حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
اے فاطمہ ! اپنی قربانی ( کے جانور ) کے پاس کھڑی ہو جاؤ اور اس کی قربان ہوتے ہوئے دیکھو ، کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتے ہی تیری زندگی کے تمام گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا ۔
اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی اس غرض کے لیے مقرر کی ہے کہ وہ ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے ہیں ۔ لہذا تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے ، چنانچہ تم اسی کی فرمانبرداری کرو ، اور خوشخبری سنا دو ان لوگوں کو جن کے دل اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں
(سورۃ الحج : 34)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اور عید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ ( عید گاہ سے ) واپس نہ آ جاتے۔
(سنن ابن ماجہ،۱۷۵۶)
رسول اللہ ﷺنےفرمایا:
کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو ، وہ ( اپنے بندوں کے ) قریب ہوتا ہے ۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کی بناء پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے : یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟۔
(صحیح مسلم، باب:عرفہ کے دن کی فضیلت،۳۲۸۸)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا یار سول اللہ ﷺ!
اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟ آپ ﷺنے فرمایا:
پڑھو:
«اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي »
(ترمذی،۳۵۱۳)
بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا چیز ہے؟ شبِ قدر ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ اُس میں فرشتے اور رُوح اپنے پروردگار کی اجازت سے ہر کام کے لئے اُترتے ہیں، وہ رات سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔
﴿سورۃ القدر﴾