فضل الرحمان کو مارکیٹ چھوڑا گیا ہے فضل الرحمان فکسڈ میچ کھیل رہے ہیں فضل الرحمان کو اس لیے چھوڑا گیا ہے کیونکہ تحریک انصاف کی قیادت نے خود کو عمران خان سے distance کر لیا ہے چوہدری صاحب چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی دی ہوئی space فضل الرحمان capture کر لیں اور اس کے لیے چوہدری صاحب کے خلاف ہی بیان بازی کرنا ہو گی آنے والے دنوں میں فضل الرحمان کھیل میں شدت بھی لائی جائے گی ۔
ڈاکٹر شہباز گل
مولانا صاحب نے آدھی بات کہی
کہ پارلیمنٹ اسٹیبلشمنٹ کی لونڈی ہے
حضور وہاں لونڈیاں ہی نہیں لونڈے بھی ہیں
اس لئے اس پارلیمنٹ سے باہر نکل آئیں 26 اور۔ 27ویں ترمیم میں آپ ہی انکے ساتھ تھے اور 28 ویں میں ابھی آپ انکے ساتھ ہونگے ۔
لات ماریں ۔ لات مارنے کا ڈرامہ نہ کریں ۔
فہد کی کہانی
ملٹری کورٹ سے 9 سال کی سزا
7 مئی کو دیے گئے مختصر فیصلے میں سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ 45 دن کے اندر پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کرے تاکہ ان سویلین افراد کو فوجی عدالتوں میں مقدمات کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کا حق دیا جا سکے۔
اس فیصلے کو چودہ ماہ گزر چُکے ہیں۔
فہد کے بوڑھے والدین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
#ہمیں_اپیل_کا_حق_دو
#خاموش_صدائیں
#khamosh_sadayen
عمران خان کسی تختی کا محتاج نہیں لیکن مزاحمت کا تقاضا ہے کہ تختی پہ عمران خان کا نام ہونا چاہیئے کیونکہ جو طاقت ور بدمعاش ہے وہ عمران خان کے نام کا مخالف ہے اور جب وہ مخالف ہو تو تختی پہ نام ہر صورت ہونا چاہیئے!
تحریک کی بھرپور تیاری ہم سب پہ فرض ہے۔ عام لوگ اپنی مرضی سے نکلنا شروع چکے ہیں۔ عمران خان کا یم سب پہ اس سے کہیں زیادہ حق ہے لیکن یہ بات صرف خان کی رہائی کی نہیں بلکہ خود اپنی آزادی کی ہے
اللہ نے ہمیں آزاد پیدا کیا ہے، ہم کبھی غلامی قبول نہیں کر سکتے
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدا�� بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر ک�� کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان ��ی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ ع��ران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ ع��ران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
سٹریٹ موومنٹ میں سب لوگ بھرپور شرکت کریں۔ ان شاء اللہ ورکرز کے اعتماد کو بحال کر کے ہمیں اس تحریک کو آگے بڑھانا ہے۔ اللہ کے نام سے ابتدا کریں اپنے اپنے علاقوں میں۔ نیک نیتی سے شروع کئے گئے ہر کام میں اللہ کی برکت شامل ہو جاتی ہے۔ لوگ خود آپ سے جڑنا شروع ہو جائیں گے
”پی آئی اے جسے فوجی فرٹیلائزر نے صرف 10 ارب روپے میں خریدا، اس کو پی آئی اے کی 14 ارب مالیت کی پراپرٹی ٹرانسفر کر دی گئی ہے۔ گویا جرنیلوں نے بھی ایسے لوٹ مار شروع کر رکھی ہے وقت کم رہ گیا ہے، جتنا ہاتھ آتا ہے لوٹ لیا جائے۔ ایک طرف لوٹ مار ہے تو دوسری طرف بلوچستان میں لواحقین کئی دنوں سے لاشیں رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں۔“ @SHABAZGIL
حکومت کو اب اعلان کردینا چاہیے کہ ہم ڈیفالٹ کر چکے ہیں کیونکہ ڈیفالٹ کی ساری نشانیاں پوری ہو چکی ہیں۔
