@BAHLOfficial I have closed my account at the Millat Road branch in Faisalabad due to the extremely poor quality of service and the unprofessional, rude behavior of the staff۔
I also submitted a written complaint to the State Bank of Pakistan, but no action had been taken then.
رسول ﷺ پر جلوہ افروز ہوتے ہیں، تو ان کا لہجہ دوسرے مسالک اور ان کے عقائد کے لیے اتنا سخت اور تنقیدی کیوں ہو جاتا ہے؟ وہ اپنے متبعین کے ذہنوں میں دوسروں کے لیے دوری اور نفرت کے بیج کیوں بوتے ہیں؟
کیا آپ نے کبھی ٹھنڈے دل سے سوچا ہے کہ ہر مسلک کے قابلِ احترام رہنما، علمائے کرام اور روحانی پیشوا جب اپنے مسلکی بھائیوں سے مخاطب ہوتے ہیں، تو ان کے مابین بھائی چارے، باہمی برداشت، سخاوت اور خیرات کی اتنی پرزور تلقین کیوں کرتے ہیں؟
مگر دوسری ہی طرف، وہی جلیل القدر علماء جب منبرِ
یہ ہے پاکستانی اشرافیہ کا سفاک چہرہ۔۔۔ان کے سکول، ہسپتال، بنک اکاؤنٹس،جائیدادیں سب سوئٹزرلینڈ/یورپ میں ہیں، یہ صرف اقتدار کیلئے پاکستان میں ہوتے ہیں، گلگت بلتستان میں ترقی کے انقلاب کی نوید سنا کر،صحت کی معیاری سہولیات ہر گھر تک پہنچانے کے وعدے،سبز باغ دکھا کر جناب نواز شریف صاحب روٹین کی صحت معائنہ کیلئے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگئے۔۔۔۔یاد رہے کہ یہ روٹین معائنہ بھی پاکستان میں کرنے کا اپنی شان کیخلاف سمجھتے ہیں باقاعدہ علاج معالجہ کا تو پاکستان سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا؟؟؟
اشرافیہ کے نام پر مافیا ہی پاکستان کے مسائل کا اصل ذمہ دار ہے۔
نواز شریف کی سیاست ایک تماشا گاہ بن چکی ہے۔ جب بھی "مالکان" کو ضرورت پڑتی ہے، اس طوطے کو پنجرے سے نکال کر ایک ہی کیسٹ چلا دی جاتی ہے: "مجھے کیوں نکالا؟"۔ یہ بیچارہ عوام کے سامنے اپنی بے بسی کا رونا روتا ہے، جیسے اس کی فرار کی داستانیں خود اس نے نہیں لکھی ہوں۔ دو چار سڑکوں اور
پراجیکٹس کا لالی پاپ دے کر، یہ صاحب ایک بار پھر کسی یورپی ہسپتال کی 'علاج گاہ' میں جا کر چھپ جاتے ہیں۔
اب یہی "مقتدرہ" عمران خان کو ایک نیا طوطا بنا کر پنجرے میں بند کرنا چاہتی ہے، تاکہ وہ بھی اسی رٹا رٹائے سبق کو دہرائے اور اپنے مالکوں کے اشاروں پر ناچے۔ یہ محض سیاست نہیں،
شریف خاندان کے پاس مہنگی بجلی اور مہنگے پٹرول کے سوا ملک چلانے کا کوئی اور فارمولا نہیں ہے، احمق جرنیلوں کو پتہ نہیں کس نے بتایا کہ شہباز شریف بہت اچھا ایڈمنسٹریٹر ہے ؟؟
جتنا پیسہ یہ عوام سے گذشتہ تین سالوں میں لوٹ چکے ہیں ، اگر واپس کرنا پڑ گیا
تو شہباز شریف کے کپڑے واقعی بک جائیں گے
#پاکستان
برانڈڈ میک اپ، برانڈڈ ملبوسات، برانڈڈ زیورات اور بیگز..
مریم نواز کی ہر شے لاجواب ہے۔
مگر افسوس کہ ان کی ساری چکا چوند کے باوجود ان کا شریکِ حیات آج بھی اسی قدیم، جاہلانہ اور پینڈو معیار کا حامل ہے۔نہ شعوری گفتگو نہ نوابانہ رکھ رکھاٶ۔ معیار اور انتخاب کے اس تضاد کو کیا کہیں؟
آج تین دفعہ کے وزیراعظم اور چار سال سے وفاق میں one page کے اقتدار کے مزے لینے والے نواز شریف صاحب نے گلگت میں تقریر نہیں کی بلکہ قوم کے اجتماعی شعور کو تازیانے مارے ہیں، یہ 2026 اور انٹرنیٹ، AI کا زمانہ ہے، کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس دور میں بھی کوئی سیاستدان اتنی دیدہ دلیری، تسلسل، ثابت قدمی اور ڈھٹائی سے عوام کو بیوقوف بنا سکتا ہے؟ الیکشن میں دونوں جماعتوں کے سیاسی قائدین کی منافقت اور جھوٹ سے لبریز تقریریں سنیں تو لگتا ہے کہ یہ سیاستدان نہیں بلکہ مداری ہیں جو جلسوں میں لائے گئے عوام سے کہتے ہیں، “بچہ جمہورا گھوم جا” اور وہ گھوم جاتا ہے، یار کوئی حد ہوتی ہی بیوقوف بنانے اور جھوٹ بولنے کی۔ یہ کتنے معصوم چہرے بنا کر ووٹ لینے کیلئے ہر پانچ سال بعد بیس سال پرانی تقریر اٹھا کر ورغلانے، بہلانے اور پھسلانے آ جاتے ہیں۔
@RShahzaddk اشرافیہ کی غلامی کے سوا کیا ملا؟ ان کند ذہنوں کے پاس عوام کے سلگتے سوالات کا کوئی جواب نہیں، بس پرانی پرچیاں ہیں جو اب زمینی حقائق سے بالکل کٹ چکی ہیں!
@RShahzaddk تانگہ پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ حکومت، اقتدار، اور مقتدر حلقوں کی اندھی سپورٹ جیب میں ہے، لیکن تقریریں اب بھی "مظلومیت" کی کر رہے ہیں۔ پنجاب سے اسلام آباد تک اقتدار کے مزے لوٹنے والو! سوال یہ ہے کہ ن لیگ کو تو سب کچھ مل گیا، لیکن عام پاکستانی کو مہنگائی، کمر توڑ بجلی کے بلوں اور