تاریخ لکھے گی جب پوری دنیا تماشائی تھی ہمارا وزیر اعظم لگا رہا اور اسکی کوشش کا اعتراف ٹرمپ خود کر رہا ہے
پہلی بار پاکستان کو کرکٹ کے بجائے
Geopolitics
میں اتنا آگے دیکھا
اتنے بڑے لیول پر سرخرو ہوتے دیکھا ہے
پاکستان امت مسلمہ کا نمائندہ ہے یہ آج ثابت ہوتے دیکھا
شکر الحمداللہ
With the greatest humility, I am pleased to announce that the Islamic Republic of Iran and the United States of America, along with their allies, have agreed to an immediate ceasefire everywhere including Lebanon and elsewhere, EFFECTIVE IMMEDIATELY.
I warmly welcome the sagacious gesture and extend deepest gratitude to the leadership of both the countries and invite their delegations to Islamabad on Friday, 10th April 2026, to further negotiate for a conclusive agreement to settle all disputes.
Both parties have displayed remarkable wisdom and understanding and have remained constructively engaged in furthering the cause of peace and stability. We earnestly hope, that the ‘Islamabad Talks’ succeed in achieving sustainable peace and wish to share more good news in coming days!
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
Residents in this area of Manhattan, New York, are completely shocked to hear an Islamic call to prayer blasting on high-volume speakers as they walk down the street.
"I never thought in my life I'd hear this in the middle of New York."
Unbelievable.
ایرانی آ��ٹسٹ فاطمہ جو معذور ہیں اور اپنے پاؤں سے پینٹنگ بناتی ہیں، انہوں نے اپنے پسندیدہ کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کی شاندار پورٹریٹ بنائی۔
جب رونالڈو ایران آئے تو انہوں نے فاطمہ کو خود جا کر سرپرائز دیا. یہ لمحہ واقعی دل کو چھو لینے والا تھا۔
شرپسند ڈرامہ اور ہمارا پسندیدہ مشغلہ
شرپسند ڈرامہ دیکھ رہا ہوں تو ہر قسط کے ساتھ دل مکدر ہوتا جا رہا ہے۔
بظاہر تو ولن فراست ہے،
لیکن حقیقت میں وہ تو بس ایک استعارہ ہے—ہمارے مجموعی رویے کا۔ حفصہ کے معاملے میں محلے کا رویہ دیکھ کر خون کھولتا ہے۔
شاید اس لیے کہ ہم اس سچ سے خوب واقف ہیں۔
لیکن ہم کب سچ جاننے کی کوشش کرتے ہیں؟
ہمیں تو بس چسکہ ملنا چاہیے۔ گوسپ کے لیے کسی کے کردار پر بات کرنے سے بہتر مشغلہ کیا ہو سکتا ہے؟ اور ��ب تو محلہ سوشل میڈیا کی وجہ سے بہت وسیع ہو گیا ہے۔
کوئی ویڈیو لیک ہوئی نہیں کہ ہم بیتاب ہو جاتے ہیں—کہیں سے لنک ملے، کوئی فارورڈ کرے۔
اس بات سے بے نیاز کہ جس کی بات ہو رہی ہے، اس پر کیا گزر رہی ہے۔
اس کی پوری فیملی کس کٹہرے میں کھڑی ہے۔ آزما کر دیکھو۔
کوئی لیک ویڈیو کی بات کر کے پوسٹ کر دو کہ “جس کو چاہیے لائک کرے”۔
پھر دیکھو کیسے ہزاروں لوگ پروانوں کی طرح لپکتے ہیں کہ شاید چانس مل جائے۔ اربوں کی کرپشن، گھپلے—اس پر ہمارا رویہ نارمل۔
لیکن ایک سیلیبریٹی کی طلاق پر جستجو: کیوں ہوئی؟ اب تک جتنے پاکستانی ڈرامے دیکھے،
