||criticisms taken into account..✌️
history is neither for excuses nor for revenge..😇||
Geneticist.😍
Black Lover ❤
CSS Aspirant.💪
PSP will be..💞❤️ انشاءاللہ
10 Errores Más Grandes que Cometen los Hombres Durante las Semanas Más Críticas de Embarazo Temprano de su Prometida 🤰
1. Exigir Sexo Durante Sus Semanas Más Difíciles ❌
امریکی ریاست جورجیا میں معمول کی پرواز کے دوران مسافر طیارے کا انجن اچانک فیل ہو گیا، جس پر پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کو آخری جذباتی پیغام بھیجنے کے بعد اپنی جان پر کھیل کر جہاز کا رخ مصروف ہائی وے کی طرف موڑ دیا۔
نیچے چلتی گاڑیوں کے ڈرائیورز ابھی کچھ سمجھ بھی نہ پائے تھے کہ تیز رفتار طیارہ سڑک پر نمودار ہوا اور تین گاڑیوں کو کچلتا ہوا شدید آگ کی لپیٹ میں آ گیا، لیکن پائلٹ کی ناقابل یقین مہارت کی بدولت تمام مسافر اور ڈرائیورز اس ہولناک حادثے میں معجزاتی طور پر زندہ بچ گئے۔
اب فیوز ایل ای ڈی (LED) بلب پھینکنا بند کریں! گھر پر خود ٹھیک کریں منٹوں میں 🛠️ کمال کا جگاڑ!
کیا آپ کا ایل ای ڈی بلب بھی خراب ہو گیا ہے؟دکان پرجانے یا نیا خریدنے کے بجائے اس ویڈیو کو دیکھیں! بلب کے اندر صرف ایک چھوٹا سا ڈائیوڈ (LED Chip) جل جاتا ہے، جسے آپ خود ٹھیک کر سکتے ہیں👇
اسے بولتے ہیں جدید طریقے سے چوری کرنا
کچھ ہی دیر میں ساری مشین خالی کر دی۔
مجھے حیرانگی اس بات کی ھے کہ اتنا دماغ رکھنے والے شخص کو کیا یہ معلوم نہیں تھا کہ وہاں CCTV کیمرا لگا ہو گا۔ آخر اس نے اپنی شناخت چھپانے کے لئے ماسک وغیرہ کیوں نہیں پہنا؟؟
یہ ویڈیو دیکھیں ۔ آپ کو سمجھ آجائے گا کہ پاکستان میں طلبہ یونینز کیوں بحال نہیں کی جاتی اور یہ نظام اور حکومتیں طلبہ یونین سے کیوں خوفزدہ ہیں ۔ یہ خاتون انڈین نیشنل سٹوڈنٹس الائنس کی صدر Neha Bora ہے ۔
پاکستان کی موجودہ پارلیمان میں ایک بھی ایسا سیاستدان نہیں جو اس خاتون جیسی مدلل گفتگو کرسکے ۔
انڈیا بنگلہ دیش اور نیپال میں صرف جین زی نہیں بلکہ طلبہ یونینز نے حکومتوں کو ہلایا ہے ۔
دو دن سے بیس بار سے زیادہ یہ تقریر سن چکا ہوں یہ Neha Bora ہے انڈین نیشنل سٹوڈنٹ الائنس کی صدر اور بہت ہی کمال کا بولتی ہے آپ کے پاس تھوڑا وقت تو لازمی سنیں پھر سوچیں ہمارے ملک میں کونسا سیاسی لیڈر کونسا سٹوڈنٹ رہنما ایسی گفتگو کر سکتا ہے
کمال کمال کمال👏
جہاں انسانوں کی ہر ٹیکنالوجی ختم ہو جاتی ہے، ٹھیک وہیں سے اللہ کی ٹیکنالوجی شروع ہوتی ہے..
اس ویڈیو کو غور سے دیکھیے. یہ میرے اللہ کی ٹیکنالوجی ہے ، نہ کوئی پائلٹ نہ راڈار سسٹم..... ہزاروں کی تعداد میں یہ لینڈنگ بھی کرتے ہیں اور ٹیک آف بھی۔ مگر کبھی کوئی کریش نہیں ہوا۔
لینڈنگ اور ٹیک آف کے مناظر دیکھیں اور اس رب عظیم کی شان کی ثناء کیجیے جس کی ہر تخلیق بے عیب، مکمل اور لازوال ہے..
