تنخواہ ڈیوٹی کی ملتی ہے، جان کی نہیں سرحد پر موت کا سامنا کرنا کوئی نوکری نہیں، بلکہ وہ قربانی ہے جس کا بدلہ پیسے سے چکایا ہی نہیں جا سکتا شہید کی یہ بیٹی تصویر دیکھ کر اپنے باپ کو پُکار رہی ھے 1/2
#فضلو_معافی_مانگو
10/10
اب اگر طبی معائنہ بھی ہوگیا، میڈیکل بورڈ بھی موجود تھا، خاندان کی نمائندگی بھی موجود رہی اور قیدی کو طبی لحاظ سے فٹ بھی قرار دیا گیا تو پھر سوال یہ ہے کہ اعتراض آخر کس بات پر ہے؟ حقائق سامنے ہیں، باقی سیاسی بیانیہ اپنی جگہ۔
1/10
سزا یافتہ قیدی کا طبی معائنہ مکمل کرایا گیا۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بلا تاخیر ہسپتال میں تفصیلی طبی معائنہ کرایا۔ متعلقہ ماہرین اور میڈیکل بورڈ کی دستیابی سے عدالتی فیصلے کا بنیادی مقصد مکمل طور پر حاصل کیا گیا۔
9/10
معائنے کے دوران سزا یافتہ قیدی طبی لحاظ سے فٹ اور خوشگوار موڈ میں تھے۔ انہوں نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ اس کے باوجود کچھ حلقے یہ دعوی کرتے رہے کہ قیدی نے علاج اور ہسپتال میں قیام سے مکمل انکار کیا۔
8/10
تازہ طبی معائنے کے نتائج نے سزا یافتہ قیدی کی صحت مسلسل بگڑنے سے متعلق پی ٹی آئی کے بیانیے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر تمام انتظامات کے باوجود بعض ٹرولز اور یوٹیوبرز مطمئن نہیں تو شاید مسئلہ طبی سہولت نہیں بلکہ سیاسی سنسنی ہے۔
7/10
سزا یافتہ قیدی کی ہمشیرہ محترمہ عظمیٰ خان تمام طبی مراحل کے دوران موجود رہیں اور پورے عمل کی براہ راست گواہ ہیں۔ اس طرح طبی معائنے کی شفافیت اور خاندان کی نمائندگی، دونوں یقینی بنائے گئے۔ طبی عمل مکمل نگرانی میں انجام پایا۔
6/10
ماہر امراض چشم، ماہر امراض قلب اور فزیشن سمیت مکمل میڈیکل بورڈ موجود تھا۔ سزا یافتہ قیدی کا تفصیلی معائنہ کیا گیا اور انہیں طبی لحاظ سے مکمل طور پر فٹ قرار دیا گیا۔ شفا انٹرنیشنل کے بورڈ کا موجود ہونا بھی ظاہر کرتا ہے کہ طبی معائنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی گئی۔
5/10
کسی مخصوص نجی ہسپتال کی نامزدگی مستقبل کے لیے امتیازی اور نامناسب نظیر قائم کرسکتی تھی۔ اسی لیے سکیورٹی اور انتظامی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پمز میں طبی معائنہ کرایا گیا، جہاں مکمل طبی سہولیات اور متعلقہ ماہرین دستیاب تھے۔
4/10
یہ تاثر درست نہیں کہ صرف کسی مخصوص نجی ہسپتال میں ہی قابل اعتماد طبی معائنہ ممکن تھا۔ مروجہ طریقہ کار کے مطابق زیر حراست افراد کو سرکاری ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے، جبکہ سزا یافتہ قیدی کو ماضی میں بھی طبی معائنے کے لیے سرکاری ہسپتال لے جایا جاتا رہا ہے۔
3/10
سزا یافتہ قیدی کو پمز منتقل کرنا علاج یا طبی معائنے سے انکار نہیں تھا، بلکہ انہیں زیادہ محفوظ ماحول میں وہی طبی سہولت فراہم کرنا تھا۔ پمز ملک کا بڑا سرکاری و تدریسی ہسپتال ہے جہاں متعلقہ شعبوں کے مستند ماہرین اور مکمل طبی سہولیات دستیاب ہیں۔
2/10
