مثالیں بنائی جاتی ہیں۔ ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ہمیں زچ کیا جاتا ہے۔ ہمیں کمزور کرکے اشتعال دلا کر ٹھٹھہ اڑایا جاتا ہے۔ ہم تو ٹھہرے کمزور۔ ہمارا مایوس اور بے بس ہوتا تو بنتا بھی ہے۔
لیکن فوج کے پاس تو طاقت ہے ، وسائل ہیں اور اختیارات ہیں اور لا محدود ہیں انکی حالت کیا ہوچکی ہے؟ وزیر داخلہ آرمی چیف کا سالا ہے۔ وزیر خزانہ فوج کا لگایا ہوا بندہ ہے۔ ہر غیر ملکی دورے میں عاصم منیر وزیراعظم ، وزیر خارجہ بن کر موجود ہوتا ہے۔ لیکن لیکن لیکن فوج ناکام ہے۔ گرتا ہوا گروتھ ریٹ ، کم ہوتی ہوئی ایکسپورٹس ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت ، لاقانونیت اور پولیس مقابلے چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ سب کچھ کرنے کے باوجود فوج ناکام ہے۔
نا سو ارب ڈالر کا دعویٰ سچا نکلا اور نا ہی بارہ ارب ڈالر کا اسلحہ بیچنے کا۔ جہازوں کی فروخت بھی جھوٹ نکلی تو ٹرمپ اور سعودی عرب کی سرمایہ کاری کی خبریں بھی۔ فوج کا ایک ایک جھوٹ اور ایک ایک ناکام دعویٰ ہر روز بتاتا ہے کہ فوج ناکام ہے۔ فوج جھوٹ بیچنے میں ناکام ہے۔ فوج جھوٹ پھیلانے میں ناکام ہے۔ فوج سچ چھپانے میں ناکام ہے۔ فوج عوامی عائے عامہ بدلنے میں ناکام ہے۔
فوج اپنے بنیادی کام میں تو بدترین حد تک ناکام ہے۔ سوا تین سال میں تین ہزار سے زائد فوج اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے اہلکار جان سے جاچکے۔ فوج کے سپاہی اغواء ہوتے ہیں فوج انہیں اپنا تسلیم کرنے سے انکاری۔ علیحدگی پسند اٹھتے ہیں تو شہروں کے شہر بلاک کردیتے ہیں۔ ہر خودکش دھماکہ ، ہر دہشتگردی کی واردات اور کسی چوک چوراہے میں پڑی ہر لاش گواہی دیتی ہے کہ فوج ناکام ہے۔
ہم مایوس تو ہیں ناکام نہیں !!!
سعودی عرب میں رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا ہے۔ کل بروز بدھ 18 فروری کو پہلا روزہ ہو گا۔ اللہ اس رمضان المبارک کو ہم سب کیلئے باعث بخشش فرمائے آمین
#رمضان_كريم
ابشرپلیٹ فارم کے ذریعے مذکورہ سروسز حاصل کرنے کا طریقہ کار انتہائی آسان ہے۔’ابشرافراد‘ کے پورٹل میں لاگ ان کرنے کے بعد ’خدماتی‘ (مائی سروسز) بعدازاں ’جوازات‘ کے براوز پرکلک کریں جہاں سے مطلوبہ سروس کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔
سعودی وزارتِ داخلہ نے ڈیجیٹل سروسزپلیٹ فارم ’ابشر‘ پرمزید 4 خدمات کا اضافہ کیا ہے۔ قائمقام ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ’جوازات‘ میجرجنرل ڈاکٹر صالح المربع نے نئی سروسز کا اجرا کیا۔
چوتھی سروس ’ابشرسفر‘ کی ہے جس کے تحت دوحہ قطر اور مملکت کی سرحدی چیک پوسٹ ’سلوی‘ کے ذریعے بیرون مملکت جانے والے ابشر پلیٹ فارم سے امیگریشن کے معاملات قبل ازوقت مکمل کرسکتے ہیں جن میں گاڑی کا این او سی اور سفری امور شامل ہیں۔
انصافیو !!!!! زمین پر آپ ایک واحد طاقت ہیں جو عمران خان کے لیے کچھ کرسکتے ہیں۔ ہم نے بس مندرجہ ذیل باتوں پر توجہ کرنی ہے۔
پاک فوج سے ہر طرح کی ہمدردی کا مکمل صفایا کرنا ہے
