ابھی تک عمران خان کی ملاقات سے بیرسٹر گوہر کا بیان “ ہدایات پہنچ گئی ہیں ان پر عمل در آمد ہوگا “ ہی برآمد ہوا ہے۔
یعنی خفیہ ملاقات کے خفیہ پیغام پر خفیہ عمل در آمد وہ بھی تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے ، حد ہوگئی۔
تقریباً 48 گھنٹے پہلے میں نے خبر دی کہ سپیکر KP بابر سلیم سواتی کو سینے میں شدید درد (ممکنا ہارٹ اٹیک ) کی وجہ سے CMH میں لایا گیا۔
مجال ہے اس خبر پر کسی نے کوئی ٹوئیٹ کیا ہو۔ کیونکہ سپیکر کا کوئی گروپ نہیں ہے۔ گروپ ہوتا تو طوفان مچا ہوتا۔
میرا سوال ہے کیا سپیکر KP ہمارا حصہ نہیں ؟ کیا اس کے لئے آواز اٹھانا ہمارا فرض نہیں۔
اب انہی گروپوں کے کئی مہرے اس ٹاپک کو تبدیل کریں گے اور حقیقت کو نظر انداز
آپکو لگتا ہے کہ پاک فوج کسی نیک نیتی سے یا کسی مثبت سوچ کیساتھ عمران خان کیساتھ کسی “اہم شخصیت “ کی ملاقات کی خبریں پھیلا رہی ہے اور مبینہ طور پر یہ اہم شخصیت مولانا طارق جمیل ہوں گے ؟
یہ ملاقات کا شوشہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی جیسا ڈرامہ بھی ہوسکتا ہے اور کسی بڑے ایونٹ سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ بھی۔ عمران خا�� کے نام سے من مرضی کا کوئی پیغام دینا بھی اور بلاوجہ کی ٹھنڈی ہوائیں بھی۔
فوج ایسی خبریں ہمیشہ تب پھیلاتی ہے جب فوج مشکل میں ہو۔ اسکے علاوہ فوج کیا کھچڑی پکائے گی دکھ جائے گا۔ البتہ عمران خان کا کسی قسم کا سیاسی پیغام یا بیان کسی گوہر یا طارق جمیل یا کسی بھی ��خص کا لایا گیا قبول بھی نہیں ہوگا مقبول بھی نہیں ہوگا۔
ساتھ ہی ساتھ یہ بھی نوٹ فرما لیں کہ مولانا طارق جمیل عاصم منیر کی گڈ بکس میں نہیں ہیں لہذا مولانا کی ملاقات ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ عمران خان قید تنہائی میں ہے بہنیں نظر بند ہیں۔ کسی بھی قسم کے جھانسے میں آنے سے پرہیزکریں۔
واللہ اعلم
جس ملک میں مجیب الرحمٰن شامی، انصار عباسی، عرفان صدیقی، ابصار عالم، سہیل وڑائچ، سلیم صافی، طلعت حسین، رؤف کلاسرا، نجم سیٹھی، منیب فاروق، کامران شاہد، عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی، حسن ایوب، کامران خان، جاوید چوہدری، نصرت جاوید وغیرہ جیسے صحافی ہوں وہاں ہزید بھی ولی قرار پاتا ہے، ان کی ساری زندگی بے شرمی سے بھری پڑی ہے، انہوں نے اپنی زندگی میں جب بھی لکھا لفافوں، سرکاری مراعات، پلاٹ، پیٹرول پمپس و سرکاری عمارتوں کی لیزوں، اپنی اولادوں کی ناجائز ذرائع سے بھرتیوں، بیرونِ ملک کے مفت دوروں کے لالچ میں لکھا، اس کے علاؤہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی کام نہیں کیا، جب لکھا جھوٹ لکھا جب کھایا حرام کھایا۔
یہ سن لو لوگوں لا الہ الا اللہ کا مطلب کیا ہے یہ سنائو عاصم منیر کو اور اسکے پجاریوں کو کوئ انسان کسی انسان کو غلام نہیں بنا سکتا اپنے قانون نہیں نافض کر سکتا قانون اللہ کے چلیں گئیں بس
🚨 Breaking News | Tehran, Iran
Reports indicate that Pakistan’s Ambassador to Iran, Imran Ahmed Siddiqui, has reportedly been attacked in Tehran, the Iranian capital.
