مسلم لیگ نون کہ جو کبھی اسٹیبلشمنٹ اور کبھی پیپلز پارٹی پہ الزام لگاتی تھی کہ ملک کے لیے سیکورٹی تھریٹ ہیں، مجھے آج یہ کہنے دیں کہ ملک کی سلامتی کے لیے یہ خود بہت بڑا تھریٹ بنتے جا رہے ہیں، ڈان نیوز کے بیورو چیف افتخار شیرازی کا انٹرویو، مکمل سننے کیلئے لنک پر کلک کریں
https://t.co/EU3P3aQjd0
پاکستان میں ایسا کیا ہے کہ وہ ہر طرح کے قانون توڑ رہے ہیں
عمران خان کے آئی ویژن اور عمران خان کی صحت پر house of Lord کے اندر بہت سخت ڈیبیٹ ہوئی اور یہ کہا گیا کہ پاکستان میں ایسا کیا ہے کہ وہ ہر طرح کے قانون توڑ رہے ہیں
حکومت بتاتی ہےاسلام آباد محفوظ ہے،مگر عمران خان کےلیےمحفوظ نہیں تھا۔ دعوی ہےکہ پی ٹی آئی کےلیے لوگ نہیں نکلتے مگر کل اتنے لوگ نکل آئےکہ عمران خان کو شفاء اسپتال لے جانا ممکن نہیں تھا۔عدالتی حکم پر عمران خان کے ذاتی معالج کو ان کا معائنہ نہیں کرنےدیا گیا؟
خبر یہ ھے کہ عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر توہین عدالت کی درخواست میں وزیر داخلہ محسن نقوی کو فریق نہیں بنایا گیا۔ درخواست میں کہا گیا ھے کہ وزیر اعظم شہباز شریف توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ باقی سمجھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں ۔۔۔۔
Dr Faisal was kept in police custody between 8.30 pm on Thursday evening (outside Adiyala jail) till 4.30 Friday morning (Shifa hospital) - for 8 long hours without even once taking him to examine Imran khan even for a minute.
This despite clear written judgment of the SC. Such is the brutality and fascism of this government
آج ہنگو میں عوام کی بہت بڑی تعداد نے نکل کر پیغام دے دیا ہے کہ لانگ مارچ کے حوالے سے ان کی تیاریاں مکمل ہے اور جذبہ 24 نومبر سے بھی زیادہ ہے
اب پنجاب کے ہر ضلع و تحصیل میں بھی street movement شروع کرنے کی ضرورت ہے
لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا سپریم کورٹ کے واضح احکامات کی کھلی خلاف ورزی پر شدید ردِعمل۔
عدالتی احکامات کی خلاف ورزی آئین، قانون اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے۔ ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی ہونی چاہیے اور سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
پاکستان بار کونسل کے 8 معزز اراکین کی حکومت کیطرف سے سپریم کورٹ کے عمران خان کی شفا انٹرنیشنل ھسپتال منتقلی کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر شدید مذمت۔
سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن اور پاکستان بار کونسل کے منتخب عہدیداروں کی خاموشی عدلیہ کی تباہی میں انکی سہولت کاری کی عکاس ہے۔