ڈیل اور مثبت خبروں جیسے چوتڑ چاٹنے بند کرنے ہیں
تحریک انصاف کی قیادت سے عملی لائحہ عمل مانگنا ہے
عدالت ، کٹھ پتلی حکومت پر ملبہ ڈالنے والوں کا محاسبہ کرنا ہے
عمران خان کے علاوہ کسی مسئلے میں دلچسپی نہیں لینی
یہ عمران خان کے کمرے کی description ہے جو بیرسٹر سلمان صفدر نے دی ۔ اس کا امیج chat GPT اور Grok نے ان تفصیلات کی بنیاد پر یوں بنایا
سیل کے اندر کوئی الماری موجود نہیں تھی، جس کے نتیجے میں درخواست گزار کے زیادہ تر کپڑے پانچ ہینگرز پر لٹکائے گئے تھے۔ مزید برآں معائنہ کے دوران سیل میں موجود کرسی غیر آرام دہ پائی گئی۔
iii۔ بستر:
سیل کے معائنہ کے دوران دیکھا گیا کہ بستر میں ایک سنگل بیڈ کا گدا، چار تکیے اور دو کمبل شامل تھے۔ مزید یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ پانچ جوڑے جوتے/اسپورٹس شوز بستر کے نیچے رکھے گئے تھے۔
iv۔ ذاتی سامان:
سیل کے فرش پر سرمئی رنگ کا قالین نما میٹ موجود تھا۔ دستخط کنندہ نے درخواست گزار کے ذاتی استعمال کی اشیاء اور سامان کا مشاہدہ کیا، جن میں جائے نماز اور تسبیح بھی شامل تھیں۔ دو تولیے بھی موجود تھے۔
مزید برآں تقریباً 100 کتابیں ایک میز پر رکھی ہوئی پائی گئیں، جن کے ساتھ دو لپٹے ہوئے سیب، دو ڈمبلز، اور ذاتی نگہداشت کی اشیاء مثلاً ٹشو پیپر، ماؤتھ واش، ایئر فریشنر، شیوِنگ جیل اور شیوِنگ کِٹ بھی موجود تھیں۔
v۔ بیت الخلا:
سیل کے اندر تقریباً ساڑھے چار فٹ ضرب ساڑھے چار فٹ کا بیت الخلا موجود تھا، جسے پانچ فٹ اونچی دیوار سے الگ کیا گیا تھا اور اس کی کوئی چھت نہیں تھی۔ بیت الخلا کے باہر گرم اور ٹھنڈے پانی کی سہولت کے ساتھ واش بیسن اور آئینہ موجود تھا۔ صفائی کے حوالے سے بیت الخلا کی سینیٹری حالت میں بہتری کی گنجائش دیکھی گئی۔
vi۔ ہوا داری:
ہوا داری کے حوالے سے سیل میں تقریباً دو ضرب دو فٹ کے دو روشن دان موجود تھے جو چھت کے مخالف سروں پر واقع تھے، جس سے کراس وینٹیلیشن ممکن تھی۔ تاہم سیل کے اندر بیت الخلا ہونے کے باوجود کوئی ایگزاسٹ سسٹم نصب نہیں تھا۔
اسلام آباد دھماکے کی جامع تحقیقاتی رپورٹ آ گئی :
رپورٹ کے مطابق خودکش بمبار افغانستان سے آیا تھا ، اس نے چھ کلو بارودی مواد استعمال کیا،
بارود خاص میٹریل سے تیار کیا گیا تھا کہ جس نے خود کش حملہ آور کے چیتھڑے اڑا دئیے
درجنوں لوگ شہید ہو گئے
مگر پلاسٹک کا شناختی کارڈ سو فیصد محفوظ رہا
رپورٹ بس اتنی ہی تھی
جو داخل دفتر کر دی گئی ہے
مرنے والے خود قصور وار تھے
نہ جمعہ پڑھنے آتے ، نہ مرتے
سیکیورٹی فورسز کا کام پی ٹی آئی کے جھنڈے اور کارکن پکڑنا ہے
دہشت گرد نہیں ،
لہذا آئندہ جب کبھی مسجد میں نماز پڑھنے جائیں ،
سب گھر والوں کو خدا حافظ کہہ کر جائیں
جب تک پی ٹی آئی جڑ سے ختم نہیں ہو جاتی
تب تک سیکیورٹی فورسز کوئی اور کام نہیں کریں گی،
#پاکستان
بقول شہزاد اکبر، ڈی جی آئی ایس پی آر نے جمعہ کے دن یوٹیوبرز کو بلایا ہے اپنے بیانیے کی سپورٹ کے لیے ڈجی جی ساب کو سمجھ آ چکی ہے کہ انکا بیانیہ نہ بڑے بڑے ٹی وی چینلز سے بند رہا ہے نہ اخباروں سے ۔
