سوات میں علیمہ خان کا استقبال دیکھیں بس!!
عمران خان کے لیے لوگ نکلتے ہیں, بس پارٹی کے عہدے دار عہدے انجوائے کرنا چاہتے ہیں, احتجاج نہیں!
یاد رہے یہ مراد سعید کے علاقے میں علیمہ خان کا استقبال ہؤا ہے, وہ بھی ایک رات کی نوٹیفکیشن پر, جس کا ذکر مراد سعید نے ٹویٹ میں بھی کیا ہے!
۵ اگست تک تحریک کو پیک پر لے جانے اور فیصلہ کن تحریک کے حوالے سے بدھ کے روز میٹنگ بلائی گئی ہے۔ میری گزارش ہے کہ اس کو اک روزہ ایونٹ کے بجائے ایک فیصلہ کن تحریک کی طرف لے جائیں۔ انشاءاللہ آپ کے لائحہ عمل کے اعلان کے بعد میرے حلقے سمیت پوری قوم اپنے لیڈر کے لیے مزید بہتر انداز سے تیاریاں کرتے ہوئے نظر آئے گی، جس لیڈر کی وجہ سے ان کا امن ممکن ہوا، کسٹم ایکٹ کا خاتمہ ہوا اور زندگی میں خوشحالی آئی اور آج پھر ان پر جبر کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔
میٹنگ میں اس نکتے کو بھی سامنے رکھیں کہ پختونخواہ کے جنوبی اضلاع اور سابقہ فاٹا میں پہلے ہی میڈ اپ دہشت گردی سے حالات خراب ہوچکے ہیں اور اب مالاکنڈ ریجن میں سوات، دیر، بونیر ،شانگلہ میں وہی بیس بیس بندے جن کو باجوڑ سے سیلاب کے دنوں میں خصوصی روٹ لگا کر منتقل کیا گیا تھا (اس کی تفصیل میں پچھلے سال ٹویٹس اور پھر کتاب میں درج کر چکا ہوں) ان کو یکدم سےمتحرک کر دیا گیا ہے جس کے بعد ہی پچھلے ہفتے جھڑپ اور سی ٹی ڈی ڈرون گرانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ مہینوں نہیں، ہفتوں یا دنوں میں حالات مزید خراب ہوں گے اور اس دفعہ نہ صرف بیانیہ بنا کر دہشت گردی کا ملبہ آپ پر ڈالا جائے گا بلکہ ان لائے ہوئے لوگوں سے نشانہ بنوایا جائیگا۔ پھر سے سن لیجئے “آپ کو نشانے پر رکھا جائیگا”۔ ایسے حالات میں تحریک تو چھوڑیں پی ٹی آئی گھروں تک محدود ہوجائے گی۔ عوام کا نقصان تو ہوگا ہی آپ کو بھی اندازہ ہے کہ اس سے عمران خان کی زندگی مزید کتنے خطرات سے دوچار ہوگی جب ان کا مضبوط قلعہ اور کارکن بھی محصور اور محدود ہوجائے گا۔ میں نے اپنی غیر موجودگی میں جن کو امن کا پرچم حوالے کیا تھا وہ تیار ہیں، آپ یعنی قیادت و اراکین اسمبلی بھی امن پاسون کا انعقاد کریں کیونکہ امن کے دشمنوں کی پالیسیوں کو شکست اسی سے ہوگی۔
