بنوں ڈومیل بخمالی پمپ کے قریب کل ایف سی اہلکار کی ہلاکت کے بدلے میں مبینہ طور پر رات کو ریاست پنجاب کے غلاموں نے دو قیدیوں کو شھید کر دیا گیا جن میں ایک شخص کا تعلق مہمند خیل سے ہے جن کا شناخت زیاد کے نام سے ہوئی ہے جسے مبینہ طور پر دس روز قبل بنوں مہمند خیل علاقے میں فوج اور
گزشتہ سال تین لاکھ سے زائد افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے، ذبیح اللہ مجاہد
کابل. (خصوصی رپورٹ)
امارت اسلامیہ افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ گزشتہ سال مختلف سرکاری اداروں اور وزارتوں کی سرگرمیوں کے نتیجے میں تین لاکھ سے زائد افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے۔ انہوں نے یہ اعداد و شمار حکومت کے عوامی خدمات اور کارکردگی سے متعلق پروگرام "حکومت میڈیا کے آئینے میں" کے دوران پیش کیے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس میں امارت اسلامیہ کی مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں کی جانب سے عوامی خدمات، روزگار، شناختی دستاویزات، مواصلات اور شہری سہولیات کے شعبوں میں انجام دی جانے والی سرگرمیوں کی تفصیلات بیان کیں۔
اقتصادی اداروں کی سرگرمیوں سے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد روزگار:
امارت اسلامیہ کے ترجمان کے مطابق وزارت اقتصاد نے 86 ملکی اور غیر ملکی اداروں کو لائسنس جاری کیے، جن کے ذریعے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری اور اقتصادی اداروں کو قانونی دائرے میں لانے اور انہیں کام کرنے کے لیے ضروری اجازت نامے فراہم کرنے سے نہ صرف اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے۔
فنی تربیت اور ورک لائسنس:
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق وزارت محنت و سماجی امور نے بھی روزگار کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ وزارت کی جانب سے 62 ہزار سے زائد ورک لائسنس جاری کیے گئے جبکہ 45 ہزار سے زائد افراد کو فنی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی گئی۔
ان کے مطابق فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کا مقصد شہریوں کو روزگار کے لیے ضروری عملی مہارتیں فراہم کرنا اور ملک میں ہنرمند افرادی قوت کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔
ملکی و غیر ملکی اداروں کے لیے لائسنس:
مجاہد نے بتایا کہ سماجی امور، صحت، تعلیم اور انسانی امداد کے شعبوں میں کام کرنے والی 84 ملکی اور دو غیر ملکی تنظیموں کو بھی قانونی طور پر کام کرنے کے لیے لائسنس جاری کیے گئے۔
ان کے مطابق اس عمل کا مقصد متعلقہ اداروں کی سرگرمیوں کو منظم کرنا اور عوامی خدمات کے شعبے میں کام کرنے والی تنظیموں کے لیے ایک واضح انتظامی نظام فراہم کرنا ہے۔
لاکھوں شہریوں کو الیکٹرانک شناختی کارڈ جاری:
پریس کانفرنس میں شہریوں کو شناختی دستاویزات کی فراہمی سے متعلق پیش رفت بھی بیان کی گئی۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران شماریات اور اطلاعاتی انتظامیہ نے 20 لاکھ سے زائد الیکٹرانک شناختی کارڈ تقسیم کیے۔
ان کے مطابق الیکٹرانک شناختی نظام شہریوں کی شناخت، سرکاری خدمات تک رسائی اور انتظامی امور کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پاسپورٹ اور ویزا خدمات:
ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ اسی عرصے کے دوران پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ نے 6 لاکھ 50 ہزار سے زائد عام پاسپورٹ جاری کیے، جبکہ 512 تعلیمی پاسپورٹ بھی تقسیم کیے گئے۔
اس کے علاوہ کم از کم 16 ہزار غیر ملکی شہریوں کے ویزوں میں توسیع کی گئی، جس سے ملک میں موجود غیر ملکی شہریوں سے متعلق انتظامی اور سفری امور کو منظم کرنے میں مدد ملی۔
مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں توسیع:
مواصلات کے شعبے میں بھی متعدد اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے مجاہد نے کہا کہ وزارت مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ملک کے مختلف علاقوں میں 350 ٹیلی کمیونیکیشن اینٹینا نصب کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران 851 کلومیٹر سے زائد فائبر آپٹک نیٹ ورک بھی بچھایا یا توسیع دی گئی۔ ان کے مطابق مواصلاتی بنیادی ڈھانچے میں توسیع کے نتیجے میں اس شعبے کے ذریعے ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
فائبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع کو ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل رابطوں کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا سکتا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں مواصلاتی سہولیات محدود رہی ہیں۔
کابل میونسپلٹی کی شہری خدمات:
پروگرام کے دوران کابل میونسپلٹی کی جانب سے عوامی خدمات کے شعبے میں انجام دی جانے والی سرگرمیوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔
پیش کردہ معلومات کے مطابق کابل میونسپلٹی نے 14 ہزار کاروباری یونٹس کو آپریٹنگ لائسنس جاری کیے۔ اس کے علاوہ شہر میں 5 لاکھ 31 ہزار پودے اور پھول لگائے گئے، جبکہ 6 لاکھ 20 ہزار ٹن سے زائد ٹھوس فضلہ جمع کیا گیا۔
شہری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نہروں کی صفائی سمیت دیگر بلدیاتی سرگرمیاں بھی انجام دی گئیں۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد کابل میں صفائی، سرسبزی اور شہری سہولیات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
روزگار اور عوامی خدمات پر حکومتی توجہ:
پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال امارت اسلامیہ کے مختلف اداروں کی سرگرمیوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا، فنی تربیت فراہم کرنا، اقتصادی اداروں کو لائسنس دینا، مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینا اور شہری خدمات کو بہتر بنانا نمایاں ترجیحات میں شامل رہے۔
حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مجموعی مقصد اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینا، شہریوں کے لیے روزگار اور ہنر کے مواقع بڑھانا اور مختلف سرکاری و عوامی خدمات کو زیادہ منظم بنانا ہے۔
واپس آنے والے مہاجرین میں 66,778 رہائشی پلاٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں
کابل (بی این اے) — مہاجرین کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ کمیشن کے دارالانشا کا کہنا ہے کہ اب تک ملک کے مختلف صوبوں میں واپس آنے والے مہاجرین کے لیے 66,778 رہائشی پلاٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
امارتِ اسلامیہ کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے آج جاری کردہ بیان میں کہا کہ کمیشن کی روزانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 1 روز کے دوران ننگرہار، فاریاب، سمنگان اور نیمروز صوبوں میں 860 واپس آنے والے خاندانوں میں رہائشی پلاٹ تقسیم کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق اسی مدت کے دوران 298 خاندان، جن میں 1,505 افراد شامل ہیں، طورخم، اسپین بولدک، پلِ ابریشم اور اسلام قلعہ کے راستوں سے ملک میں داخل ہوئے اور ان کا اندراج کیا گیا۔
اسی طرح 323 خاندانوں پر مشتمل 1,688 افراد کو ملک کے مختلف صوبوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ 321 خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی گئی اور مہاجرین میں 247 سم کارڈز بھی تقسیم کیے گئے۔
مہاجرین کے استقبالی مراکز میں واپس آنے والوں کو طبی، غذائی اور مواصلاتی سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ رجسٹریشن، منتقلی، مالی امداد اور عارضی رہائش کے طریقۂ کار سے متعلق بھی انہیں آگاہی دی گئی۔
نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئی تحصیلیں بنانا اور نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں۔ بھارت میں بھی نئے صوبے بنے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک کی انتظامی ساخت کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے۔
نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں، لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے یا نہیں۔ لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے، جبکہ وہ اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری آشیرباد پر ہوا ہے، یا میری اجازت سے ہوا ہے؟ یا وفاقی کابینہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے؟ یا اگر کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے۔
کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں،
میں ایک سال سے زیادہ عرصہ چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا۔ مگر ہمارے سر پر یہ تھوپ دیا گیا کہ تم تو انضمام کے مخالف ہو۔ ہم نے کہا، نہیں، ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ فاٹا کے عوام اور ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، لہٰذا اس میں کئی آپشنز ہو سکتے ہیں۔ ذرا وہاں کے عوام سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ صوبے میں انضمام چاہتے ہیں، ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں، یا اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان سے نہیں پوچھا گیا۔
آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ وہاں کے عوام کی زندگی اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہ خود نہیں سمجھ رہے کہ ہم اب فاٹا ہیں یا صوبے کا حصہ ہیں۔ وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، باقی نظام تو دور کی بات ہے۔
یہ کوئی کیک تو نہیں کہ آپ آرام سے چھری لے کر جس طرح چاہیں اسے کاٹ دیں۔ صوبہ بنانے کی بات کے لیے کیا ملک تیار ہے؟ آپ مجھے بتائیں، اگر چار یا پانچ بھائیوں کا مشترکہ مکان ہو اور اس کے بعض حصوں میں آگ لگ جائے، تو اس وقت وہ آگ بجھائیں گے یا کہیں گے کہ آئیے بھائی، پہلے اس کی تقسیم کر لیتے ہیں؟
ہر چیز کے لیے ایک مناسب ماحول بنانا پڑتا ہے۔ سوائے اس کے کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات ہیں، جو بدامنی ہے، جس نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، ان سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے آپ ہم سب کو ایک نئی بحث میں لگا دیتے ہیں۔ روز نئے ایشو اٹھاتے ہیں، پھر اس پر بحث ہوتی ہے۔ یہ صوبوں والی بحث پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہے۔
ہم اصولی طور پر صوبوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر قومیتوں کی بنیاد پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اور اگر محض انتظامی بنیادوں پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اس پر ہر صوبے کے عوام کا ردِعمل آئے گا۔ وہ کہیں گے کہ یہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، مجھے اس صوبے میں شامل کرو یا نہ شامل کرو۔ یہ سارے معاملات ابھی باقی ہیں۔
ایک مشکل مسئلے میں اتنی آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال دیا گیا ہے کہ شاید یہ ان کے بس میں نہ ہو، بلکہ اس سے مشکلات اور پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو جائے۔ یہی میرے خدشات ہیں۔ ہر چیز مشاورت سے ہونی چاہیے تھی۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ یہاں مختلف قومیتیں رہتی ہیں، ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔ آپ اس شناخت کو نظرانداز کریں گے یا اسے سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے؟ یہ سارے معاملات غور و فکر کی ضرورت ہیں۔
میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے، یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اب کیا کرنا ہے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل آج بھی ہے اور کل بھی تھا، وہ ہے ملک کا آئین۔ آئین کے مطابق ملک کو چلاؤ، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، اور اللہ کے دین اور اس کے احکامات کے مطابق قانون سازی بھی شروع ہو جائے گی۔اور عوام میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی کہ اصل میں ہماری مرضی کی حکومتیں ہونی چاہئیں، ہم پر جبراً کوئی حکومتی مسلط نہ کی جائے۔
لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں، جیسے واقعی یہ عوام کی حکومتیں ہوں، جبکہ یہ بھی انہی کی حکومتیں ہوتی ہیں اور ان کی لگام بھی انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عوام پریشان ہیں، عوام کی کوئی حکومت نہیں ہے۔
میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ انہوں نے یہ باتیں کس حیثیت میں کی ہیں؟ وہ کابینہ کے رکن ہیں۔ اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ مستعفی ہو جائے، یا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آ جائیں۔ نہیں، نوکری بھی اسی تنخواہ پہ کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں، تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں۔
'چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے مجھ کو اکثر،
ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے۔'
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو
‼️ کالعدم ٹی ٹی پی نے "تیار ہے ہم" کے عنوان سے جاری اپنی ویڈیو سیریز کی 13ویں قسط شائع کر دی ہے، جس میں تنظیم میں نئے شامل ہونے والے جنگجوؤں کی مختلف تربیتی کلاسوں اور عسکری مشقوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