یہ بہت ہی بڑا الزام ہے، ڈاکٹروں، ہسپتال کی ابتظامیہ اور عوامی تحفظ کی غیر پیشوہ وارانہ بلکہ مجرمانہ کردار پر، اس کی فوری تفتیش کرکے قومی چنیدہ فورم قومی اسمبلی کے سامنے حقائق رکھے جائیں
کتنا بدنصیب ہے وہ منصب دار جو دو وقت کی روٹی کےلئے مجبور غریبوں پر ٹیکس لگاتا ہے تاکہ ملک کے اعلی عہدیداروں کو "سہولیات" فراہم کی جا سکیں اور کتنے بدنصیب ہیں وہ عہدیدار جو اسطرح کے مفلوک الحال لوگوں سے وصول کیے گئے ٹیکس سے اپنے خاندان کےلئے تعیشات کا سامان کرتے ہیں۔۔
ریاست کے لئے یہ باعث تشویش ہونا چاہیے کہ ایک غریب عوامی لیڈر کے ساتھ دہشت گردوں کی طرح برتاؤ کیا جارہا ہے
کیا ان کا قصور صرف یہ ہیکہ یہ ایک بلوچ غریب رہنما ہیں اور غریبوں کی ترجمانی کرتے ہیں؟
بلوچستان کے پارلیمنٹ سے تو ویسےہی کوئی گلہ شکوہ فضول ہےان کی حیثیت سےعوام بخوبی واقف ہے
@munir_Khalili انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔ اللّہ مغفرت فرمائے۔ خواجہ صاحب سے بالمشافہ کبھی ملاقات نہیں ہوئی لیکن چالیس سال پہلے قائد اعظم یونیورسٹی کے دنوں ان سے دو تین دفعہ رابطہ ہوا اور ہمیشہ ان کے لئے دل سے دعا ہی نکلی۔ حق مغفرت فرمائے