پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک بنتا جا رہا ہے جہاں کسی اداکار، صحافی یا عام شہری کا سب سے بڑا “جرم” صرف یہ ہے کہ وہ عمران خان کی حمایت کردے۔
سارہ خان نے صرف اپنی رائے دی
“میں عمران خان کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں سن سکتی۔”
منیب بٹ نے فارم 45، فارم 47 اور 8 فروری کے الیکشن پر سوال اٹھایا۔
بس اتنا کافی تھا…
اور پھر کردار کشی شروع ہوگئی۔
اب انہی لوگوں پر ڈرگ کیس جیسے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔
یعنی اگر آپ عمران خان کی حمایت کریں تو آپ کو غدار، ایجنٹ یا نشئی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اصل مسئلہ منشیات نہیں،
اصل مسئلہ وہ آوازیں ہیں جو جھکنے سے انکار کرتی ہیں۔
جب اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا جائے، میڈیا کو بلیک میلنگ کیلئے استعمال کیا جائے اور سچ بولنے والوں کو بدنام کیا جائے، تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ خوف کا نظام بن جاتا ہے۔
لیکن تاریخ گواہ ہے
سچ کو دبایا جا سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا۔
آواز اٹھائیے۔
“ خاموشی صرف ظالم کو مضبوط کرتی ہے”
@doc_danish_ Strongly agreed doc Danish, I've been following you since MDCAT days.
But this bureaucrat's air of superiority is not different from what drs show in hospitals. Umfortunately the same drs often display disdainful behaviour toward both other healthcare professionals & patients.
Shame on you Jibran Bhai, Azhar & Arsalan bhai & Shehbaz Gill for Unfollowing, Blocking the Social Media accounts associated with Jawwad Ahmed.
Is this Politics?, Man is crying for this
@agentjay2009@MashwaniAzhar@arslankhalid_m@SHABAZGIL
This is called Geopolitical Cartography. I devoted a full section of my book on this issue.
Pakistan was earlier clubbed under "AfPak" because of its front line role in the US War on Terror that ruined Pakistan's economic indicators, and now it has been lumped with MENA which is a highly volatile region.
Here is a GDP growth rate comparison of the regions:
South Asia: 5-7%
Middle East: 1-4% (high volatility)
By involving itself too deep into the geopolitical mess of the Middle East, including defense agreements, loan payments, and personalized services, the ruling regime has sacrificed long term stability, growth and sovereignty for a short-term international relevance.
No light
No gas
No internet
No justice
No sense of safety
No jobs
No freedom of speech
No human rights
No accountability
No stability
No trust in institutions
No control over inflation
No relief from petrol prices
No hope left for this country!
No load shedding. No terrorism. No instability. Strong diplomacy. Record investments. Happy businessmen. Farmers thriving. That was Pakistan under Imran Khan.
I have to say this because nobody else is willing to say it, either out of intellectual dishonesty, bravado or pleasing the bosses:
Pakistan must pull back from Afghanistan. Now!
If you think the war in Iran is a terrible idea, the one Pakistan is engaged right now in Afghanistan is equally worse and destructive for Pakistan and the regional at large.
The regime and its paid experts may not like to hear this, and it may hurt their sense of bravado, but Pakistan must pull itself out of the war in Afghanistan immediately.
It is a self-made trap that will consume Pakistan, and allow any hostile force to knock it off in a single blow.
Had our genuises read Sun Tzu beyond the cover, they’d have recognized the visible application of “Qi and Zheng” in what Pakistan is facing at the moment.
Zheng is a direct force that controls the attention to hold the enemy in place, while Qi is an indirect and surprise force that delivers a decisive blow.
Blinded by power, and Trump’s pat on the back, the regime in Pakistan has dangerously placed itself in a fragile position (Zheng), for any hostile power to deliver it a Qi. And there are plenty who are waiting for the moment.
Because we learnt nothing from 1971, we are making the same exact mistake all over again.
