ہمارا عام سا کارکن اشتیاق میلاد منا رہا تھاتھ ا انہوں نے ابلتے ہوئے گڑھا میں اسکو پھنک دیا، آج میں اسکی فاتح خوانی کے لیے آیا ہوں تو لاہور بند کر دیا ہے، سہیل آفریدی
”اشتیاق کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔“- @SohailAfridiISF
وزیراعلیٰ نے لاہور میں عاشقِ رسول ﷺ کارکن اشتیاق کے گھر جا کر ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور فاتحہ خوانی کی۔
کارکن عید میلاد النبی ﷺ کی تیاری کے دوران پولیس کے چھاپے کے نتیجے میں گرم کڑاہی میں گرنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا۔
وزیراعلیٰ نے اہلِ خانہ کو ہر ممکن تعاون اور مدد کی یقین دہانی کرائی، جبکہ شہید کے درجات کی بلندی اور جنت میں اعلیٰ مقام کے لیے دعا کی۔
اس موقع پر سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، پنجاب کے اپوزیشن لیڈر، صوبائی کابینہ کے اراکین اور دیگر مقامی رہنما بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔
آغا شیخ سرور کو رات گئے مصری شاہ تھانے سے کہیں منتقل کیا گیا،، آغا شیخ کی فیملی کو بتایا گیا کہ انکی طبعیت خراب ہونے باعث اسپتال لے جا رہے ہیں کچھ دیر تک واپس لے آئیں گے لیکن ابھی تک کوئی معلومات نہیں ہیں کہ وہ کہاں ہیں، ذرائع بتاتے ہیں کہ ن لیگ کے وزیر اس معاملے میں پولیس کو ہداہات دے رہے ہیں،
لاہور میں قافلہ جہاں جہاں سے گزر رہا ہے عوام اپنے کاروبار بند کرکے قافلے کا حصہ بن رہے ہیں
لاہوری آج اعلان کررہے ہیں کہ 27 ستمبر کو وہ انقلاب برپا کرنے نکلیں گے۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی کواپنی سیکورٹی کا خیال رکھنا چاہیے
سزا یافتہ مجرم نواز شریف کو پچاس روپے کے اشٹام پیپر پر لندن جانے کی اجازت دینے والے جسٹس علی باقر نجفی نے آج سوال کیا ہے کہ کیا سزا یافتہ قیدی کو تمام بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے ہیں یا اس کے بنیادی انسانی حقوق محدود ہو جاتے ہیں؟
پاسپورٹ بلاک، وارنٹ جاری، نا اہلی کی درخواست کی سماعت، وزراء کی دھمکیاں ، صحافیوں کی وارننگز، پولیس کے ناکے۔۔لگتا ہے سہیل آفریدی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔
خیبرپختونخوا کے چار کروڑعوام کے منتخب وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کو پنجاب پولیس کے ہاتھوں قیدی وین میں بٹھا کر لے جانا محض ایک فرد پر حملہ نہیں، بلکہ پورے خیبرپختونخوا کے عوامی مینڈیٹ، آئین اور جمہوری اصولوں پر کھلا حملہ ہے۔
یہ کیسا نظامِ ہے جہاں عوام کے منتخب نمائندوں کو سیاسی انتقام، ریاستی طاقت اور جبر کا نشانہ بنایا جائے؟ عمران خان سے وفاداری کو جرم بنا کر، تحریکِ انصاف کے کارکنوں کو گرفتار کرکے اور منتخب نمائندوں کو ہراساں کرکے آپ عوام کے دلوں سے نظریہ ختم نہیں کر سکتے۔
آج کا یہ اقدام صرف ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ جمہوریت کے چہرے پر ایک اور سیاہ داغ ہے۔ وقت گواہی دے گا کہ کس نے آئین کا ساتھ دیا اور کس نے اقتدار بچانے کے لیے آئین اور جمہوری اقدار کو پامال کیا۔
جبر سے آوازیں دبائی جا سکتی ہیں، عوام کا فیصلہ نہیں بدلا جا سکتا۔ ظلم کی ہر حد کے بعد مزاحمت مزید مضبوط ہوتی ہے۔
27 ستمبر انشاءاللہ اسلام آباد