ان میں ٹاکسک کردار ہوتا تھا جو کسی ایک فرد یا فیملی کے لیے ٹاکسک ہوتا تھا۔ لیکن یہ پہلا ڈرامہ ہے جو ٹاکسک کردار ہمارے معاشرے کے عمومی رویے کو عیاں کر رہا ہے۔
ایک آئینہ ہے جو سب کے سامنے رکھ دیا گیا،
اور سب سوچ رہے ہیں “ہم تو ایسے نہیں”۔
لیکن دراصل ہم ایسے ہی ہیں۔ بچہ کیوں نہیں ہو رہا؟
رشتہ کیوں نہیں ہو رہا؟
رشتہ کیوں ٹوٹا؟
طلاق کیوں ہوئی؟ شادی کے وق�� دلہن کی رخصتی جج کرنا:
روئی تو زبردستی کی شادی لگ رہی،
خوش تھی تو پہلے سے چکر ہوگا۔ بچہ جلدی ہوا تو انگلیوں پر گنتی شروع۔
خدانخواستہ پہلا بچہ ستوانسا ہوا تو ساری زندگی کی صفائی۔ جا�� والی لڑکی کیسے جا رہی؟
بہت تیار تو نہیں؟
دیر سے گھر تو نہیں آ رہی؟
کوئی آفس والا چھوڑنے تو نہیں آ رہا؟ غرض، مسلسل تلاش میں کہ کوئی ایسی بات ملے جس سے کردار پر انگلی اٹھ جائے۔ یہ شاید ہمارا پسندیدہ مشغلہ بن گیا ہے۔ یہ ڈرامہ اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔
اس معاشرے کو “جیو اور جینے دو” تک پہنچنے میں شاید کئی دہائیاں لگ جائیں۔
جوائنٹ فیملی — پیسے کا فنڈا
پاکستان میں جوائنٹ فیملی کے بارے میں اکثر منفی باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں، اور کیوں نہ ملیں؟ سوشل میڈیا پیٹ بھرے لوگوں کا پلیٹ فارم ہے جو اپنے کمفرٹ زون میں بیٹھ کر چیزوں کو صرف ایک ہی لینس سے دیکھتے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ جوائنٹ فیملی بری ہے یا اچھی، اصل سوال یہ ہے کہ جوائنٹ فیملی آخر وجود میں کیوں آئی؟
حقیقت یہ ہے کہ جوائنٹ فیملی کا مسئلہ گھر میں داخل ہونے کے بعد شروع نہیں ہوتا، اس کی بنیاد تو رشتے کے وقت ہی رکھ دی جاتی ہے۔ جب لڑکے کے گھر والے اپنے کم آمدنی والے بیٹے کی شادی یہ سوچ کر کر دیتے ہیں کہ
“ارے بھئی، آنے والی دو روٹیاں ہی تو کھائے گی”،
تو ��وں رشتہ پہلے دن سے ہی ڈیپینڈنٹ ہو جاتا ہے۔ حالانکہ میرا ماننا ہے کہ سسرال کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو، رشتہ ہمیشہ لڑکے کی اپنی آمدنی، قابلیت اور ذمہ داری اٹھانے کی اہلیت دیکھ کر ہی ہونا چاہیے۔
اگر کسی خاندان کے پاس بہت پیسہ ہو تو وہ یقیناً اتنا بڑا گھر افورڈ کر سکتا ہے کہ ہر فیملی الگ پورشن میں رہے، کچن الگ ہو، خرچہ الگ ہو اور ایک دوسرے پر انحصار کم سے کم ہو۔ ایسے میں کسی ایک کے الگ ہونے کا دکھ صرف جذباتی رہتا ہے، مالی نہیں۔
لیکن لوئر مڈل کلاس یا سفید پوش طبقے میں کہانی بالکل مختلف ہے۔ تیس سے پچاس ہزار کمانے والا بندہ گھر خریدنا تو دور، کرائے کا گھر بھی مشکل سے افورڈ کرت�� ہے۔ کرایہ نکالنے کے بعد بچے گا ہی کیا؟ یہاں جوائنٹ فیملی چوائس نہیں، مجبوری ہوتی ہے۔
شئرڈ خرچ وقتی طور پر بچت تو دے دیتا ہے، مگر دنیا میں کوئی فری لنچ نہیں ہوتا۔ کرایہ بچانے کے بدلے قیمت ��رائیویسی کی قربانی کی صورت میں ادا ہوتی ہے۔ فیصلے پیسے کے تابع ہو جاتے ہیں، خواتین اصل امتحان سے گزرتی ہیں، اخراجات مقابلہ بازی میں بدل جاتے ہیں اور بچے خاموش نفسیاتی دباؤ میں پلتے ہیں۔
