امارت اسلامیہ کے پچھلے دور حکومت میں جب کہا جاتا کہ اگر امریکہ اور عالمی طاقتوں نے افغانستان پر حملہ کیا تو کون افغانستان کا ساتھ دیگا؟
سب کہتے تھے کہ پڑوس میں اسلامی ملک پاکستان ہے جو ایٹمی طاقت ہے وہ افغانستان کا ساتھ دیگا۔
پھر امریکی حملے کے وطن پاکستان نے افغانستان کے ساتھ جو تاریخی جفا کیا وہ کسی پر پوشیدہ نہیں۔
پھر بیس برس افغانیوں پر ظلم کی کونسی کہانی نہیں گذری، لاکھوں لوگ جام شہادت نوش کرگئے اور ان قربانیوں کے بدلے اللہ تعالیٰ نے ایک بار پھر افغان دھرتی پر اسلامی نظام نافذ فرمایا۔
ہمارا امید تھا کہ ان مشکل حالات میں ہمارے ہمسایہ اسلامی ممالک ہمارا ساتھ دیں گے، لیکن بدبختی سے آج سب سے زیادہ ہم پاکستان سے تنگ ہیں، جس بد اخلاقی کا پاکستانی حکام نے مظاہرہ کیا وہ ایک اسلامی اور ہمسایہ ملک کا ہر گز نہیں تھا، پاکستانی حکومت نے افغان تاجروں کی ہزاروں کنٹینرز کراچی بندرگاہ پر روکھ دیے ہیں اور افغانستان آنے کی اجازت نہیں دیتے۔
پاکستانی عوام ہمارے بھائی ہیں لیکن ان کے حکمرانوں کا یہ تاریخی ظلم اور بدنیت رویہ کبھی نہیں بھولیں گے۔
وزارت زراعت، آبیاری و مالداری میگوید که شایعات درباره توزیع زمین در اطراف کانال قوش تیپه بی اساس است.
وزارت مذکور با نشر خبرنامهی گفته است که هیچکس بدون دستور رهبر ا.ا حق استفاده، توزیع، خرید و فروش این زمینها را ندارد.
#شمشادنیوز#shamshadnews
اب یکم جنوری 2024 سے متعلقہ موبائل آپریٹرز چھ ماہ سے کم مدت سے زیر استعمال موبائل سموں کی واپسی پر 200 روپے تک چارجز لگانے کے مجاز ہیں.
31 دسمبر 2023 تک اپنی غیر ضروری موبائل سمیں بلامعاوضہ بند کروائیں !
مزید جاننے کے لیے ویڈیو ملاحظہ فرمائیں:
#SIMDisowningCharge
«الله جل جلاله لره دي حمد او ثناء وي چې موږ یي د باران په أوبو أوبه کړو»
پر غزې باندي أوبه قطع دي، هلته خلګ له تندې کړیږي، باران سوی ورته خوشحاله دي، أوبه یي جمع کوي.
#رحمتك_يارب