According to reports, he had been invited to attend a gathering when several individuals allegedly attacked him during the event.
Following the incident, he was taken to a nearby hospital for medical treatment.
Further details about the incident are awaited.
پیارے بچو اور پیاری بچیو ! ہم لوگ اپنے دور کے جنزی ہی تھے۔ اندازہ کریں ان جیسے تبصرہ پاڑوں کے ہوتے ہوئے ہم نے چھوٹے سے اِتو سے سوشل میڈیا کی مدد سے ٹو پارٹی سسٹم توڑا۔ حامد میر ، عاصمہ شیرازی ، نجم سیٹھی ، نصرت جاوید ، جاوید چوہدری ، شامی صاحب یہ سب لوگ پرائم ٹائم شوز کرتے تھے۔ الیکٹرانک میڈیا اپنے عروج کا وقت گزار رہا تھا۔ یہ مردہ سیاسی کھوتے نواز شریف کو آج ٹاکی پھیرنے سے باز نہیں آتے اندازہ ��یجیے تب کیا کرتے ہوں گے۔ ایک بابا جی ہارون الرشید تھے جو اپنی نستعلیق اردو سے کپتان کے قصیدے پڑھتے۔ ہم ہواؤں سے لڑے ، بلاؤں سے لڑے ۔ ہم نے انکے بیانیے الٹا دیے ، ہم نے ان کا انفلوئنس ختم کردیا دیا۔ ہم نے ان کے ہاتھ سے وہ طاقت چھین لی جو رائے عامہ کو کنٹرول کرتی ہے۔
ان کو جب جب موقع ملتا ہے ، یہ اپنا دکھ پیٹتے ہیں۔ تھوڑی سی گنجائش ملتی ہے ان کا وہ زہر باہر نکل آتا ہے۔ رجیم چینج کے وقت بھی یہی ہوا ، آج بھی یہی ہوتا ہے اور آئندہ بھی یہئ ہوگا۔ اسی لیے ان کا منہ دیوار میں دے کر رکھنا ضروری ہے۔ جیسے ہی یہ پیچھے مڑ کر دیکھیں ہلکا سا دبائیں تاکہ یہ منہ پھر دیوار کی طرف کرلیں۔ حامد میر والا چیپٹر بند کردیتے ہیں۔ حامد میر صاحب بھلے آدمی ہیں۔ بس انہیں رجیم چینج کے وقت وہم ہوگیا تھا کہ بیانیے وغیرہ ، مقبولیت ، ان کا الیکٹرانک میڈیا کنٹرول کرتا ہے۔ اس لیے بہت زیادہ سپیڈ پکڑ لیے۔ فوج نے صحافی اور سیاستدان فرنٹ پر رکھے۔ آئندہ بھی رکھے جاتے اگر یہ لوگ کامیاب ہوجاتے۔
پیارے بچو اور بچیو ! اللہ نے ان سب کا یہ وہم نکالا۔ اللہ کی م��ربانی سے یہاں انفلوئنس بفیضان نظر عمران احمد خان نیازی مدظلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک اللہ چاہے گا یہ عمران خان اور آپ کے بس میں ہوگا جب اللہ چاہے گا اسے اٹھا لے گا۔
وما علینا
Thank you so much for your sacrifice. Your mother and her sisters standing tall with bravery courage and determination. Living up to their brother’s commitment and resolve for Pakistan. This family keeps fighting for justice no matter what they face. Pakistan is proud of all of you.
احد خان کے پریس آنگلش سب ٹائٹل کے ساتھ!!
اسوقت پوری دنیا میں احد خان کے پریس کانفرنس کو دیکھا جارہا ہے, یہ پریس کانفرنس اب پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ پر ہے!!♥️🔥