ایک صوفی کا تقویٰ مشہور تھا۔ بادشاہ نے بلوا کر قاضی بنا دیا۔ صوفی نے بہت کہا کہ " میری دنیا اور ہے اور دنیا کا قانون اور ہے۔" خیر صوفی قاضی مقرر ہوا تو پہلے مقدمہ قتل کا تھا۔ سر عام بازار میں قتل ہوا تھا اور قاتل خود اعتراف جرم کر رہا تھا۔
صوفی ��اضی نے ملزم سے نام پوچھا تو قاتل نے کہا کہ " جناب ! میرا نام اللہ بخش ہے۔" یہ سننا تھا کہ صوفی قاضی نے چیخ ماری اور غش کھا گئے۔ ہوش آیا تو قاتل کو بری کر دیا اور فرمایا کہ
" جسے اللہ بخش دے ، اسے میں کیسے سزا دے سکتا ہوں۔"
نواز شریف صاحب کا نام "نواز" بھی ہے اور "شریف" بھی۔ اب قاضی صاحب بھی غش کھائے بیٹھے ہیں کہ جسے اللہ نے شرافت سے نوازا ہو اسے میں کیسے سزا دے سکتا ہوں ۔۔ ۔
لہٰذا بس اب بری کرنا باقی ہے 😂😂😂