میرے خیال سے یہ اعتراض بلا جواز ہے !
اول : پادنا ایک فطری عمل ہے۔ سبھی پادتے ہیں، چاہے راجکماری جی ہوں یا ان کے موجودہ عمیری۔
دوئم : اگر پاکستانی جرنل میدان جنگ میں پاد سکتے ہیں، تو اپنے دفتر میں کیوں نہیں ؟
اللہ کے پسندیدہ غازیوں پر ایسے اعتراضات مناسب نہیں 🙏
🚨Corruption Storm Brewing in Khyber Pakhtunkhwa
Allegations of massive graft in World Bank and ADB-funded development projects under CM Sohail Afridi's administration
---
KPCIP Scandal: Key Facts Confirmed
The Khyber Pakhtunkhwa Cities Improvement Project (KPCIP) — a Rs97 billion initiative funded by World Bank and Asian Development Bank — is at the center of corruption allegations .
The Numbers
· Rs8.48 billion in financial discrepancies identified in KPCIP audit
· Rs32 billion allegedly disbursed to an unregistered Turkish company based on falsified progress reports
· Rs1.05 billion paid for contract awards at inflated rates
· Rs3.73 billion lost through unauthorized remunerations and overpayments
How the Scheme Operates
The corruption network reportedly functions through:
1. KPCIP projects implemented by a DG and consultants "duly appointed in consultation with banks under LG Development"
2. Front men including Shah Jehan — owner of Afridi Medical Complex with US green card — who acts as intermediary for both CM Sohail Afridi and former CM Ali Amin Gandapur
3. Direct family involvement — CM's brother Amir Afridi and two cousins actively handling deals; brother Naveed Afridi functions as "de facto CM," directly issuing instructions to departments
4. Consultancy fraud — Shah Jehan's NGO and ghost firms have allegedly minted Rs5 billion from ADB/WB consultancy contracts in the agriculture department alone
Education Sector Corruption
Serving senior bureaucracy confirms Minister Meena Khan attempted to appoint three VCs of his choice:
· Mardan University
· Charsadda University
· Women University Swabi
The individuals offered Rs130 million collectively for appointment. The bribe was refused and reported to the scrutiny committee, disqualifying the candidates.
Project Implementation Fraud
UET Peshawar Skill Development Project — Rs800 million released to implementing partner, withdrawn in two weeks without any training, distributed between CM through Shah Jehan and ACS Ikramullah at a 500:300 million ratio.
Official Accountability
· NAB KP has formally launched inquiries into KPCIP
· Colonel Usman (currently OC Murree, formerly OC Peshawar ISI) is reportedly aware of corruption files against Sohail Afridi and his ministers
· Public Accounts Committee has taken notice and summoned officials for briefing
---
"Contracts worth billions were awarded without fulfilling basic legal requirements... billions disbursed based on manipulated progress reports." — NAB sources
---
Follow for updates | #KPCIPScandal | #KPCorruption | #SohailAfridi
🚨 خیبر پختونخوا میں بدعنوانی کا طوفان برپا
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورِ حکومت میں
ورلڈ بینک اور اے ڈی بی فنڈڈ ڈویلپمنٹ پروجیکٹس میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات
---
کے پی سی آئی پی اسکینڈل: تصدیق شدہ اہم حقائق
