پراجیکٹس کا لالی پاپ دے کر، یہ صاحب ایک بار پھر کسی یورپی ہسپتال کی 'علاج گاہ' میں جا کر چھپ جاتے ہیں۔
اب یہی "مقتدرہ" عمران خان کو ایک نیا طوطا بنا کر پنجرے میں بند کرنا چاہتی ہے، تاکہ وہ بھی اسی رٹا رٹائے سبق کو دہرائے اور اپنے مالکوں کے اشاروں پر ناچے۔ یہ محض سیاست نہیں،
نواز شریف کی سیاست ایک تماشا گاہ بن چکی ہے۔ جب بھی "مالکان" کو ضرورت پڑتی ہے، اس طوطے کو پنجرے سے نکال کر ایک ہی کیسٹ چلا دی جاتی ہے: "مجھے کیوں نکالا؟"۔ یہ بیچارہ عوام کے سامنے اپنی بے بسی کا رونا روتا ہے، جیسے اس کی فرار کی داستانیں خود اس نے نہیں لکھی ہوں۔ دو چار سڑکوں اور
نا اوئے ،نا ابے،نا الزام،نا کوئی انتقام
صرف عوام کی خوشحالی کی بات،صرف قومی منصوبوں کی بات ،صرف ملک کی خوشحالی کا ذکر،نا کسی کے اے سی اتارنے کی دھمکی،نا کسی کو جیل میں ڈالنے کی دھونس،یہ ھے میاں محمد نواز شریف۔
@RashidNasrulah پتلو گفتگو خان سے تین گنا زیادہ کرتا ہو یا نہ کرتا ہو، لیکن پٹواری بوٹ پالش خان سے دس گنا زیادہ سپیڈ سے کرنا جانتے ہیں، بس بوٹ بدلنے کی دیر ہوتی ہے
@DurraniViews سوشل میڈیا پر اس طرح کے من گھڑت اور مبالغہ آمیز تبصرے صرف ماحول کو خراب کرنے اور اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
یہ سلمان درانی کیا کوٸی نیا ٹاٶٹ بھرتی کیا ہے کمپنی نے؟