تیسرا نکتہ فوج عوام کو لشکر بنانے پر زور دے رہی ہے۔ ماضی میں امن کمیٹیز بنا کر ان کو عسکری سپورٹ دے کر ظلم کی داستانیں رقم کی گئیں۔امن کمیٹیز کی نشاندہی پر لوگوں کو فوج کے حوالے کیا جاتا رہا، گھر گرائے گئے۔ پھر پالیسی بدلی آباد کاری کا فیصلہ ہوا اور واپسی پر انہی امن کمیٹیز سے بدلہ لینے کا سلسلہ شروع ہوگیا، ٹارگٹ کیلینگز کے واقعات اسی پالیسی کا خمیازہ ہے۔ آج پوری کی پوری قوم کو لشکر بنانے پر لگا کر ان کو لڑنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ جو لشکر کے خلاف ہوتا ہے یا انکار کرتا ہے ان پر چنگیز خان، ہلاکو خان بن کر ٹوٹ رہے ہیں۔ قوم امن پاسون کررہی تھی آپ گولیاں چلا رہے تھے، قوم آپ کو غلط پالیسی بتا رہی تھی، آپ غداری کے تمغے بانٹ رہے تھے دہشت گردی لانا آپ کی خواہش تھی تو قوم کیوں لشکر بنائے؟ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو پھیلایا گیا اب آپ قوم کو بندوق تھما کر کیا حاصل کرنا چاہتے ہو؟
ڈرون حملوں پر مجرمانہ خاموشی،آپریشن پر خاموشی، ریڈیو پاکستان بلڈنگ، نو مئی کی رپورٹ اور زمہ داران کا تعین نہ کرنا وغیرہ پہلے ہی آپ پر سیاہ دھبہ ہے اب پی ٹی آئی کو صوبے میں کچلنے کے لیے انکے مد مقابل کھڑا کرکے عوام کو مزید اذیت دینے کا ارادہ ہے۔ اس لیے تمام تر تفصیلات کو دیکھتے ہوئے گزارش ہے کہ کل کی بلائی گئی میٹنگ میں ایک دن کا ایونٹ نہیں ایک تحریک کا پلان واضح کیجئے۔ محصور اور محدود ہونے سے قبل فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھیں۔
نورین نیازی نے جو بات کی، وہ عوامی رائے کی ترجمانی کرتی ہے۔ کیا میاں نواز شریف صاحب یہ نہیں کہہ چکے کہ ممبئی حملہ پاکستان نے ہی کروایا تھا؟ کیا دیگر سیاسی رہنما اس سے بھی زیادہ سخت بیانات نہیں دے چکے؟ ان سب کو نوٹس کب بھیجے جائیں گے؟
حقیقت یہ ہے کہ علیمہ خان کی سٹریٹ موومنٹ نے ان کے در و دیوار ہلا دیے ہیں۔ پاکستانی قوم اپنے حقیقی وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔ آپ جو مرضی کر لیں، آپ اسے شکست نہیں دے سکتے۔ یہ موومنٹ پاکستان کی ہر گلی تک پہنچے گی!
سی پیک کے جب پیسے آ رہے تھے تب اِن کی بد دیانتی دیکھیں، کہ انہوں نے سی پیک کے پیسوں سے لاہور میں اورینج لائن ٹرین بنا دی، وہ پیسے اورینج لائن ٹرین کے لیے نہیں تھے، شبر زیدی
علیمہ خانم جتنی تیزی سے KP کے اندر گرفت بنا رہی ہیں اتنی تیزی سے ہمارے وزیراعلیٰ جو عشق عمران میں مارے جانے تھے وہ بیک گراؤنڈ میں جاتے جا رہے ہیں
ایک تختی پر سب کی تصویر ہے سہیل آفریدی کے ساتھ شاہد آفریدی کی تصویر ہے آئمہ بیگ ساتھ ہیں عمران خان کی تصویر نہیں ہے
آپ نے عمران خان کو مائنس کرنا شروع کردیا ہے سہیل آفریدی صاحب آپ مجرم ہیں PTI کے آپ نے گنڈاپور سے زیادہ دھوکا دیا ہے PTI کو
ایثار رانا
قائدِاعظم نے کوئٹہ اسٹاف کالج میں تقریر کی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جرنیل پاکستانی عوام کے نوکر ہیں!