اس کی سب سے واضح مثال کین ڈول ہے۔ جسے عام حالات میں شاید کوئی جانتا بھی نہ ہو اور نہ ہی سنجیدگی سے لیتا ہو، مگر اس کی ایک غلط اور بے تکی حمایت نے اسے مندر کا گھنٹہ بنا دیا۔ دو تین دن گزر چکے ہیں مگر عوام مسلسل اس کا “سافٹ ویئر اپڈیٹ” کر رہی ہے، وہ بھی فی سبیلِ اللہ۔
یہ نوّے کی دہائی نہیں کہ جھوٹ اور غلط بیانی آسانی سے بیچ دی جائے۔ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے، جہاں صرف شعور چلتا ہے اور پروپیگنڈا لمحوں میں اڑا دیا جاتا ہے۔ یہاں organic ردِعمل بڑے سے بڑے paid کیمپین کو بھی دھول چٹا دیتا ہے۔ اسی لیے شہزاد اکبر درست کہتے ہیں کہ آپ کا چورن اب یوٹیوبر بھی نہیں بیچ سکتے۔ جب تک آپ عوام سے جھوٹ بولنا نہیں چھوڑیں گے،کوئی باشعور فرد،میڈیا چینل، اخبار کوئی یوٹیوبر آپ کو عوامی حمایت نہیں دلا سکتا ہے۔ عوام آپ کے بیانیے کو سنجیدہ لینا تو دور، آپ کی شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے ۔اپنی عوامی حیثیت کا اندازہ یوں لگائیں کہ ایک پریس کانفرنس کے بعد پورا ہفتہ آپ کے خلاف میمز بنتی ہیں آپکے جھوٹ کو بے نقاب کیا جاتا ہے یہی آپ کے بیانیے کی اصل وقعت ہے۔
آپ سب نے قصائی کو مرغی کا گوشت بناتے دیکھا ہوگا۔ پنجرے میں ہاتھ ڈالتا ہے۔ ایک آدھ موئی سی مرغی کو کھینچ کر نکالتا ہے وہ زندگی کی پہلی اور آخری کٹیں کٹیں کرتی ہے اور کٹی ہوئی گردن کیساتھ ڈرم میں پھینک دی جاتی ہے۔ چند ہی سیکنڈز بعد قصائی اسکو نکالتا ہے اور اسکی کھال کو ایک ہی جھٹکے سے اتار کر کھینچ دیتا ہے۔
اس سارے عمل میں ہم منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں کیونکہ ہم برداشت نہیں کرپاتے۔ لیکن قصائی کو رتی برابر فرق نہیں پڑتا۔ اسے عادت ہے۔ وہ دن میں سینکڑوں جانیں ایسے ہی لیتا ہے۔ ہم سب بھی قصائی جیسے ہوچکے ہیں۔ مجھے مدتوں سے اس انڈسٹری کی وجہ سے کٹی ، پھٹی ، جلی لاشیں دیکھنے کی عادت ہے۔ قبیح سے قبیح جرم ہو یا کوئی بدترین زیادتی ، اسکو دیکھنا ، اس کو پرکھنا ، اس پر لکھنا میرا کام رہا ہے۔ ہمیں ان سب چیزوں سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ قصائی کی طرح یہ سب اب ہمارا معمول بن چکا ہے۔
لیکن کبھی کبھی دل کٹ جاتا ہے۔ شاید قصائی بھی کبھی کبھار کسی مرغی پر چھری چلانے سے پہلے نینو سیکنڈز کے لیے رکتا ہو اس مرغی کی آنکھوں میں دیکھتا ہو اور چھری چلا دیتا ہو۔ لوگ جل جل کر مر رہے ہیں اور سوا دو کروڑ کے شہر میں فائر بریگیڈ ہی نہیں ہے۔ لوگوں کو زبردستی انکے گھروں سے نکالا جارہا ہے۔ ان ٹھٹھرتی راتوں میں وہ اپنے گھروں سے نکال کر کیمپوں میں ڈال دیے گئے ہیں۔ پولیس مقابلوں کے نام پر ، قانون کی حکمرانی کے نام پر لوگوں کو گھروں سے اٹھا اٹھا کر قتل کیا جارہا ہے۔ ہم صرف موت کے وقت زندگی کی پہلی اور آخری کٹیں کٹیں کرتے ہیں اور پھر ہم کسی نا کسی کی بھوک کا ایندھن بن جاتے ہیں۔ کوئی ہمارا ذکر نہیں کرتا کوئی ہمیں پوچھتا نہیں۔ ہم چند ہفتے پرانی خبر اور پھر فلاں سال کا سانحہ رہ جاتے ہیں۔