اہم خبر ، کیس کی پیروی کے لیے پشاور ہائی کورٹ پہنچنے سے اٹک پل پر رستہ بند کرکے کیوں روکا ؟ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ میاں شفقت جان نے پی ٹی آئی احتجاج کے باعث پشاور موٹروے بند کرنے کے اقدام کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ، میاں شفقت جان اپنی درخواست میں کہتے ہیں " 24 ستمبر کو پشاور میں میرا کیس مقرر تھا جس میں پیش ہونا تھا صبح 7 بجے مشکل سے اسلام آباد ٹال پلازہ سے موٹروے پر داخل ہوا ، ایم ون موٹروے اٹک پل کے قریب پہنچنے پر پتہ چلا وہ بند ہے میں نے وہاں موجود اتھارٹیز اور دیگر حکام سے تحریری آرڈر پتہ کیا تو کہیں سے تصدیق نا ہو سکی اسلام آباد ہائیکورٹ اپنے فیصلے میں کہہ چکی رستوں کی بندش شہریوں کے بنیادی حقوق کے منافی ہے "
اب وکیل نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ " بغیر کسی نوٹیفکیشن آرڈر وجوہات کے اس طرح رستوں کی بندش غیر قانونی قرار دی جائے پھر سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری مواصلات اور چیف کمشنر کو ایسے رستوں سے ایمرجنسی ٹریفک کھولنے کا حکم دیا جائے جن میں وکلا ، سائلین ، گواہوں ، بیماروں ، جنازوں اور دیگر ایمر جنسی سروسز کے لئے رستے کھولنے کا حکم دیا جائے "
🚨 وزیر اعلی فرنٹ فٹ پر کھیلنے کیلئے تیار
پولیس کو کسی اور کے کنٹرول سے باہر لانے کیلئے وزیر اعلی نے پولیس ایکٹ پیش کردیا ،،، خیبرپختونخوا کی پولیس خیبرپختونخوا کی عوام کی تابع ہوگی کسی اور کے اشاروں پر نہیں چلے گی ،، ونس فار آل فیصلہ ہوگیا
ویسے PTI سپورٹرز کا بھی کوئی جواب نہیں۔ 😂😂
جو سازش دشمن نے کچھ دن بعد کرنی تھی، انہوں نے ابھی سے اس کا بھانڈا پھوڑ کر عوام کو بتا دیا کہ اس لیول پر گر کر بھی عمران خان کے خلاف سازش ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے فوجی افسران کی بہت بڑی تنظیم نے ایک غیر معمولی سیاسی سٹیٹمنٹ جاری کیا ہے عمران خان کو رہا کیا جائے فوری طور پر اور بغیر کسی شرط کے اس سٹیٹمنٹ کی سب سے حساس لائن یہ ہے کہ 2022 کا رجیم چینج ایک بہت بڑی غلطی تھی اور پاکستان ابھی تک اس کی قیمت ادا کر رہا ہے
عادل راجہ
محسن نقوی صاحب کہتے ہیں کہ اگر کے پی حکومت دھرنے کی بجائے دہشتگردوں کے خلاف لڑنے پر فوکس کرے تو دہشتگردی ختم ہو جائے ،
پہلی بات تو یہ ہے کہ کے پی میں دہشتگردی کے خاتمے کی صوبائی نہیں وفاقی پالیسی چل رہی ہے،
دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ لاجک مان بھی لی جائے تو بلوچستان حکومت تو کوئی دھرنے نہیں کررہی، وہاں دہشتگردی کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ کیوں رہی ہے؟
تیسری بات، جب آپ دعویٰ کررہے ہیں کہ وفاقی حکومت کا پورا فوکس دہشتگردی کے خاتمے پر ہے تو چار سال سے مسلسل دہشتگردی بڑھ کیوں رہی ہے؟
اب تو ایک مدت سے افغانستان کا بارڈر بھی بند ہے
پچھلے ایک سال میں بتا دیں کہ شہبازشریف نے دہشتگردی کے حوالے سے کتنے اجلاس کیے ہیں؟
سیٹ جدہ میں خریدا گیا۔ رائل فیملی نے خریدا۔ انگوٹھی اور جھمکے 2021 میں جبکہ ہار اور بریسلیٹ 2023 میں خریدے گئے۔ برطانیہ والی شاپ 2 سال پہلے کھلی جس میں ابھی تک کوئی بڑا سیٹ نہیں بکا لہذا کمپنی اسے بند کرنے کا سوچ رہی ہے۔سیٹ کی کل قیمت 23.2 ملین ڈالرز جو کے 642 کروڑ روپے ادا کی گئی۔ اب یہ تحفہ پاکستان کیسے آیا؟ کیا اسکا ذکر توشہ خانہ میں ہے؟ کیا اس پر کوئی ٹیکس دیا گیا ہے؟ یہ سوالات میڈیا اور FBR کو ضرور کرنے چاہئیں۔ اور یہیں باقی خبر بھی ملے گی۔ اور ہاں ییلو ڈائمنڈ والے انتہائی بیش قیمت 2 بڑے سیٹ اس کمپنی نے ڈیزائن کیے تھے جن میں سے ایک ڈیزائن یہ ہے۔
🚨 صدا انھوں نے حکومت میں نہیں رہنا ہم عوامی طاقت سے آ رہے ہیں ، ایک ایک ظالم کی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں، کل کو نا عورت کارڈ چلے گا اور نا ہی بیماری، بھرپور احتساب ہوگا،
سہیل آفریدی
نواز شریف بھی خبیر پختون خواہ جاتا ہے اس کی مہمان نوازی اور پروٹوکول بند کریں، سہیل آفریدی تو خیبر پختون خواہ کا وزیراعلی ہے نوازشریف تو کچھ بھی نہیں
علیمہ خان آن فائر 🔥
پاکستان کا آرمی چیف ہمارے والد کے بارے میں بغض رکھتا ہے اور وہ انہیں سخت ازیتوں میں قید رکھ کر مارنا چاہتا ہے۔
عمران خان کے بیٹوں کا گارڈین میں انٹرویو۔
آئی ایس آئی کی ٹارچر ونگ صیہونی پنجاب پولیس کا ایک اور کارنامہ، 5 کروڑ عوام کے منتخب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کو اغواء کرنے کے بعد لکشمی چوک میں چھوڑ کر فرار ہو گئی۔
عاصم منیر فوج کو اور کتنا گرواؤ گے؟
#FascismUnderAsimLaw#PakistanUnderMartialLaw
اپنی مرتبہ عورت کارڈ ہر وقت اشرافیہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے جبکہ باقی پاکستانی خواتین کو یہ گالیاں بھی دیتے ہیں مارتے بھی ہیں گھسیٹتے بھی ہیں جیلوں میں ڈالتے اور لگاتار حراساں کرتے ہیں اور کوئی اف تک نہیں کرتا۔
یاد رکھنا ہم پاکستانیوں کا وقت بھی جلد آئے گا اور ہم تم سے ہر اس ظلم کا حساب مانگیں گے۔
علیمہ خان کی ٹویٹ 🚨
عمران خان کی جان اب شدید خطرے میں ہے!
