مارشل لاء لگے یا یہی نظام چلے۔۔ پی ٹی آئی کے لئے تو اتنے دن اتنی رات ہے۔۔اصل مزہ تو ن لیگ اور پی پی کو آۓ گا۔ جنھوں نے ہاتھوں سے ترمیمیں کر کے اپنے ہاتھ کاٹ لئے۔ اب جب زمین کھیچی جاۓ گی تو ہاتھ بھی باقی نہ ہوں گے کہ خود کو منہ کے بل گرنے سے بچا سکیں۔
اور کیسے دکھانی ہے وفاداری؟ٹیکس دیتا ہوں، کرپٹ نظام بھگت رہا ہوں، آپ کی سیاسی مداخلت پر خاموش ہوں، علاج پرائیویٹ کرواتا ہوں، بجلی خود سولر سے لیتا ہوں، حفاظت کے لیے پرائیویٹ چوکیدار ہے، ووٹ چوری ہوا، خاموش ہوں، ریاست بندے مار رہی، پھر بھی چپ ہوں، مہنگائی ڈبل، بے روزگاری ڈبل ہو گئی۔ سید ذیشان عزیز
#pakistan @iemziishan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
ہم SIFC سے ڈالر کمائیں گے۔
ہم معدنیات بیچیں گے
اب ہم جنگی جہاز بنا کر بیچیں گے۔
ہم آئینی عدالت بنا کر ترقی کریں گے
ہم ناکام ہو گئے لہذا اب
اب ہم صوبے بنا کر ترقی کریں گے۔
اگر انیس ستی کی شہادت کا مذاق نہ اڑایا جاتا۔ اگر عاصمہ شیزرازی صاحبہ اور ساتھی اس وقت لاشوں کو نہ جھٹلاتے۔ تو آج اسامہ جمیل زندہ ہوتے۔
صرف بندوق چلانے والا نہیں۔ اس پورے سسٹم کا ہر سہولتکار ان نوجوانوان کا قاتل ہے۔
یہ تسلیم کرلینا کافی نہیں کہ سسٹم collapse کرچکا ہے۔ یہ سسٹم بنایا کس نےتھا؟ اس سسٹم کو قائم رکھنے کےلیے کتنے مظالم کیےگئے، ارشدشریف شہید سے لےکر راولاکوٹ کے شہداء تک سینکڑوں انسانوں کا خون بہایا گیا۔ اس سسٹم کےاناڑی فیصلوں سےغریب پِس گیا، ملک نیچےگیا، پہلے ان جرائم کا حساب دیں۔
قوم سے معافی مانگیں اور جس کا اقتدار ہے اس کے حوالے کریں۔اسے اپنی پالیسی کی تحت بغیر کسی مداخلت کے چلانے دیں؛ہر کرپٹ کا احتساب ہونے دیں اور آئین کی پاسداری کرتے ہوئے ریاست جو فیصلہ کرے اس پر عمل کریں
سسٹم ٹھیک بھی ہو جائے گا اور پاکستان ترقی بھی کرے گا انشاء اللہ
پاکستان زندہ باد
Stop Killing Pakistanis!
How can we allow one mentally unstable person to keep destroying Pakistan via massacres in multiple parts of the country?
Protest on Aug 5th with PTI or protest with Kashmiris. It’s our country & it’s critical that everyone speaks up against massacres!
I have been offered deals time and again, told either to leave the country or remain silent, and in return my cases would be withdrawn. Yet from the very first day, my position has been that I will only emerge from these cases through the courts, never as the result of any deal. This is why 300 fabricated cases have been filed against me. Any other person could not have withstood such persecution, but I know that I am innocent and that I stand on the side of truth.
Even the false Toshakhana case has now completely collapsed. Witnesses presented by the prosecution, Brigadier Ahmad and Colonel Rehan, themselves admitted that the Toshakhana gifts were not taken to my residence but deposited in the Toshakhana, and all documentation is complete.
Therefore, acquittal in this case should be granted in a single day, and in particular, bail for Bushra Begum should be approved, as she is a woman and is facing nothing but baseless allegations of aiding and abetment.
