سعودی عرب کی سلامتی پر حملہ پوری امتِ مسلمہ کی سلامتی پر حملہ ہے،سعودی عرب پر حوثی دہشتگردوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں،سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ امت مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے امن کے لیے خطرناک ہے،مسلم ممالک متحد ہوکر اسلامی بلاک بنائیں جس پر مؤثر سیاسی،معاشی اور دفاعی حکمت عملی بنائیں،موجودہ حالات میں مشترکہ پلیٹ فارم کی ضرورت پہلے سے بڑھ کر ہے۔
پاکستان کو مسلم دنیا کے اتحاد اور سعودی عرب کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہئے۔
سارا پاکستان آصف علی زرداری صاحب کو سیاست کا گرو مانتا ہے لیکن آصف علی زرداری بھی مولانا فضل الرحمان صاحب کو سیاست کا گرو مانتے ہیں، مولانا صاحب وہ سیاستدان ہیں جنہوں نے سیاست میں تہذیب کا دامن کبھی نہیں چھوڑا، میٹھے میٹھے انداز میں ان کی کھال ادھیڑ لیتے ہیں جن سے باقی لوگ خواب میں بھی ڈرتے ہیں، مولانا صاحب کبھی سیاست میں irrelevant ہوئے ہی نہیں، شاید اگلا الیکشن تحریک انصاف کیساتھ مل کر لڑیں یا شاید سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو، مجھے لگ رہا ہے عمران خان صاحب مولانا صاحب کے مقابلے میں علی امین گنڈا پور کو ٹکٹ نہیں دینے لگے باقی اللہ بہتر جانتا ہے
میرے آقا علیہ السلام کی ختم نبوت ھمارا ایمان اور اسلام کی روح ھے، پاکستان جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا اس مملکت کا وجود اور اسلام کی روح ختم نبوت لازم وملزوم ھیں جو اس کے خلاف سازش کا مرتکب ھوگا وہ اسلام اور پاکستان کے خلاف سازش کا مرتکب ھوگا
#ستمبر7_یوم_ختم_نبوت
#تاجدار_ختم_نبوت
#سالارتحریک_مفتی_محمود
#قادیانی_اسلام_دشمن
#قادیانی_احمدی_کافر
7 ستمبر 1974 کو آئین کی دفعہ 260 میں یہ الفاظ شامل کئے گئے “ہر فرد جو حضور صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کے بعد کسی مدعی نبوت کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہووہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں” یہ ایک متفقہ آئینی ترمیم تھی مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہ آیا
اب تو سرکار کے ایوانوں میں بھی کہا جا رہا ہے کہ ہاں، ہم اسی سال کی کمزوریوں کا نشانہ ہیں۔ بابا! کس کے ہاتھوں؟ تیرے ہی ہاتھوں!
جو لوگ کہتے ہیں کہ نظام فیل ہو چکا ہے، اور کسی ایک خاص زمانی کی بات نہیں کر رہا، میں تو اسی سالہ تاریخ کی بات کر رہا ہوں، تو ہم بھی آپ سے اسی سالہ تاریخ کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن یہ اسی سال کی تباہی تمہاری وجہ سے ہے، کسی اور کی وجہ سے نہیں۔
قتل حسین بھی اور ہائے حسین بھی، یہ نہیں چلے گا۔ ملک کو تباہ کرنے کی تم نے ذمہ داری تسلیم کر لی ہے، اب چھپتے کس چیز کے پیچھے ہو؟
نظام تبدیل کرو۔ نظام کون سا؟ جو اسی سال آپ کے قبضے میں رہا، اب مزید کوئی نیا طریقہ اپنے قبضے میں رکھنے کا۔
