🚨🚨🚨پختونخوا میں ریاستِ مدینہ کی عملی مثال، رات گئے عوامی وزیر اعلیٰ اپنے عوام کے درمیان پہنچ گئے!!!
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے یونیورسٹی روڈ پشاور کا اچانک دورہ کیا، سپین مسجد کے سامنے فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے محنت کش مزدوروں کے پاس جا کر ان کے درمیان بیٹھ گئے، ان کا حال دریافت کیا اور ان کے مسائل براہِ راست سنے!!!
یہی وہ طرزِ حکمرانی ہے جو ریاستِ مدینہ کی حقیقی روح کی عکاسی کرتا ہے یعنی انسانیت، احساس اور خدمت، جہاں حکمران خود عوام کے درمیان جا کر ان کے دکھ درد بانٹتا ہے!!!
وزیر اعلیٰ نے مزدوروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کل سے پشاور میں قائم پناہ گاہوں میں منتقل ہو جائیں اور فٹ پاتھ پر سونے سے گریز کریں۔ پناہ گاہوں میں آپ محفوظ رہیں گے اور شدید گرمی سے بھی بچ سکیں گے!!!
وزیر اعلیٰ نے مزدوروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ سب کی زندگیاں آپ کے اہلِ خانہ اور ہمارے لیے نہایت قیمتی ہیں، ریاست آپ کی محافظ ہے اور آپ کی خدمت ہماری ذمہ داری ہے۔ پناہ گاہوں میں آپ کو کھانے پینے، صاف ستھرے بستر اور پنکھوں سمیت تمام بنیادی سہولیات میسر ہیں۔ اگر وہاں کسی بھی قسم کا مسئلہ پیش آئے تو ہمیں ضرور آگاہ کریں!!!
The budget has been laid in the national assembly. The industry & commerce ministers, advisors & what not of this dysfunctional Form 47 regime are all missing.
Industry stakeholders are left to queue up outside busy finance committee rooms to give their feedbacks.
Finance committees are meant to examine the bigger picture. The macro fundamentals & income/expenditure balancing. They should not be concerned with micro issues of individual trade sectors.
But since every ministry in this circus is doing the job of others & neglecting their own, the crazy state of affairs has become normalised.
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بغیر سیکورٹی کے رات ڈیڑھ بجے پشاور کی سڑکوں پر موجود بےسہارا اور بے گھر افراد سے مل رہے ہیں،
سہیل آفریدی انکے مسائل سن رہے ہیں اور انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں،
عوامی خدمت اور دکھی انسانیت کی مدد کا یہ جذبہ قابل ستائش ہے
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بغیر سیکورٹی کے رات ڈیڑھ بجے پشاور کی سڑکوں پر موجود بےسہارا اور بے گھر افراد سے مل رہے ہیں،
سہیل آفریدی انکے مسائل سن رہے ہیں اور انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں،
عوامی خدمت اور دکھی انسانیت کی مدد کا یہ جذبہ قابل ستائش ہے