I am fully aware that the so-called courts under the 26th Amendment deliver dictated verdicts, not according to the law but according to Asim Law. The sequence has already been planned: first, conviction will be announced in the second Toshakhana case, and only then will bail in the Al-Qadir Trust case be approved. This is the script, and the judiciary is currently functioning not on the basis of law, but according to this script.
Former Prime Minister Imran Khan, speaking with family and lawyers at Adiala Jail – 24 September 2025
2/2
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں ”یا موت یا آزادی“ جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں، انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں! عمران خان
#pakistan@ImranKhanPTI
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام!!! (۲۲ جولائی ۲۰۲۵)
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا گیا جیسا میرے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ نواز شریف نے اربوں کی کرپشن کی مگر اسے ہر سہولت کے ساتھ جیل میں رکھا گیا۔کسی سیاسی رہنما کی بے گناہ غیر سیاسی اہلیہ کو کبھی ایسے جیل میں نہیں ڈالا گیا جیسے بشرٰی بیگم کے ساتھ کیا گیا ہے۔ میں صرف اور صرف اپنی قوم اور آئین کی بالادستی کے لیے ملکی تاریخ کی مشکل ترین جیل کاٹ رہا ہوں۔ جبر و فسطائیت کا عالم یہ ہے کہ مجھے وضو کے لیے جو پانی دیا جاتا ہے وہ تک گندہ ہوتا ہے اور اس میں مٹی ملی ہوتی ہے، جس سے کوئی انسان وضو نہیں کر سکتا۔ میری کتابیں جو اہل خانہ کی جانب سے جیل حکام تک پہنچائی جاتی ہیں وہ بھی کئی ماہ سے نہیں دی گئیں، ٹی وی اور اخبار بھی بند ہے۔ بار بار پرانی کتب کا مطالعہ کر کے میں وقت گزارتا رہا ہوں مگر اب وہ سب ختم ہو چکی ہیں۔ میرے تمام بنیادی انسانی حقوق پامال ہیں۔ قانون اور جیل مینول کے مطابق ایک عام قیدی والی سہولیات بھی مجھے میسر نہیں ہیں۔ بار بار درخواست کے باوجود میری میرے بچوں سے بات نہیں کروائی جا رہی۔ میری سیاسی ملاقاتوں پر بھی پابندی اور ہے صرف "اپنی مرضی" کے بندوں سے ملوا دیتے ہیں اور دیگر ملاقاتیں بند ہیں۔
میں واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت پارٹی کا ہر فرد اپنے تمام اختلافات فوری طور پر بھلا کر صرف اور صرف پانچ اگست کی تحریک پر توجہ مرکوز رکھے۔ مجھے فلحال اس تحریک کا کوئی مومینٹم نظر نہیں آ رہا۔ میں 78 سالہ نظام کے خلاف جنگ لڑ رہا ہوں، جس میں میری کامیابی یہی ہے کہ عوام تمام تر ظلم کے باوجود میرے ساتھ کھڑی ہے۔ 8 فروری کو عوام نے بغیر نشان کے جس طرح تحریک انصاف پر اعتماد کر کے آپ لوگوں کو ووٹ دئیے اس کے بعد سب کا فرض بنتا ہے کہ عوام کی آواز بنیں۔ اگر اس وقت تحریک انصاف کے ارکان آپسی اختلافات میں پڑ کر وقت ضائع کریں گے تو یہ انتہائی افسوسناک اور قابل سرزنش عمل ہے۔ پارٹی میں جس نے بھی گروہ بندی کی اسے میں پارٹی سے نکال دوں گا۔ میں اپنی نسلوں کے مستقبل کی جنگ لڑ رہا ہوں اور اس کے لیے قربانیاں دے رہا ہوں ایسے میں پارٹی میں اختلافات پیدا کرنا میرے مقصد اور ویژن کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
فارم 47 کی حکومت نے چھبیسویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے مفلوج کر دیا ہے۔ چھبیسویں ترمیم والی عدالتوں سے ٹاوٹ ججوں کے ذریعے جیسے سیاہ فیصلے آ رہے ہیں وہ آپ سب کے سامنے ہیں۔ ہمیں عدلیہ کو آزاد کروانے کے لیے اپنی بھر پور جدوجہد کرنی ہو گی کیونکہ عدلیہ کی آزادی کے بغیر کسی ملک و قوم کی بقاء ممکن ہی نہیں ہے۔