کریں: اللّٰهُمَّ اكْفِنِيْهِمْ بِمَا شِئْتَ (اے اللہ! جس طرح چاہے ان کے شر سے مجھے کافی ہو جا)- اور ہمیشہ یہ یقین رکھیں کہ اللہ حسد کرنے والوں اور تکلیف پہنچانے والوں کے مقابلے میں اپنے بندے کی حفاظت خود فرماتا ہے-
کبھی کبھی لوگوں کے سخت جملے دل کو چیر دیتے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ حسد، کینہ اور سخت الفاظ دراصل ان کے دل کی حالت کو ظاہر کرتے ہیں آپ کی حقیقت کو نہیں۔اللہ سبحان و تعالی نے ہمیں صبر اور درگزر کا راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے۔جب دل دکھے تو یہی دعا پڑھا
اسلامی عقیدے کے مطابق آخرت میں نجات کی بنیاد ایمان، توحید اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع ہے۔ نیک اعمال اس بنیاد پر قبول ہوتے ہیں۔ اگر انسان کفر یا شرک کی حالت میں دنیا سے چلا جائے تو اس کے اعمال آخرت میں جنت کے اجر اور نجات کا سبب نہیں بنتے۔