عمران خان کو سازش کے ذریعے رجیم چینج کر کے اقتدار سے ہٹایا گیا، اس کی جماعت کے احتجاج پر قدغنیں لگیں، اسے زندان میں ڈالا گیا۔ الیکشن چوری کرلیا۔ یہ سب کوئی نئی بات نہیں، سیاستدانوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے، اور وہ اپنی جماعت اور حامیوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں۔
لیکن گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ بدسلوکی، اور قید میں لے جانے کے بعد ان کی آواز، اس کا چہرہ، اس کی آئینی شخصی آزادی چھین لینا، یہ پوری قوم کا معاملہ بن گیا اور ایک شخص تک محدود نہ رہا، اس سے قوم کو ایک گہرا اور منفی پیغام گیا۔
خدا کی قسم، اکثریت کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان تو ہے، مگر اس کی روح نہیں رہی۔ ملک ایک زندہ لاش کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ نہ کوئی امید، نہ کوئی دلچسپی، نہ وہ قومی جذبہ۔ عجیب احساس ہے جو شاید موضوع الفاظ میں بیان بھی نہی کیا جاسکتا۔
قید یا اغوا کہیں تو بہتر ہے، اغوا کیا جانے والا عمران خان صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھا، وہ اس قوم کا پاکستان اور دنیا بھر میں فخر تھا، دہائیوں سے ایک ہیرو تھا۔ وہ تین نسلوں کی پسند تھا۔
وہ ورلڈ کپ نہ بھی جیتتا تو بھی لوگ اسے عظیم مانتے، وہ شوکت خانم اسپتال نہ بھی بناتا تو بھی اس کے لیے دلوں میں محبت ہوتی۔ وہ نمل یونیورسٹی کا قیام نہ بھی کرتا تو لوگ اسے عشق کرتے۔ اس کا تعلق صرف کارناموں سے نہیں تھا، ایک احساس سے تھا۔ کیونکہ اس نے ہمیشہ ملک کا نام روشن کیا تھا اور دنیا میں پاکستان کی پہچان تھا۔
جن لوگوں نے یہ فیصلے کیے، انہوں نے شاید ایک حکومت بدلی اور ایک سیاسی رہنما کو نظروں اور سماعتوں سے دور کردیا، مگر ہمارے اندر سے پاکستانیت کا ایک حصہ بھی کاٹ دیا۔
ایسا نہیں کہ ہم غدار ہو گئے یا وطن سے نفرت کرنے لگے۔ نہیں! کبھی نہی! مگر اپنے ہی ملک میں ایسے رہنے لگے ہیں جیسے کوئی پردیس میں رہتا ہے۔
جہاں اس بات سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ کس کی حکومت ہے۔ بس کمانا ہے، وسائل استعمال کرنے ہیں، بچوں کی تعلیم دیکھنی ہے، کھانا پینا ہے، کہیں گھوم پھر لینا ہے۔
پردیس میں رہنے والے عموماً اس زمین سے محبت یا نفرت کے رشتے میں بندھے نہیں ہوتے، وہ صرف اپنی سہولت اور آرام دیکھتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی احساس پاکستان میں رہتے ہوئے ہونے لگا ہے۔
آگے کیا ہوگا، کیا قومی جذبہ دوبارہ جاگے گا، کیا پہلے جیسی پاکستانیت لوٹ آئے گی، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جین زی تو ویسے ہی اس سب میں کوئی خاص دل چسپی نہیں رکھتی، ان کی ترجیحات مختلف ہیں۔
شاید ہم ہی آخری نسل تھے جو قومی نغمے سنتے تھے، جہاں بھی دنیا میں ہوں، دل میں پاکستانیت لیے پھرتے تھے۔ نئی نسل کو اس میں کشش نظر نہیں آتی۔
جو فیصلے کرنے والے تھے، انہوں نے ہمارے اندر سے پاکستانیت کو جیسے مٹا دیا، ہمیں بھی اسی بے حسی کا حصہ بنا دیا۔
آپ نے صرف عمران خان کو قید نہیں کیا، اس کے حقوق سلب نہیں کیے، آپ نے کروڑوں دلوں میں بسے ایک جذبے کو زخمی کیا ہے، اور ایک پوری قوم کو یہ احساس دیا ہے کہ اس کی آواز کی کوئی حرمت باقی نہیں رہی۔
شاید یہ موضوع حساس ہو، مگر اسے بیان کرنا ضروری ہے، تاکہ یہ احساس، یہ درد، اس دور کی ڈیجیٹل تاریخ میں محفوظ ہو جائے۔ کبھی نہ کبھی، کوئی اسے پڑھے اور سمجھے کہ اس زمانے میں ناانصافی اور لوگوں کے احساسات کا اندازہ کرسکیں۔ ۔
"nOt EveRyThInG iS aBoUt Imran Khan" yes IT'S because Epstein called him bigger threat than Khamenie and currently he's only legitimate ruler of people of this country, cry about it as much as you can.