زیادہ کمانے والے بیٹے کی بیوی کو لگتا ہے کہ صرف اس کا شوہر کما رہا ہے اور باقی سب عیش کر رہے ہیں، جبکہ کم کمانے والے شوہر کی بیوی کو لگتا ہے کہ چونکہ اس کا شوہر کم کماتا ہے، اس لیے بڑی بھابھی گھر کی چوہدری بن گئی ہیں اور اس کا کردار صرف نوکرانی کا ہے۔ یقین کریں، دونوں بیویاں رات کو چابیاں بھر رہی ہوتی ہیں—بس زاویہ مختلف ہوتا ہے۔
اگر گھر میں کنواری نند ہو تو مسئلہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ پڑھ رہی ہو تو بھابھیوں کو لگتا ہے “مہارانی بس پڑھتی رہتی ہے”، اور اگر عمر زیادہ ہو تو گھریلو معاملات میں اس کا دخل بھی ناگوار گزرتا ہے اور اس کی شادی کے لیے جمع ہونے والا پیسہ بھی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بیٹیاں بوجھ نہیں، بیٹیوں کی شادی کا خرچہ بوجھ بن جاتا ہے—جب باپ افورڈ ��ہ کر سکے اور ذمہ داری بھائیوں پر آ جائے۔ ویسے ماننا پڑے گا، زیادہ تر پاکستانی بھائی برے نہیں ہوتے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ وہی بھابھی اپنی بہن کی شادی پر لمبے خرچے کے لیے ایک ٹانگ پر کھڑی ہوتی ہے۔
جوائنٹ فیملی میں ایک مستقل جھگڑا یہ بھی ہوتا ہے کہ کون زیادہ کام کرتا ہے۔ سب کچھ مشترک ہوتا ہے—کمرہ، کچن، خرچہ، حتیٰ کہ خاموشی بھی—اور یہی اشتراک آہستہ آہستہ احسان، حساب کتاب اور خودداری کے ٹکراؤ میں بدل جاتا ہے۔
اگر غور کریں تو ہر مسئلے کی روٹ کاز پیسہ ہی نکلتی ہے۔ اگر سب اچھا کما رہے ہوں تو کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر الگ ہو جاتا ہے۔ بہن کی شادی کنفرم ہو کہ ماں باپ کریں گے ��و ایک ٹینشن ختم، ماسی رکھ لیں تو کام کا جھگڑا ختم۔ اسی لیے میری رائے میں جوائنٹ فیملی میں اسی فیصد لوگ خوشی سے نہیں، مجبوری میں رہتے ہیں۔
اس لیے جب بھی جوائنٹ فیملی کے خلاف کسی کو بھڑکائیں تو ساتھ یہ بھی بتائیں کہ کتنے بجٹ میں سیپریٹ رہا جا سکتا ہے۔
اور ہاں، اکثر جائیداد والے اس لیے بھی خاموش رہتے ہیں کہ کہیں ہمارے جانے کے بعد بھائی�� بھابھی کو پٹا کر ساری جائیداد نہ ہتھیا لے۔
البتہ اگر جوائنٹ فیملی کا مطلب یہ ہو کہ بیٹا ایک ہے اور ماں باپ اس کے ساتھ رہتے ہیں، تو وہاں مسئلہ پیسے کا نہیں بلکہ اس سوچ کا ہوتا ہے جو ماں باپ کو بوجھ سمجھنے لگتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے یہ واقعی سوہانِ روح ہے۔
اس لیے جب بھی جوائنٹ فیملی کا ذکر کریں،
اس کی فنانشل ویلیو کو ضرور مدِنظر رکھیں کیونکہ آج کے دور میں پیسہ ہی سب کچھ ہے
عمر شریف نے کہا تھا قسمت خراب ہو آدمی اونٹ پر بیٹھ ہو کتا کاٹ لیتا ہے
ایسا ہی کچھ رنویر سنگھ کے ساتھ ہوا ہے کئ سال بعد فلم ہٹ ہوئ تو ہر طرف ہیرو (اکشے کھنہ) کے بجائے ولن کے چرچے
شام میں بشار الاسدحکومت کو روس نےسہارا دے رکھا تھا۔ یوکرین میں روس کے خلاف اھل مغرب کے تمام وسائل جھونک دینے کے بعد روس کی مکمل توجہ وھیں مرتکزھو گئ اور اب شام میں دوسرے محاذ پر concentrate کرنا روس کے لیئےممکن نہ تھا۔ لہذا مغربی اوراسرائیلی پراکسیز باآسانی اقتدار پرقابض ھوگیئں۔