خیبر پختونخوا سٹیز امپروومنٹ پروجیکٹ (KPCIP) — ایک 97 ارب روپے کا اقدام جو ورلڈ بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی فنڈنگ سے چل رہا ہے — بدعنوانی کے الزامات کے مرکز میں ہے۔
اعداد و شمار
- KPCIP
آڈٹ میں 8.48 ارب روپے کے مالیاتی تضادات سامنے آئے
- 32 ارب روپے مبینہ طور پر ایک غیر رجسٹرڈ ترک کمپنی کو جعلی پیشرفت رپورٹس کی بنیاد پر جاری کیے گئے
- 1.05 ارب روپے inflated rates پر کنٹریکٹس دینے میں ادا کیے گئے
- 3.73 ارب روپے غیر مجاز remunerations اور overpayments کے ذریعے ضائع ہوئے
اسکیم کیسے چل رہی ہے
بدعنوانی کا نیٹ ورک مبینہ طور پر درج ذیل طریقے سے کام کر رہا ہے:
1. KPCIP
پروجیکٹس LG Development کے تحت بینکوں سے مشاورت کے بعد مقرر کردہ DG اور کنسلٹنٹس کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں۔
2. فرنٹ مین شاہ جہاں (Afridi Medical Complex کے مالک، امریکہ گرین کارڈ ہولڈر) — جو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور دونوں کے لیے انٹرمیڈیری/فرنٹ مین کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
3. براہ راست خاندانی شمولیت — وزیراعلیٰ کے بھائی عامر آفریدی اور دو کزنز ڈیلز سنبھال رہے ہیں؛ بھائی نوید آفریدی "ڈی فیکٹو وزیراعلیٰ" کی حیثیت سے محکموں کو براہ راست ہدایات جاری کر رہے ہیں۔
4. کنسلٹنسی فراڈ — شاہ جہاں کی این جی او اور ghost firms نے زراعت محکمے میں اکیلے ADB/WB کنسلٹنسی کنٹریکٹس سے 5 ارب روپے بنائے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں بدعنوانی
سرکاری سینئر بیوروکریسی تصدیق کرتی ہے کہ وزیر مینا خان نے اپنی پسند کے تین وائس چانسلرز کی تقرری کی کوشش کی:
- مردان یونیورسٹی
- چارسدہ یونیورسٹی
- وومن یونیورسٹی صوابی
ان افراد نے تقرری کے لیے مجموعی طور پر 13 کروڑ روپے بطور رشوت پیش کیے۔ رشوت مسترد کر دی گئی اور اس کی رپورٹ سکروٹنی کمیٹی کو کی گئی، جس کے نتیجے میں امیدواروں کو نااہل قرار دے دیا گیا۔
پروجیکٹ امپلیمنٹیشن فراڈ
UET
پشاور سکل ڈویلپمنٹ پروجیکٹ — 80 کروڑ روپے امپلیمنٹنگ پارٹنر کو جاری کیے گئے، دو ہفتوں میں واپس لیے گئے بغیر کوئی ٹریننگ، جو شاہ جہاں کے ذریعے وزیراعلیٰ اور ACS اکرام اللہ کے درمیان 500:300 ملین کے تناسب سے تقسیم ہوئے۔
سرکاری احتساب
- NAB KP
نے KPCIP میں باقاعدہ انکوائریاں شروع کر دی ہیں۔
- کرنل عثمان (موجودہ OC مری، سابق OC پشاور آئی ایس آئی) مبینہ طور پر سہیل آفریدی اور ان کے وزراء کے خلاف بدعنوانی کی فائلوں سے آگاہ ہے اور انہی فائلوں کی بنیاد پر سہیل آفریدی اور اس کی کابینہ کو عمران خان کو بھلا کر معاملات چلانے پر راضی کیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی،مینا گل اور اساھد خٹک اس اسکینڈل کے مرکزی کردار ہیں۔
- پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نوٹس لے لیا ہے اور حکام کو بریفنگ کے لیے طلب کیا ہے۔
---
"اربوں روپے کے کنٹریکٹس بنیادی قانونی تقاضے پورے کیے بغیر دیے گئے... اربوں روپے manipulated پیشرفت رپورٹس کی بنیاد پر جاری کیے گئے۔" — NAB ذرائع
---
اپ ڈیٹس کے لیے فالو کریں | #KPCIPScandal | #KPCorruption | #SohailAfridi
جرنیلوں کو مونال چاہیے تھا، تو وفاقی آئینی عدالت بنوا کر، پٹواری وکیل احسن بھون لگوا کر، اپنی مرضی کے ججوں سے فیصلہ لے لیا۔
اب اسی ماڈل پر پرانی تمام متنازعہ پراپرٹی کا سودا کروایا جائے گا اور فیصلہ لیا جائے گا۔
دوکان کھلی ہوئی ہے گلستان کالونی راولپنڈی میں۔۔۔
