ہنزہ سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی سیاسی بے وفائی پر ہم اپنے تمام ووٹرز، سپورٹرز اور کارکنان سے دلی معذرت خواہ ہیں۔ عوام نے جس اعتماد اور امید کے ساتھ ووٹ دیا، اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے کارکنان اور ووٹرز کے جذبات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس سیاسی دھوکے کی شدید مذمت کرتی ہے۔
گزشتہ روز ہماری فیملی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں خیبر پختونخوا کے وزراء سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں عمران خان کے تمام قانونی اور جائز جیل حقوق کی بحالی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزراء نے درج ذیل پیش رفت سے آگاہ کیا:
1۔ کوئی اضافی (سرپلس) بجٹ نہیں ہوگا، کیونکہ عمران خان نے ہمیشہ ہدایت دی ہے کہ تمام دستیاب وسائل خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی، فلاح و بہبود اور خوشحالی پر خرچ کیے جائیں۔
2۔ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کی جانب سے طلب کردہ 175 ارب روپے کی منتقلی کے لیے کسی بھی معاہدے پر اس وقت تک دستخط نہیں کرے گی جب تک کہ درج ذیل مطالبات پورے نہیں کیے جاتے:
• خیبر پختونخوا کو ضم شدہ اضلاع (سابق فاٹا) کے لیے موجودہ مالی سال کا مکمل حصہ فراہم کیا جائے، جو تقریباً 300 ارب روپے بنتا ہے۔ یہ فنڈز ضم شدہ علاقوں کی معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔
• عمران خان کے تمام قانونی اور جائز حقوق مکمل طور پر بحال ہونے تک کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں کیے جائیں گے، جن میں شامل ہیں:
1۔ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا مکمل طبی معائنہ، تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔
2۔ عمران خان کی گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری غیر قانونی تنہائی اور عملی طور پر سولیٹری کنفائنمنٹ کا فوری خاتمہ کیا جائے، جس میں:
الف) ہر ہفتے 6 اہلِ خانہ، 6 وکلاء اور 6 دوستوں (سیاسی ساتھیوں) سے ملاقات کا حق فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ب) ان کے بیٹوں کے ساتھ ہفتہ وار ٹیلیفونک رابطے کا حق فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ج) کتابوں، اخبارات اور دیگر مطالعے کے مواد تک ان کی رسائی فوری طور پر بحال کی جائے۔
یہ کوئی خصوصی مراعات نہیں بلکہ بنیادی قانونی اور انسانی حقوق ہیں، جن کا احترام اور فوری بحالی مزید کسی تاخیر کے بغیر یقینی بنائی جانی چاہیے
رانا تنویر سے میں کہنا چاہتا ہوں، کہ شیخوپورہ عمران خان کا گڑھ ہے،
اگر شیخورہ میں ہم اپنا کونسلر کھڑا کر دیں تو وہ بھی آپ سب کو ہرا دے گا، کیونکہ پورا پاکستان عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے، بیرسٹر گوہر علی خان
عمران خان نے کہا کہ یہ ملک بھی میرا ہے یہ فوج بھی میری ہے، شفیع جان
اس فوج کی دھجیاں بھی تو اڑا دی، آگے بڑھو ، اگر بجٹ پاس کرائیں گے تو ملاقات کیلئے جدوجہد کریں گے، فیصل واوڈا
پولیس کو ہر وہ راستہ معلوم ہوتا ہے جہاں سے پی ٹی آئی کا قافلہ گزرتا ہے، مگر پولیس کو وہ راستہ معلوم نہیں جس سے ایک خودکش بمبار اسلام آباد میں داخل ہو کر مسجد میں خود کو دھماکے سے اڑا دیتا ہے۔ ساری پولیس کو پاکستان تحریک انصاف کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ انہیں ہمارے گھروں کے پتے معلوم ہیں، ہمارے لاجز کے نمبرز معلوم ہیں، اور پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کے ہر ایم این اے کا گھر معلوم ہے، مگر انہیں کسی دہشت گرد کا سراغ معلوم نہیں، کیونکہ پولیس کو سیاسی بنا دیا گیا ہے۔ وہ اپنا اصل کام بھول چکی ہے، اور اسی وجہ سے دہشت گردی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے،سہیل سلطان
آزاد سینیٹر فیصل واوڈا کی شیخ رشید سے بڑی پیشگوئی۔۔۔۔
میں پیشن گوئی کر رہا ہوں کہ مجھے آئندہ کے سیاسی منظر نامے میں یا تو سب ایک کنٹینر پہ نظر آ رہے ہیں یا سب ایک کنٹینر کے اندر نظر آر ہے ہیں، فیصل واوڈا
ہم چاہتے ہیں کہ امریکی اسرائیلی اور ایرانی اپنے گھروں میں محفوظ رہیں لیکن ہم نے پاکستان کا کیا حال بنا دیا ہے کرم میں اپنے گھر میں موجود ماں بیٹا دو بہنیں 4 لوگ ڈرون حملے میں مار دیے گئے پاکستانیوں کو کون محفوظ رکھے گا ۔
عمران ریاض خان
ہم نے ہمیشہ کہا کہ کشمیریوں پر بھارتی فوج ظلم کررہی ہے لیکن آج وہی سب پاکستان میں دہرایا جارہا ہے۔ آپ کب تک 'را کے ایجنٹ' یا 'فتنہ الہندوستان' کے لفظ پر گزارہ کریں گے؟ مولانا فضل الرحمان