تو میں نے کہا، ظالموں! انگریز کے زمانے کے پڑے ہوئے سبق اور وہی روّیے، کم از کم وہ تو تبدیل کر لو۔ اپنے مخالفین کے خلاف رویّوں میں کوئی تبدیلیاں تو لاؤ۔ اگر میری حکومت ہے تو میرے مخالف جیل میں ہونا چاہیے، اگر مخالف کی حکومت ہے تو مجھے جیل میں ہونا چاہیے۔ یہ کوئی سیاست ہے؟ کسی دوسری دنیا میں بھی اس طرح ہوتا ہے؟ تو طریقے تو تبدیل کر لو۔ ذرا معلوم تو کر لو کہ ہماری معیشت کہاں کھڑی ہے۔
ہمارا امن و امان کہاں کھڑا ہے؟ ہمارے دو صوبے جل رہے ہیں۔ دیہاتوں میں عام آدمی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا، نہ وہ دکان پہ جا سکتا ہے، نہ بچوں کو سکول بھیج سکتا ہے، نہ کھیتوں میں جا سکتا ہے، نہ مزدوری کر سکتا ہے۔ دیہات خالی ہو گئے ہیں۔ کہیں تو زندگی گزارنی ہے۔
اور یہ کہتے ہیں، ہم بیس، پچیس سال سے آپریشن کر رہے ہیں۔ آپریشن پہ آپریشن، تو آپریشن پہ آپریشن! بھئی، کس چیز کا آپریشن؟ جتنا آپریشن کرتے ہو، مرض بڑھتا گیا۔ آپ کی حکمتِ عملی میں ڈیفالٹ کہیں، جھول ہے، کہیں کمزوری ہے۔
میری تنقید کو برا ماننے کی بجائے کہیں اپنی کمزوری بھی تو ٹٹولو۔ ایک دن ۔۔۔اپنے لیے صرف یہ کہ میرے اقتدار پر قبضہ کیسے رہے، بس! چاہے قوم برباد ہوتی رہے۔
ہم بھی مانتے ہیں ریاست اہم ہے، لیکن ریاست عوام سے بنتی ہے۔ عوام کے بغیر ریاست ایک خالی برتن ہے، خالی ڈول ہے۔ کیا حیثیت ہے اس کی؟
حکومت یہ لوگوں کے معاملات کا نظم و تدبیر، انتظام ہے۔ تو ریاست ہو، عوام ہو، حکومت ہو، ان تین چیزوں کے ساتھ ریاست مکمل ہو جاتی ہے۔
جہاں امن و امان نہیں ہے، وہاں معیشت کیا ہوگی؟
آج ہندوستان دنیا کی چوتھی معیشت بن گیا ہے، اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سات سو ارب کے لگ بھگ پہنچ گئے ہیں۔ اور ہمارے ہاں لوگوں سے خیرات مانگ کر کوئی دس گیارہ ارب جمع ہو گئے ہوں گے،۔
کہاں دس گیارہ، کہاں سات سو ارب ڈالر !
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا ضلع ساہیوال میں ورکرز کنونشن سے خطاب، 05 ستمبر 2026
تم جتنے مرضی چینلز بنا لو تم جتنے مرضی ان چینلز پہ کرائے کے لوگ بٹھا کر کردار کشی کروالو گالیاں دلوادو دشنام طرازی کروالو تم جتنے مرضی غداری کے فتوے جاری کروالو مولانا فضل الرحمن تمھارا حقیقی آمرانہ، آئین کو پاؤں تلے روندنے والا پارلیمنٹ کو لونڈی بنانے والا کرپٹ سےسیاستدانوں کو تحفظ دینے والا کالا چہرہ عوام کو دکھاتا رھے گا اور اسکا سرفروش کارکن اسکا اسی طرح دفاع کرتے ھوئے تمھارے اور تمھارے کرایہ داروں کے سینے پر مونگ دلتا رھے گا ان شاءاللہ
#حقیقی_رہنماء_مولانا
#ادارہ_یا_پروپیگنڈا_سیل
#کالے_چینلز_فلاپ
#پیڈ_چمچے
#بیوٹی_پالر_برگیڈ
تم جتنے مرضی چینلز بنا لو تم جتنے مرضی ان چینلز پہ کرائے کے لوگ بٹھا کر کردار کشی کروالو گالیاں دلوادو دشنام طرازی کروالو تم جتنے مرضی غداری کے فتوے جاری کروالو مولانا فضل الرحمن تمھارا حقیقی آمرانہ، آئین کو پاؤں تلے روندنے والا پارلیمنٹ کو لونڈی بنانے والا کرپٹ سےسیاستدانوں کو تحفظ دینے والا کالا چہرہ عوام کو دکھاتا رھے گا اور اسکا سرفروش کارکن اسکا اسی طرح دفاع کرتے ھوئے تمھارے اور تمھارے کرایہ داروں کے سینے پر مونگ دلتا رھے گا ان شاءاللہ
#حقیقی_رہنماء_مولانا
#ادارہ_یا_پروپیگنڈا_سیل
#کالے_چینلز_فلاپ