یہ درست خبر ہے، مصدقہ ذرائع کیمطابق ریلوے کی سرکاری ذمین پر بنا تجوری ہائٹس کا مالک میجر جنرل فیصل نصیر عرف ڈرٹی ہیری کا فرنٹ مین کامران ٹیسوری ہے۔ ذرائع کیمطابق یہ فیصلہ جی ایچ کیو نے فیڈرل کنسٹیٹیوشن کورٹ کے ساتھ ملکر کروایا ہے تاکہ آگے چل کر ماموں بابر، سالا محسن نقوی اور چاچو وسکی منیرا مستری 'ون کنسٹیٹیوشن ایونیو' کو اپنی مرضی کیمطابق ریگولارائز کروا سکیں۔
ناسلا ٹاور بھی تجوری ہائٹس کیطرح غیر قانونی تھا کیونکہ وہ سروس روڈ پر بنا تھا، جسے پی پی پی اور ایم کیو ایم نے پیسے لیکر ریگولارائز کروایا، حالانکہ سپریم کورٹ نے اس بلڈنگ کو جائز طور پر غیر قانونی قرار دیا۔
اب پانچ سال بعد، عسکری ترامیم کے ذریعے بننے والی وفاقی آئینی عدالت ان غیر قانونی عمارتوں کو قانونی قرار دے رہی ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس گلزار نے ان غیر قانونی عمارات کو گرانے کے احکامات دیے تھے۔
مگر جی ایچ کیو کی بنائی گئی وفاقی آئینی عدالت عسکری جج امین الدین خان کی سربراہی میں استعمال کرکے تمام غیرقانونی عمارتوں کو قانونی قرار دیا جارہا ہے۔ سوال ہے کہ کس قیمت پر؟ اور کس نے قیمت وصول کی ہے؟؟
غیر قانونی تعمیرات کے خلاف چیف جسٹس گلزار صاحب کے فیصلے کو غیر آئینی عدالت کی جانب سے واپس لینے کا فیصلہ ٹیجوری ہاٹس کے مالک کیلئے کیا گیا ہے۔
تجوری ہائٹس ریلوے کی زمین کے جعلی کاغزات بنا کر تعمیر کیا جارہا تھا۔ جسٹس گلزار صاحب کی عدالت نے حکم بھی جاری کیا تھا کہ تجوری ہائٹس میں اپارٹمنٹ خریدنے والوں کو ان کی رقم واپس کی جائے جو کہ نہیں کی گئی تھی۔
تجوری ہائٹس کے بینامی مالک سابق گورنر انتہائی اہم شخصیات کے اثاثہ جات بیرون ملک مینج کرتے ہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تجوری ہائٹس میں بھی اہم شخصیات کی سرمایہ کاری شامل رہی ہوگی۔
غیرآئینی عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ دراصل تجوری ہائٹس کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
سب جانتے ہیں کہ عمران خان کی بہنوں کی یہ کوشش سیاست کے لیے نہیں بلکہ اپنے بھائی کی زندگی کے لیے اور اسکے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف ہے۔ مگر منافقین اسے سیاست قرار دیں گے۔
یہ کام عمران خان کے نام پر ووٹ اکٹھے کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والوں کو خود کرنا چاہیے تھا۔
دکھ ہوتا ہے کہ کبھی صرف آپ کی تقریر سن کر ہم نے آپکو لیڈر لیڈر سمجھ لیا تھا۔
خود تو آپ لوگ کچھ کر نا سکے،ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنی اپنی زندگی گزار رہے ہیںاور عمران خان وہاں 8/10 کے کمرے میں سخت گرمی میں اپنی زندگی قربان کر رہا ہے، اب اسکے گھر سے کوئی صرف ریلی کے لئیے باہر نکلا ہے تو آپ کو موروثیت یاد آگئی۔
حد ہے ویسے اتنا خوف۔
آپ لوگوں نے کچھ کیا ہوتا تو عورتوں کو یہ جنگ لڑنی ہی نا پڑتی،چھوڑیں موروثیت۔
جو بے شرم عمران خان کا ایک ٹویٹ ری ٹویٹ نہیں کر سکا وہ بہنوں کی اپنے بھائی کی رہائی کے لیے مہم پر موروثیت کے طعنے دے رہا ہے۔۔۔2018 بنی گالہ ٹکٹوں کی تقسیم اور موصوف کی حالت زار یاد ہے ایسا لگتا ہےجیسے کل کی بات ہے۔۔ : عمر جاوید جٹ
@UmarJavaidJutt
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
اگر اپنے بھائی کے حق میں سڑکوں پر نکلنا مورثیت قرار دیا جاتا ہے، تو ایسی مورثیت اس غداری سے کہیں بہتر ہے کہ ووٹ اپنے قائد کے نام پر حاصل کیا جائے، مگر وفاداری جرنیلوں کے بنگلوں میں ادا کی جائے
اگر خون کا رشتہ نبھانا مورثیت ہے، تو سلام ہے ہر اُس بہن کو جو اپنے بھائی کو مصیبت میں تنہا چھوڑنے کے بجائے اس کے حق میں ڈٹ کر کھڑی ہو گئی رشتے نبھانے والے تاریخ میں سرخرو رہتے ہیں، ضمیر بیچنے والے وقتی فائدہ تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن تاریخ ایسے لوگوں کو بے ضمیر دلال کے طور پر یاد رکھتی ہے