اس کے بعد انہیں زیارت بھیج دیا گیا۔ دنیا سے کٹ آف کر کے وہاں انہیں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ وہاں کونسا حکیم تھا، کونسا ہسپتال تھا؟ اگر تھا، تو قائدِاعظم کے علاوہ زیارت کی چار ہزار سالہ تاریخ میں کوئی ایک اور مریض ہی بتا دیں۔
مطالعۂ پاکستان میں جو تم نے پڑھایا گیا ہے، وہ جھوٹ ہے۔
پاکستان میں غدار وہ ہے جو ووٹ کی طاقت کو نہیں مانتا۔ جرنیلو! تم کس حق سے حکمرانی کر رہے ہو؟ تمہاری حیثیت قائدِاعظم نے طے کر دی تھی۔ اب اسی کی پاسداری کرو!
آزاد کشمیر کے جس نوجوان کے سر کو ٹارگٹ کیا گیا تھا, وہ نوجوان کل PIMS ہسپتال میں وفات پا چکا💔
اگر یہ امریکہ یا برطانیہ ہوتا تو آج پورا ملک سڑکوں پر نکلتا, پوری دنیا میں آواز اٹھتے, لیکن پاکستان ہے کوئی پوچھنے والا نہیں, سب اپنی زندگیوں میں مگن ہیں! بے حس بے رحم لوگ
“کہتے ہیں سٹریٹ موومنٹ کے لیے خرچہ کہاں سے آیا؟ گاڑی کا پٹرول اپنا تھا، دو سپیکر اوپر لگا لیے، یہ خرچہ ہوا۔ کسی نے بندوبست نہیں کیا۔ لوگ خود سن کر نکلے لوگوں کا عمران خان سے پیار ہی بہت ہے، اتنی تعداد میں لوگوں کو دیکھ کر ہمیں بہت حوصلہ ملا۔ چترال میں ہم نے دو جگہ رکنا تھا، دو کی بجائے 9 جگہ رکنا پڑا، لوگ سڑکوں پر نکل آتے تھے لوگ بہت پرجوش تھے، نکلنے کے لیے تیار تھا۔”
- @Aleema_KhanPK
#ReleaseImranKhan
#StreetMovement
"یہ فرعون ہیں۔ انہوں نے کیا تماشہ لگا رکھا ہے عمران خان کے سارے حقوق معطل کردئیے ان کو قید تنہائی میں ڈال کر ذہنی ٹارچر کیا جارہا ہے یہ عدالتیں انصاف نہیں دینگی اب لوگ صرف خیبرپختونخواہ سے نہیں پورے پاکستان سے آئیں گے ۔جب تک ہم پریشر نہیں ڈالیں گے عمران خان کے حقوق بحال نہیں ہونگے"۔ علیمہ خان
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
جبران مشتاق فرام تراڑ (راولاکوٹ)، جو سر میں فورسز کی گولی لگنے کے بعد اسلام آباد میں زیرِ علاج تھے، دو بڑے آپریشن کروانے کے باوجود جانبر نہ ہو سکے اور چند لمحے قبل شہید ہو گے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ عظیم صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔💔😭
سہراب برکت نے نظام کے خاتمے کا انکشاف کردیا!!
موجودہ نظام سے ٹوٹنے کی آوازیں آرہی ہے!!
نظام اندر سے ٹوٹ رہا ہے, باظاہر سب کچھ ٹھیک نظر آرہا ہے لیکن اندر سے نظام ختم ہوتا جارہا ہے!!
نورین خان نیازی کے ساتھ مولانا فضل الرحمان کو نوٹس نہیں بھیج سکتے تو بھارتی وزیر خارجہ کو نوٹس بھیج دیں جو بتا رہے ہیں کہ "ہم نے حملے سے پہلے پاکستان کو آگاہ کیا تھا اور پاکستان نے بہاولپور کا مدرسہ خالی کروا لیا تھا"
پاکستان نے پتہ ہونے کے باوجود اس حملے کو روکا نہ اس دعوے کی تردید کی۔
کیا یہ انڈرسٹینڈنگ نہیں تھی ؟