#پیڈ_چمچے
#بیوٹی_پالر_برگیڈ
مولانا کا دامن اجلا ہے، اس پر کالک ملنے کا شوق رکھنے والوں کو پہلے اپنے کرپشن اور بدعنوانی کے داغدار چہرے آئینے میں دیکھ لینے چاہئیں۔ 😏
#جےیوآئی_ورکرزکنونشن_پشاور
قبضہ گروپ کی سیاسی سرگرمیوں پر مولانا فضل الرحمن کی تنقید کا معقول جواب دے نہیں پاتے۔۔۔اس لئے جرنیل پرست صحافی مولانا فضل الرحمن کی سیاست کے حوالے سے بونگیاں مار کر مالکان کو راضی رکھنے میں لگے ہوئے ہیں
#جےیوآئی_ورکرزکنونشن_پشاور
مولانا نے پھر آئینہ دکھا دیا حالیہ ترامیم اور انہیں لانے والوں کا پوسٹمارٹم کر کے رکھ دیا اسلام آباد میں کنونشن سے خطاب میں وہ سب کُچھ کہہ دیا جس کا تصور بھی کوئی اور سیاسی رہنما نہیں کر سکتا کہتے ہیں
"آئین کے ساتھ کھلواڑ جاری ہے،جعلی پارلیمان کے ذریعے من مانی قانون سازیاں ہو رہی ہیں،ایک ادارے کے سربراہ کو مضبوط بنانے کے لیے ترامیم کی جا رہی ہیں،پارلیمنٹ اور کابینہ کا اختیار بھی اسٹیبلشمنٹ کو دے دیا گیا ہے ،اسے کہتے ہیں تسلط بالجبروت، ایسے لوگوں پہ لعنت فرمائی گئی ہے"
لگتا ہے کہ مولانا آسانی سے پیچھا چھوڑنے کے لیے تیار نہیں
@MoulanaOfficia
@juipakofficial
#رہبر_ملت_مولانا
#ہم_فرعونیت_کے_منکر
#ملک_عوام_کا_ہے
#تنخواہ_دار_مالک
#بدامنی_کا_حساب_دو
کہتے ہیں ریاست ماں ہے ۔ہمیں اللہ نے ایسی ماں عطا کی ہے جو قوم کی تقسیم و انتشار کی پالیسیاں بناتی ہے ۔ لڑاؤ اور حکومت کرو ۔ سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنا ،مدارس کی تنظیموں کو تقسیم کرنا ۔۔ہر جگہ لوگوں کو لڑانا۔ یہ حکمت عملی بنانا اگر یہ ماں ہے تو ایسی ماں پر لعنت !!! مولانا فضل الرحمان
پارلیمنٹ میں موجود اُن چند شخصیات میں سے ایک ہیں جن سے میں مختصر سی گفتگو کے لیے بھی بات کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ ان کی شائستگی، گفتگو میں وزن اور جس یقین و اعتماد کے ساتھ وہ بات کرتے ہیں، وہ مجھے سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔
میں جانتی ہوں کہ سیاست بالآخر طاقت کا کھیل ہے، لیکن ہمارے چند ہی بزرگ اور تجربہ کار سیاست دان ایسے باقی رہ گئے ہیں جنہوں نے اپنے لیے احترام کمایا ہے، چاہے آپ ان کے مؤقف یا نظریے سے اختلاف ہی کیوں نہ رکھتے ہوں۔
مولانا صاحب بھی انہی شخصیات میں سے ایک ہیں۔
نورین سلیم، خاتون صحافی
سیاست اور عدالت کے بعد اب صحافت پر بھی بُوٹ راج ہے۔۔۔ اکا دکا صحافیوں کے علاوہ باقی سب وردی والوں کی گائیڈ لائن کے مطابق قلمی نشانے مار رہے ہیں۔۔۔کچھ صحافی ایک گولی مار فوجی افسر کو محمد بن قاسم بنا رہے ہیں اور کچھ مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے جرنیلی پروپیگنڈے کو فروغ دے رہے ہیں
#سرکاری_چمچے_فلاپ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَلَعَنَهُمْ كُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٍ
چھ لوگ ہیں جن پر میں بھی لعنت بھیجتا ہوں اور اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اور ہر پیغمبر کی دعا قبول بھی ہوتی ہے
اس میں ایک ’’المتسلط بالجبروت‘‘ جو طاقت کی بنیاد پر مسلط ہوتا ہے۔