لوگ کہیں گے ہیئر ٹرانسپلانٹ کروایا ہے🤫
ارنڈی (Castor Oil) اور لونگ کے تیل (Clove Oil) کا یہ جادوئی مکسچر بالوں کو گنجے پن سے بچانے کا سب سے تیز طریقہ ہے۔
😍 خوشنصیب 😍
جب کراچی کی کھڈی کا کاریگر خانہ کعبہ کا غلاف بنانے کےلئے چُنا گیا تو معاوضے میں اس نے جو مانگا سعودی بادشاہ کو حیران کردیا
بیاسی سالہ حاجی ایوب جب اپنی زندگی پر نظر دوڑاتے ہیں تو انہیں اپنی قسمت پر یقین نہیں آتا کیونکہ وہ بیس سال کے نوجوان تھے جب کراچی سے انہیں بلواکر غلاف کعبہ تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی اور معاوضے کے طور پر انہیں وہ اعزاز ملا جو بڑے بڑے بادشاہوں اور سربراہان مملکت کو بھی کم ہی نصیب ہوتا ہے۔ کراچی کے علاقے بنارس ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے حاجی ایوب ان چند بنارسی کاریگروں میں شامل تھے جو تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان ہجرت کر آئے اور اپنے ساتھ صدیوں پرانا بنارسی بُنائی کا فن بھی لے آئے۔ 1962 میں غلافِ کعبہ کراچی میں تیار کیا گیا، غلاف کی تیاری روایتی بنارسی کھڈیوں پر ہوتی تھی اور اس کام میں صرف چند ماہر کاریگر ہی شامل تھے۔‘ تیاری میں کوریا سے درآمد کیا گیا اعلیٰ معیار کا ریشم، جسے ’کتان‘ کہا جاتا تھا، استعمال کیا جاتا تھا۔ جدید مشینوں کا دور نہیں تھا، اس لیے پورا ڈیزائن ہاتھ سے بنایا جاتا اور پھر ایک ایک دھاگہ اٹھا کر انتہائی باریک بینی سے بُنائی کی جاتی تھی۔ صرف ایک نمونہ تیار کرنے میں آٹھ ماہ لگے۔ 1980 میں سعودی حکام نے خانہ کعبہ کے اندرونی غلاف کا نمونہ تیار کرنے کے لیے مختلف کاریگروں کو مدعو کیا، جس کے لیے پاکستان سے بھی بنارسی کاریگروں کو بلایا گیا۔تقریباً 40 کاریگروں کے درمیان ان کا ڈیزائن منتخب ہوا اور دو سال بعد، 1982 میں انہیں سعودی عرب میں اعلیٰ حکام کی جانب سے کاریگروں کے اعزاز میں دعوت دی گئی۔سعودی حکام نے حاجی ایوب کو مالی معاوضے کی پیشکش کی، لیکن انہوں نے ایک مختلف درخواست کی۔
بقول ان کے: ’میں نے کہا کہ مجھے پیسے نہیں چاہییں، اگر ممکن ہو تو مجھے اپنے ہاتھوں سے خانہ کعبہ کے اندر غلاف نصب کرنے کی اجازت دی جائے۔‘
ان کی یہ درخواست منظور کر لی گئی اور وہ دیگر کاریگروں کی ٹیم کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، جہاں انہوں نے پرانا اندرونی غلاف اتار کر نیا غلاف نصب کیا۔
وہ اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے آج بھی جذباتی ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا: ’اندر داخل ہوتے ہی میں دو دو رکعات نفل ادا کیے۔ اللہ کے جلال کا ایسا منظر تھا کہ اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ خوشی بھی تھی اور ایک عجیب سی ہیبت بھی۔
یوں کراچی کے حاجی ایوب کو وہ اعزاز ملا جو بڑے بڑے طاقت ور سربراہان مملکت کو بھی کم ہی نصیب ہوتا ہے۔ سبحان اللہ۔ بیشک یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے ، یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔
اللہ ہم سب کو بھی مکہ اور مدینہ میں اپنا مہمان بنائے۔ آمین
انسان اور گدھا یہ فلم 1973 میں ریلیز ہوئی تھی۔جس کو اس وقت کے وزیراعظم بھٹو نے بین کر دیا تھا۔ یہ سین حقیقتاً ہم پاکستانی قوم کی کھلی عکاسی کرتا ہے کہ نہ تو ہم اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہو سکتے ہیں، نہ اظہار کرتے ہیں، نہ اپنا موقف پیش کر سکتے ہیں۔ بس گدھوں جیسے زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ کلپ ہزاروں تولہ سونے سے بھی قیمتی ہے
اس کو سمجھیں اور سیریس ہوجائیں
ورنہ ہمارے بچے قیامت کے دن ہمیں جہنم کی طرف دھکیلنےکا سبب بن جائیں گے
بلکہ اس راستہ پے بہت آگے نکل چکے ہیں۔
خاکپائے صحابہ و اہلبیت