@ShohaazkarB ویسے بی این پی ھرنا سمیت ہر احتجاجی جلسہ کی byc حمایت کررہی ہیں تو آپ کی تکلیف سمجھ سے بالاتر ہیں بلوچستان میں پروٹیسٹ کرنا ان حالت میں اور باہر بگوڑا ہونے میں فرق ہیں محترم
میں تمام سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین، نوجوانوں، بزرگوں، مردوں اور عورتوں سے اپیل کرتا ہوں اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دنیا کو، اور ان لوگوں کو جو بیرکوں کے پیچھے چھپے بیٹھے ہیں، بتا دیں کہ ہماری ماؤں اور بہنوں پر ہاتھ ڈالنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اگر ہمیں گرفتار کیا گیا تو ہم پھر سے اٹھیں گے۔ اگر ہمیں شہید کیا گیا تو ہماری اگلی نسل ہماری جگہ لے گی۔ کوئی دھمکی، کوئی طاقت، کوئی جبر ہمیں نہیں روک سکتا: 6 اپریل کو صبح 10 بجے ہم کوئٹہ کی جانب اپنے مارچ کا دوبارہ آغاز کریں گے۔
ہم انصاف کے لیے مارچ کریں گے۔
ہم امن کے لیے مارچ کریں گے۔
ہم اپنے بھائیوں کے لیے مارچ کریں گے۔
اور سب سے بڑھ کر، ہم اپنی ماؤں اور بہنوں کی عزت کے لیے مارچ کریں گے۔
@MediaCellBNP_
آج میں اعلان کرتا ہوں کہ 6 اپریل کو صبح 9 بجے ہم کوئٹہ کی جانب اپنے مارچ کا آغاز کریں گے۔ ہم نے اس نااہل اور جعلی حکومت کو بارہا سمجھانے کی کوشش کی، مگر انہوں نے ہماری بات سننا تو دور، تسلیم کرنا بھی گوارا نہ کیا۔ اب ہماری آواز کوئٹہ کی گلیوں میں گونجے گی۔ ہمارا مارچ پُرامن ہے، اور اگر اس پُرامن احتجاج کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر عائد ہوگی۔ میں ہر بلوچ اور پشتون سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔
@MediaCellBNP_
میں وڈھ سے کوئٹہ تک ایک لانگ مارچ کا اعلان کرتا ہوں، جو ہماری بیٹیوں کی گرفتاری اور ہماری ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کے خلاف ہے۔
میں اس مارچ کی قیادت خود کروں گا، اور تمام بلوچ بھائیوں اور بہنوں، نوجوانوں اور بزرگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ اس مارچ میں ہمارے ساتھ شامل ہوں۔
یہ صرف ہماری بیٹیوں کی گرفتاری کا معاملہ نہیں، یہ ہمارے قومی وقار، ہماری غیرت، اور ہمارے وجود کا سوال ہے۔
جب تک ہماری ماہیں، بہنیں اور بیٹیاں محفوظ نہیں، ہم بھی خاموش نہیں رہیں گے۔
ہماری یہ تحریک پرامن ہے، ۔
ہم ظلم، جبر، اور ناانصافی کے خلاف نکلے ہیں،
اور جب تک انصاف نہیں ملتا، ہم رکیں گے نہیں۔
وڈھ سے کوئٹہ تک ہمارا مارچ صرف قدموں کا نہیں، ضمیر کا سفر ہے۔
جو خاموش ہے، وہ بھی قصوروار ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک آواز بن جائیں۔
تفصیلات اور اگلے اقدامات جلد شیئر کیے جائیں گے۔
جناب زرداری اور شریف صاحب، میں کبھی نہیں بھولوں گا جب مریم نواز اور فریال ترلپر کو سرِ عام رسوا کیا گیا، تب ہم آپ کے ساتھ کھڑے تھے۔ کیونکہ ہمارے لیے عزت سب سے پہلے ہے، اور عورتوں پر حملہ ہماری آخری حد ہے۔ ہم نے ہمیشہ عورت کی عزت پر سیاست سے بالاتر ہو کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ لیکن آج میری بیٹیاں سڑکوں پر دوپٹے کے بغیر گھسیٹی جا رہی ہیں، اور آپ نہ کہ خاموش بنے بیٹھے ہیں بلکہ اس گناہ میں برابر شریک ہیں۔ میں یہ کبھی نہیں بھولوں گا — یہ ایک بلوچ کا وعدہ ہے