مصطفی کمال کو الطاف بھائی نے بالکل ٹھیک چپیڑیں کروائی تھیں اور اب حیرانگی اس بات پر ھورہی ہے کہ یہ تو بیغیرت ہے لیکن اسکے دائیں بائیں کھڑے لوگ بھی انتہائی مطمئن بیغیرت اور بےحس ہیں کہ یہ ایک پاگل کُتے کی طرح کاٹنے کو پڑ رہا تھا اور کوئی اسے روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا
1.وزیر پٹرولیم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نااہل اور نالائق
2.وزیر پانی وبجلی۔۔۔۔۔۔۔ نااہل اور نالائق
3.وزیر داخلہ۔۔۔۔۔۔۔۔ نااہل اور نالائق
4.چئیرمن کرکٹ بورڈ ۔۔۔۔۔۔۔نااہل اور نالائق
5.وزیر صحت۔۔۔۔۔۔۔ نااہل اور نالائق
6.وزیر ریلوے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نااہل اور نالائق
7.وزیر ہوا بازی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نااہل اور نالائق
مزید آپ کمنٹ میں شامل کردیں
د��یا کی بہترین پولیس کے آفسز دیکھیں سب لوگ workstations پر بیٹھتے ہیں اور پولیس چیف جو چھوٹا سا کیبن ملتا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جن سے ہم امداد مانگتے اور قرض لیتے ہیں اور پھر وہ قرض لیکر یہاں ایسے ششکے کرتے ہیں۔
اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز میں 15 نومولود بچوں کی ہولناک ہلاکت سانحہ کی
ابتدائی تحقیقات نے نئے خوفناک سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ فائر پوائنٹ پر پانی نہیں، ہوز کپلنگ غائب، ایمرجنسی راستے بند، نہ خودکار اسپرنکلر اور نہ دھواں پکڑنے کا مؤثر نظام۔ سب سے سنگین انکشاف یہ ہے کہ پمز انتظامیہ کو 2018 سے مسلسل فائر سیفٹی نوٹسز مل رہے تھے، مگر خطرات دور نہیں کیے گئے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سیکریٹری صحت کو ہٹادیا، مگر سوال باقی ہے: پمز انتظامیہ کی مبینہ مجرمانہ غفلت کا حساب کون دے گا؟ 15 ننھی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار کون ہے؟اس اہم اور دل دہلا دینے والے OMR کی مکمل تفصیل کیلئے YouTube لنک پر کلک کریں https://t.co/k5tVYqbjmS?
9 ماہ تک بچوں کو پیٹ کے اندر حفاظت سے رکھنے والی ماؤں کے نوزائیدہ بچوں کو سسٹم کی آگ چند سیکنڈز میں نگل گئی
جو قوم اپنے حق کیلئے کھڑی نہیں ہوتی اور خود کو اشرافیہ کے حوالے کر دیتی ہے اسے سسٹم ایسے ہی نگلتا ہے جیسے پمز میں نوزائیدہ بچوں کو نگلا
اعلان ختم ہوا
سیکرٹری صحت کا اضافی چارج سنبھالنے والے کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود کمشنر پنڈی، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن سمیت دیگر عہدوں پر بھی رہ چُکے ہیں، راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل اور دیگر انتظامی امور کی وجہ سے کئی بار خبروں میں رہے، پنڈی رنگ روڈ اسکینڈل میں اُنہیں کلین چٹ مل چُکی تھی۔۔!!
سیکرٹری ہیلتھ کو عہدے سے ہٹا کر سب زمہداران کا تعین ہو گیا؟ All is well now?
