@Royal_Blood110 ہاں جی افسوس مجھے انکو مینشن کرنا پڑا ہے باقی کوئی نہیں جانتا ۔فیس بک پہ فرینڈ تھے وہاں بات ہوئی تھی ایکس مونیٹائز کروانا تھا میں نے اس کے حوالے سے پوچھتی رہی ہوں پھر دس ہزار انکو کسی ضرورت کے لیے بھی دیے تھے میں نے
@ZahraShahPTI مس زہرا میری آپ سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے آپ سارا سچ جاننے کے باوجود مجھے واٹس ایپ پہ بلاک کر گئی ہیں اپنے شوہر سے لے کے مجھے پیسے بھجوا دیں
📢Appeal📢
اگر میرے فالوورز میں کوئی @iamZahid512 کوئی ان کا فالور ہےتو پلیز ان تک میرا پیغام پہنچا دیں میرے 5k جو میں نے اکاؤنٹ مونیٹائز کروانے کیلیے ایڈوانس دیے تھے مجھے واپس کردیں میں نے ان کے اکاؤنٹ میں رقم بھیجی تھی جو چارمہینےہوگئے مجھے نہیں واپس نہیں ملی اور میں بلاک ہوگئی
کتنی ماؤں کو رلایا ہے اس رجیم چینج نے کتنوں کو والدین سے جدا کیا ہے کتنے بچے ماؤں کےلیے سسک رہے ہیں اور کئی صرف اپنے پیاروں کے آخری دیدار کےلیے آخر یہ ظلم کرنے والوں کوکب سمجھ آئے گی کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے جب پڑے گی تو سیکنڈز کی مہلت نہیں ملے گی
@aamirmughalpti
میں اکثر سوچتا تھا کہ لوگ کیسے خاموش رہے جب ��انوادۂ رسولٌ کو شہید کیا گیا،لوگ کیوں چپ رہے جب رسولٌ کے خاندان پر ظلم ہورہا تھا،اب جب میں اپنے ارد گرد کے حالات دیکھتا ہوں تو ی��ین ہوگیا ہے کہ لوگ اسی طرح خاموش تھے جیسے آج ظلم پر چپ ہیں،لوگ ظلم دیکھتے ہیں اور چپ رہتے ہیں،یہ منافقت ہی نہیں بلکہ ظلم ہے اور خدا ظالموں کو کبھی معاف نہیں کرے گا،آپ ظلم کے خلاف لڑ نہیں سکتے تو اس کے خلاف بولیں اگر بول نہیں سکتے تو اسے دل سے برا سمجھیں مگر ظالم کا ساتھ تو نہ دیں کیونکہ ظالم کا ساتھ دینا،ظلم ہے
ڈراپ سائٹ کی نئی انکشافاتی رپورٹ کے مطابق ارشد شریف کو قتل کرنے سے پہلے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تشدد کے ناقابل تردید شواہد ملے ہیں، کلائیوں پر گہرے کٹ اور کئی ناخن موجود نہیں تھے، گاڑی کی فرنٹ پسنجر سیٹ پر گولی کا کوئی نشانہ نہیں ملا جس کے بعد mistaken identity سمیت، چوری شدہ کار کو روکے جانے اور اسکے نہ رکنے پر بدنام زمانہ کینیا کی کرائے کے قاتل کے طور پر مشہور جی ایس یو یونٹ کے بیانات جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے ہیں۔
ارشد شریف پر مبینہ طور پر بدترین تشدد کیا گیا جس کا مقصد شاید کوئی معلومات حاصل کرنا تھا یا ایزا پہنچانے کی کوشش تھی، موجود شواہد کے تجزیے کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ انکو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد سر میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا اور بعد ازاں mistaken identity سمیت کار چوری اور ��ولیس ناکے پر فائرنگ کے بیانیے بنائے گئے۔
ارشد شریف کا لیپ ٹاپ، موبائل اور کام سے متعلقہ USBs انکے سامان سے تاحال غائب ہیں۔ اے آر وائی کے مالک کی طرف سے رابطے کیلیے فراہم کیے گئے سیٹلائٹ فون تھرایا سیٹ کی ارشد شریف کی موت کے بعد لاسٹ لوکیشن پاکستان شو ہوئی، جبکہ یہ سیٹلائٹ فون ارشد شریف کے سامان کے ساتھ پاکستان نہیں بھیجا گیا تھا۔
اس وقت کی حکومت پاکستان کی طرف سے اس قتل کی تحقیقات کیلیے بنائی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے بعد سیل کر دی گئی، اسکو ریکارڈ پر نہیں لایا گیا، بلکہ اس کمیٹی کی سربراہی کرنے والے افسر عمر شاہد حامد کو او ایس ڈی بنا کر کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ دیگر افسران کو بھی ہٹا دیا گیا۔ اور سپریم کورٹ کی طرف سے اس کیس کو سرد خانے میں پھینک دیا گیا۔
@Obibhatti
@FatimaZ555 ایک درویش اور اس کے چاہنے والوں کو انہوں نے سخت اذیت دے کر خدا کے عذاب کو دعوت دی یے انہوں نے ماؤں سے بچوں کو جدا کیا ہے معصوم بچوں کو یتیم کیا ہے
یہ تُنک بازی مجھ سے بہتر شاید کوئی نہیں کر سکتا، لیکن میں نے کبھی آپ کے بارے میں رائے دینا مناسب ہی نہیں سمجھا، ہمیشہ پہل آپ نے کی ہے اور میں نے آج تک کبھی آپکو جواب نہیں دیا لیکن آج پہلی بار جواب دے رہا ہوں، اس لئے اب برا محسوس نہ کیجئے گا، آپ کا ہر سوال اور تنقید سر آنکھوں پر لیکن آپ سے مکالمہ تب ہو گا جب آپ غیر جمہوری قوتوں کی چاپلوسی، وکالت اور سہولت کاری چھوڑ دیں گے۔ ریاست، طاقت اور تخت کا حامی بننا بہت آسان اور تمغہ بخش کام ہے، ہم فقیروں کو اپنی لو میں جینے دیں، جس طرف اور جن کے ساتھ آپ کھڑے ہیں، آپ سے نہ کوئی بحث، نہ دلیل، نہ منطق، نہ گفتگو اور نہ کوئی تنقید، اسی لئے یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ آپ کہاں سے اور کن کے سیاہ و سفید کی وکالت کرتے ہیں، میں نے کبھی آپ سے ارادی طور پر کلام نہیں کیا۔ آئندہ بھی احترام رہے گا بشرطیکہ آپ نے مجبور نہ کر دیا کہ احترام کا پاس نہ رکھا جائے۔ آپ اپنی عزت بے عزتی کی پرواہ کئے بغیر ابن مرجانوی نظام کی خوشنودی کیلئے سارا دن جن لوگوں سے سوشل میڈیا پر الجھتے رہتے ہیں انہی سے لگے رہیں تو بہتر ہے۔ اگر غائبانہ احترام ہے تو اسے برقرار ہی رہنے دیں تو بہتر ہے۔
اللّہ میری زندگی میں کسی ظالم، جابر، آمر کی وکالت جیسا مکروہ ��ور پلید دن نہ لائے۔ آمین
یہ میرا آپکو زندگی کا پہلا اور آخری جواب ہے۔