الشفا انٹرنیشنل ہسپتال کے گرد پارٹی کارکنوں، مختلف گروہوں، میڈیا وینز اور نمائندوں کا غیر معمولی اجتماع موجود تھا، جس سے سکیورٹی، رازداری اور انتظامی خدشات پیدا ہوئے۔ ایسے حالات میں مقام تبدیل کرنا ایک ضروری اور دانشمندانہ فیصلہ تھا۔
شاید اصل مسئلہ یہی ہے کہ ڈرامے کا کلائمکس رپورٹ کے مطابق نہیں آیا۔ بگڑتی صحت کا بیانیہ طبی معائنے کے نتائج سے سوالات کی زد میں آ گیا۔ اگر کسی کو اپنی پسند کی کہانی ہی سنانی ہے تو پھر حقائق سے کیا بحث۔ سنتے جاؤ اور ہنستے جاؤ بس۔
6/6
طبی معائنہ مکمل، قیدی فٹ لیکن یوتھیوں کا ڈرامہ ابھی باقی ہے۔ سزا یافتہ قیدی کے طبی معائنے کو جس طرح بعض حلقوں نے قومی سانحہ بنا کر پیش کیا، آخرکار اس کا ڈرامائی انجام بھی سامنے آ گیا
1/6
اگر بیماری کا دعوی کیا گیا تو معائنہ ہو گیا۔ اگر میڈیکل بورڈ مانگا گیا تو ماہرین موجود تھے۔ اگر خاندان کی موجودگی پر سوال تھا تو نمائندگی بھی موجود تھی۔ اور اگر رپورٹ میں طبی طور پر فٹ ہونے کی بات سامنے آ گئی تو پھر مسئلہ کیا ہے؟
5/6
قیدی کو پمز منتقل کیا گیا، جہاں متعلقہ ماہرین اور طبی سہولیات دستیاب تھیں اور معائنہ مکمل کیا گیا۔ یعنی نہ علاج رکا، نہ میڈیکل بورڈ غائب ہوا اور نہ طبی معائنہ منسوخ ہوا۔ پھر مسئلہ کیا رہ گیا؟
4/6
الشفا انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر پارٹی کارکنوں، میڈیا وینز اور مختلف گروہوں کا غیر معمولی ہجوم جمع ہوا تو سکیورٹی اور انتظامی خدشات پیدا ہونا فطری تھا۔ مقام کی تبدیلی کو علاج سے انکار قرار دینا ایک سیاسی کہانی گھڑنے کے مترادف تھا۔
3/6
حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں طبی معائنے کا انتظام کیا۔ متعلقہ ماہرین اور میڈیکل بورڈ موجود رہا، تفصیلی چیک اپ ہوا اور طبی رپورٹ کے مطابق قیدی کو فٹ قرار دیا گیا۔ پھر بھی سوشل میڈیا پر صحت بگڑنے کا بیانیہ جاری رہا۔
2/6
شرکا نے بلوچستان اور پاکستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور تمام بیرونی خطرات کے خلاف ریاست اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔ شرکا نے عوامی مرکزیت پر مبنی ترقی کے ذریعے ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال بلوچستان کے قیام کے لیے اپنا کردار
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان کی سیاسی قیادت اور اہم شخصیات سے ملاقات میں کہا کہ بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ہمیشہ ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان باصلاحیت، محنتی، محب وطن اور باوقار لوگوں کی سرزمین ہے
انہوں نے بلوچستان کی اہم شخصیات اور سماجی رہنماؤں کے امن کے فروغ، سماجی ہم آہنگی اور مثبت قومی مکالمے کے لیے کردار کو سراہا۔ انہوں نے زور دیا کہ منفی پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیا جائے، جھوٹے بیانیوں کو بے نقاب کیا جائے اور بلوچستان کی حقیقی صلاحیت، ترقی اور عوام کی امنگوں کو اجاگر
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسیز ہیں، جنہیں دشمن عناصر بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے، اس کی ترقی روکنے اور ریاست و عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