اگر قرضہ جی ڈی پی کا 50 فیصد ہو جائے تو یہ ڈیفالٹ کی علامت ہے جبکہ ہمارا قرضہ جی ڈی پی کا 70 فیصد ہو چکا ہے ۔ ماہر معیشت حسن ظفر
عمران خان کو عاصم منیر کی جیل میں جھوٹے مقدمات میں بیگناہ قید ہوئے 1075 اور بشریٰ بی بی کو 809 دن ہو چکے ہیں، عمران خان پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ظلم و جبر مسلسل جاری ہے اور انہیں پچھلے 9 ماہ سے شدید گرمی میں چھوٹی سی کال کوٹھڑی میں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، عمران خان سے ان کی فیملی، ذاتی معالجین ا��ر وکلاء سے ملاقاتوں پر پابندی ہے، عاصم لا کے تحت گزشتہ آٹھ ماہ سے اسٹیبلشمنٹ کی بدترین قید تنہائی اور بر وقت علاج نہ ہونے کے باعث عمران خان کی ایک آنکھ کی 85 فیصد بینائی ضائع ہو چکی ہے۔
#ReleaseImranKhan
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
فضل الرحمن نے اپنی پوری زندگی میں کبھی گرم زمین پہ پاؤں نہیں رکھا۔2018 میں فضل الرحمن پی ڈی ایم کا سربراہ بھی جرنیلوں کے اشاروں پہ بنا۔ 2019 میں دھرنا دے کر باجوہ کی ایکسٹینشن کروائی۔بعد میں مولانا نے خود بتایا کہ اس دھرنے کے پیچھے جنرل فیض تھا۔ فوج چاہتی ہے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اپنے بندے کے پاس رہے تو ذیادہ اچھا ہے ورنہ عمران خان تو کھا جائے گا ہمیں ۔
دوسرا اگر فوج نے اس حکومت کے پاؤں اکھاڑنے ہیں تو اس لیے بھی فضل الرحمن استعمال ہو گا۔ کیونکہ فوج نے اپنا صدر اور محسن نقوی کو وزیراعظم بنانا ہے۔ مولانا نے جسطرح پچھلے دس سال فوج کے سہولت کاری کی ہے اب بھی کرے گا۔
پاک فوج باقاعدہ مذہبی جماعتوں ، علاقائی طاقتوروں اور چھوٹے چھوٹے گروہوں کو آفر کررہی ہے کہ اسلحہ لو ، لشکر بناؤ اور فلا�� سے بھی لڑو فلاں سے بھی لڑو۔ یعنی پاک فوج اب لڑائی بھڑائی والا کام ٹھیکے پر دے کر اپنی پوری توجہ ملک کو برباد کرنے پر کرنا چاہتی ہے۔
چچا نصرت جاوید کے نام
چچا آپ گزرے دور کے چلتے دماغ والے چند آخری آدمیوں میں سے ہیں ، آپ کے ہم عصر یا رہے نہیں اگر ہیں تو توازن کھو بیٹھے ہیں۔ اگر رات کے اوق��ت میں چچا اور یوتھیوں کی لڑائی ہوجایا کرتی تھی یا ہوجایا کرتی ہے تو کوئی بڑی بات نہیں ، یوتھیوں کا خون گرم اور چچا کا شربت گرم بہرحال چچا کا احترام اپنی جگہ قائم۔
چچا آپ نا تو لفافہ صحافی ہیں ، نا ہ�� عہدوں کے طلبگار رہے اور نا مال بنایا۔ اپنے نظریات پر بھی جمے رہے۔ دیہاڑی بازوں کی طرح حالات اور وقت کی چادر نہیں اوڑھی۔ اخبار ، ٹی وی ، سوشل میڈیا ، ہر میڈیا پر رائے کو اہمیت حاصل ہے یا رہی۔ لیکن ایک انسانی مسئلہ بہرحال لاحق ہے ، ذاتی پسند نا پسند ، وہی جو میری بھی ہے اور آپکی بھی۔ سپورٹس میں بھی ، فلمی اداکاراوں میں بھی سیاست میں بھی۔
اب چچا آپ بتارہے ہیں کہ ہر چیز سے مایوس ہوچکے ہیں۔ تمام سیاستدانوں سے مایوس ہیں سب ایک جیسے ہیں۔ اب آپ کے پاس دو رستے ہیں۔ یا تو وہ سارے سچ اگل دیں جو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں یا پھر خاموشی سے قبر میں اتر جائیں۔ پہلے آپشن پر جانے کی صور�� میں جانتے ہیں کہ آپ کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔
چچا آپ جانتے ہیں یہاں سچ وغیرہ کچھ نہیں ہوتا۔ یہاں سب پرسپیکٹوز ہوتے ہیں۔ بہت زیادہ امکان ہے جن لہروں کو آپ تلاطم خیز سمجھے بیٹھے ہوں وہ سمندر میں ہلکا سا اتعاش بھی پیدا نا کرپائیں۔ ہوسکتا ہے دو چار دن لے دے ہو آپ کو ہلکا پھلکا گھسیٹا دے کر چھوڑ دیا جائے اور بات پھر آئی گئی ہوجائے۔ کسی کو کیا فرق پڑتا ہے۔
چچا آپ مانیں یا نہ مانیں فی الحال ہمارا بابا اوپر ہے۔ آپ جنکی زلفوں کے اسیر رہے یعنی جنہیں پسند فرماتے رہے وہ اسی عطار کے لونڈے سے اغلام بازی کرتے رہے۔ ہمارے بابا نے ایک بار بیماری کے بعد عطار کا دواخانہ الٹ دیا ہے اور وہ تمام پھکیاں کھانے سے انکار کیا ہے جو لونڈے نے آفر کیں۔ چچا جس افلاس ، شکستگی اور تکلیف سے بچنے کے لیے آپ سوچ رہے ہیں کہ مکمل سچ بولیں یا نہ بولیں ہمارا بابا وہ سارے سچ بول چکا اور اس سب سے کہیں زیادہ بھگت چکا جن سے آپ خوفزدہ ہیں۔
چچا یہ وہ باتیں جو آپ کو پسند نہیں آئیں گی۔ دلائل آپ کے پاس بھی بہت ہوں گے۔ اپنے حق میں ہر کسی کے پاس ہوتے ہیں۔ لہذا ان ساری باتوں کو دفع کریں۔ اگر فرصت اور طبیعت کا ساتھ ہے تو کوئی شاہکار سی کتاب لکھ ڈالیں۔ اگر زادراہ ہے تو نیوز چینل کے طے شدہ شیڈول کو گولہ ماریں اپنی وقت کے خود مختار بنیں ، اپنا یوٹیوب چینل کھولیں ۔ جب موڈ ہو ولاگ کرلیا نا ہو تو رہنے دیا۔ زندگی کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہونا آپ جانتے ہیں۔ ان میں مگن رہیے۔
دوران تحریر آپ اپنے تڑاخ تڑاخ ادھر ادھر ہوائی فائرنگ کررہے تھے۔ آپ نے انکل کہنے پر ایک بھائی کے لتے لیے۔ ہم نے چچا لکھ دیا سو لکھ دیا ، اب ایڈٹ نا ہووے۔ ایک جگہ آپ نے سچ بولنے کا کہنے والے بھائی صاحب کو فرمایا ہے کہ “ بدلے میں سترہ سال کی سزا کاٹ لوں اور بھلا دیا جاؤں “ ، یعنی آپ کو پتہ ��ے کہ آپ پہلا آپشن نہیں لینے والے۔ چچا اس عمر میں خوراک ہضم نہیں ہوتی ، توجہ بٹ جاتی ہے ، جسم تھک جاتا ہے ، انسان حقیقتا چڑچڑا بھی ہوجاتا ہے ، یعنی اب یہ مسئلے مسائل چلیں گے۔ تو بس پھر جتنا ہوسکے پریشانیوں سے دور رہیں۔
یہ سراسر جھوٹ ہے کہ احتجاج کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی کو دی گئی ہے۔ ان سے صرف مشاورت کا کہا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی ہم خود ہیں اور تحریک چلانے کا اچکزئی صاحب سے کہیں؟ یہ شرم کا مقام ہے! جان بوجھ کر یہ کنفیوژن پھیلائی جاتی ہے۔ ان کا مینڈیٹ مذاکرات کا ہے،یہ واضح اور انتہائی غیرمبم حقیقت ہے۔
دوسری بات یہ کہ خان صاحب محمود اچکزئی صاحب کے نہیں، پی ٹی آئی کے لیڈر ہیں۔ ان کی فکر ہمیں کرنی ہے، کسی اور کو نہیں۔ دوسروں کے کندھوں کا سہارا لینا بند کر دیں، اپنی ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پر مت ڈالیں
آپ نے اگر عمران خان کی زندگی بچانی ہے، یہ سپریم کورٹ اگر آپ کو کوئی ریلیف نہیں دے سکتا، تو آپ کے پاس اور کوئی اور راستہ نہیں ہے کہ:
نکلو عمران خان کی خاطر!
نکلو پاکستان کی خاطر !
#ReleaseImranKhan
عمران خان کے حکم کی دھجیاں اڑا دی گئیں ۔ جھوٹ بول کر گمراہ کیا گیا۔ سال پرانے احکامات۔ مراعات وآپس کرنے کے لیے بھی عمران خان نے محمود اچکزئی اور علامہ سے مشاورت کا بولا ہوگا شاید؟ گوہر، سلمان راجہ ، شاہد خٹک ، عامر ڈوگر ذمہ داران