عمران خان بار بار یہ تنبیہ کر چکے ہیں کہ: "وہ مجھے ویسے ہی مار دیں گے جیسے انہوں نے مصر میں مرسی کو مارا تھا۔"
اکتوبر 2025 میں مکمل تنہائی میں رکھے جانے سے پہلے عمران خان بالکل فٹ اور صحت مند تھے۔ دسمبر کے آخر تک، ان کی ایک آنکھ کی بینائی جانے لگی۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کو بار بار یہ بتانے کے باوجود کہ وہ دیکھ نہیں سکتے، انہیں تقریباً دو ہفتوں تک طبی امداد سے محروم رکھا گیا۔ جب آخر کار ایک ڈاکٹر کو ان کا معائنہ کرنے کی اجازت دی گئی تو عمران خان کو بتایا گیا کہ اس تاخیر کی وجہ سے ان کی آنکھ کو مستقل نقصان پہنچ چکا ہے۔ ان کے سیل کے گرد کم از کم ایک درجن سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں۔ ان کی نگرانی کرنے والے اداروں کو معلوم تھا کہ وہ ایک آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے۔ علاج میں مجرمانہ نیت کے ساتھ تاخیر کی گئی۔
اس کے بعد سے، جب کہ اڈیالہ جیل سے تقریباً کوئی بھی اصل معلومات باہر نہیں آنے دی جاتیں، ان کی صحت کے بارے میں میڈیکل رپورٹس اور مبینہ "اندرونی معلومات" جان بوجھ کر لیک کی جا رہی ہیں۔ جولائی کے آخر تک، سوشل میڈیا اچانک ایسے دعوؤں سے بھر گیا کہ ان کی صحت بگڑ رہی ہے، ان کے ہاتھ اور ہونٹ کانپ رہے ہیں، ان کا بلڈ پریشر غیر مستحکم ہے، اور طویل تنہائی ان پر ذہنی طور پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ ان رپورٹس کے ساتھ جعلی اور اے آئی (AI) سے تیار کردہ ایسی تصاویر بھی تھیں جن میں انہیں ویل چیئرز اور اسپتال کے بستروں پر دکھایا گیا۔
یہ بیانیہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟
کیونکہ ان کے اغوا کاروں کا خیال تھا کہ وہ ان انتہائی سخت حالات کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے جن میں انہیں رکھا گیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ٹوٹ جائیں گے، کہ آخرکار وہ پاکستان کے عوام کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور خود کو بچانے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
جب انہوں نے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا تو انسانی رابطے سے مکمل طور پر کاٹ کر انہیں انتہائی درجے کی اذیت دی گئی، سوائے ان کی اہلیہ سے غیر باقاعدہ ہفتہ وار ملاقاتوں کے جو خود اسی جیل میں ہیں۔
پھر بھی وہ اب بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور چونکہ وہ انہیں توڑ نہیں سکے، اس لیے اب انہوں نے عمران خان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے بارے میں ایک جعلی بیانیہ اور جعلی پروپیگنڈا بنانا شروع کر دیا ہے۔
18 اگست 2026 کو، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان اور ان کے ذاتی ڈاکٹر ڈاکٹر فیصل سلطان کی موجودگی میں، عمران خان کو مکمل آزادانہ طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ اس حکم میں دو دن کی آخری تاریخ دی گئی تھی۔ انہیں 20 اگست تک منتقل کیا جانا چاہებя تھا۔ اس حکم پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
حکومت کیا چھپا رہی ہے کہ وہ آزادانہ طبی معائنے کی اجازت دینے کے بجائے سپریم کورٹ کی نافرمانی کرنے کو ترجیح دے رہی ہے؟
ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا کہ ہم دو واضح مطالبات کے ساتھ پرامن طور پر سڑکوں پر نکلیں:
سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے، عمران خان کو مکمل آزادانہ طبی معائنے اور علاج کے لیے فوراً شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جنہوں نے القادر کیس میں 22 ماہ اور توشہ خانہ کیس میں 9 ماہ سے بشریٰ بیبی اور عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت نہیں کی، وہ یا تو انصاف فراہم کریں یا اپنے عہدے سے ہٹ جائیں۔