محسن نقوی نے ٹھیک کہا تھا! سسٹم collapse کر چکا ہے! جتنا مرضی گھسیٹ لیں اس کو۔۔تعفن زدہ لا�� ہے نظام اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
یہ وہی کیپٹن (ر) محمود ہیں، جن پر نندی پور اسکینڈل، پنڈی رنگ روڈ اسکینڈل، صاف پانی اسکینڈل، گندم اسکینڈل کے الزامات تھے، نیب میں انکوائریز بھی چلتی رہیں، اب اسلام آباد جناح میڈیکل کمپلیکس کی بھی گونج ہے۔
بچوں کی ہلاکت آگ سے نہیں دھویں کے باعث دم گھٹنے سے ہوئیں۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری
اسکا مطلب یہ ہوا کہ ہسپتال کا عملہ بچوں کو بروقت کمرہ سے نکال لیتا تو ان کی جان بچ سکتی تھی۔
تیس کی جگہ اگر 184 کو رکھا ھے تو ہسپتال انتظامیہ کی مہربانی کہ ان میں احساس ھے ورنہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی اور جگہ لے جائیں۔
قصور مقامی انتظامیہ سے زیادہ پنجاب حکومت کا ہے جو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے سے قاصر ہے
اس بیغیرت کے انڈر صرف 2 ہسپتال ہیں،
پمز اور پولی کلینک
جو وزیر دو ہسپتال نہیں سنبھال سکتا وہ پورا کراچی سنبھالنے کو پھرتا تھا۔
اب اتنے بڑے سانحے کے بعد بیغیرت بن کر جھوٹی کہانی سنا رہا ہے استعفیٰ نہیں دے گا۔
یہ ملک اشرافیہ کی شکار گاہ ہے ۔ ایک خبر کے مطابق 33 بابو ریٹائرمنٹ کے بعد ملک چھوڑ کر باہر منتقل ہوگئے ۔ ماشااللہ سے نظام نے انکو پینشن بھی غیرملکی کرنسی میں ادا کرنا شروع کردی جس کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ہیں
گالیاں کھائیں گے سیاستدان لیکن حقیقت میں بیوروکریسی اس ملک کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے ۔ بابو پھر بھی ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیں گے ۔ بس لیکچر سن لیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد لکھی کتابیں پڑھ لیں موصوف سے زیادہ کوئی بااصول اور ایماندار افسر کرہ ارض پر نہیں رہا ہوگا !
اس بابو کو تو مجبوری میں ٹھنڈے ماحول سے سڑک پر آنا پڑ گیا۔ ان کے کمروں سے پورے پاکستان میں چل ماحول ہی دکھتا ہے۔ ان کی عقل مت اور اکڑ کا اندازہ آپ اس بات سے لگالیں کہ سوگوار ماحول ہے جہاں یہ آیا تو کم از کم ٹائی اور کوٹ اتار کر گاڑی میں ہی رکھوا دے۔ یہ نمونے قوم پر مسلط ہیں
بچوں کے لیے یہ ملک جہنم ہے
کچھ اسپتال میں جل جاتے ہیں، کچھ کو والدین قتل کر دیتے ہیں
کچھ محلے والوں کی نظر ہو جاتے ہیں
باقی جو بچ جاتے ہیں ان کا استحصال مولوی کے ہاتھوں ہوتا ہے
ماؤں کے لیے کرب ہی کرب ہے، دل والوں کے لیے تمام دکھ ہیں
Dedicated To Pakistan
یہ جاہل وزیر صحت کہتا کہ ایک آگ فقط ایک چنگاری کی وجہ سے لگی ہیں۔
اور فقط ایک چنگاری کو بُجھانے کے لئیے بھی کوئ Fire Extinguishers نہیں تھے اس وقت۔
یعنی خود اعتراف کررہے ہیں کہ یہ غفلت ہے اور بچوں کا قتل ہے۔
یہ وہ لڑکا ہے جس کو باقی پرچوں میں A گریڈ ملا جبکہ بیالوجی میں "0" ۔
اس نے اسی پرچے کی طرح ایک اور پرچہ لکھ کر اور ڈائگرام بنا کر پشاور ہائی کورٹ کے جج اعجاز انور کے سامنے رکھ دیا۔
بورڈ نے کہا والد کے ساتھ معاملہ حل ہوگیا۔۔جج نے کہا ایسے کیسے معاملہ حل ہوسکتا ہے۔زمہ داران کے خلاف کاروائی ہوگی۔
فاضل جج نے متعلقہ بورڈ کے زمہ داران کو "حقیقی پرچے" کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔
ویسے بڑا شرارتی بچہ ہے۔