لوگ کیچڑ سے بچ کر چلتے ہیں
تاکہ کپڑے خراب نہ ہو جائیں
اور کیچڑ کو گھمنڈ ہونے لگتا ہے
کہ لوگ اس سے ڈرتے ہیں
ہمارے ارد گرد بھی کچھ انسان ایسے ہی
غرور میں رہتے ہیں
جنت البقیع اور جنت المعلیٰ کا انہدام
اسلامی تاریخ کا ایک دردناک باب
اسلامی تاریخ میں بعض ایسے سانحات ہیں جنہوں نے امتِ مسلمہ کے اجتماعی حافظے پر گہرے نقوش چھوڑے۔ انہی میں جنت البقیع (مدینہ منورہ) اور جنت المعلیٰ (مکہ مکرمہ) کے تاریخی مزارات اور گنبدوں کا انہدام بھی شامل ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیت علیہ السلام ، ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہا ، رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب اليمين باوفا رضی اللہ عنہ اور دیگر عظیم اسلامی شخصیات آسودۂ خاک ہیں۔ صدیوں تک ان قبور پر تعمیر شدہ گنبد اور نشانیاں موجود رہیں، لیکن 1925–1926ء (1344–1345ھ) میں انہیں منہدم کر دیا گیا۔
جنت البقیع میں متعدد مزارات اور گنبد موجود تھے، جن میں نمایاں یہ ہیں:
🔸 جنت البقیع (مدینہ منورہ)
اہلِ بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
حضرت امام حسن مجتبیٰؑ (سبطِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )
حضرت امام علی بن الحسین زین العابدینؑ
حضرت امام محمد باقرؑ
حضرت امام جعفر صادقؑ
حضرت فاطمہ بنت اسدؓ (والدۂ حضرت علیؑ)
حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا)
حضرت عقیل بن ابی طالبؓ
حضرت عبداللہ بن جعفرؓ
🔸 ازواجِ مطہراتؓ
حضرت عائشہ صدیقہؓ
حضرت حفصہ بنت عمرؓ
حضرت ام سلمہؓ
حضرت سودہ بنت زمعہؓ
حضرت زینب بنت جحشؓ
حضرت صفیہ بنت حییؓ
حضرت جویریہ بنت الحارثؓ
حضرت ام حبیبہؓ
🔸 جلیل القدر صحابۂ کرامؓ
حضرت عثمان بن مظعونؓ
حضرت اسعد بن زرارہؓ
حضرت سعد بن معاذؓ
حضرت ابوسعید خدریؓ (مشہور روایت کے مطابق)
حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ
حضرت مالک بن انسؒ (امام دار الہجرہ)
حضرت عثمان بن عفان
🔸 جنت المعلیٰ (مکہ مکرمہ)
حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا (ام المؤمنین)
حضرت عبدالمطلب بن ہاشم علیہ السلام
حضرت ابو طالب بن عبدالمطلب علیہ السلام
حضرت عبد منافؓ (بعض تاریخی روایات کے مطابق)
حضرت قاسم بن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جنت البقیع اور جنت المعلیٰ صرف قبرستان نہیں، بلکہ اسلامی تاریخ کی زندہ یادگاریں ہیں۔ ان مقامات سے وابستہ شخصیات پوری امت کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ ان تاریخی آثار کے انہدام نے اسلامی تہذیبی ورثے کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، اور یہ واقعہ آج بھی مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے لیے غم و درد کی علامت ہے۔
فاروق قیصر عرف انکل سرگم کی دل کو چھوتی ہوئی ایک مشہور نظم "اللہ میاں " جسے ان کے ٹی وی پروگرام میں ان کا مشہور کردار “رولا “ سنایا کرتا تھا ۔
میرے پیارے اللہ میاں
دل میرا حیران ہے ،
میرے گھر میں فاقہ ہے ،
اس کے گھر میں نان ہے ،
میں بھی پاکستان ہوں ،
اور وہ بھی پاکستان ہے ،
میرے پیارے اللہ میاں ،
لیڈر کتنے نیک ہیں ،
ہم کو دیں وہ صبر کا پھل ،
خود وہ کھاتے کیک ہیں ،
میرے پیارے اللہ میاں ،
یہ کیسا نظام ہے ؟
فلموں میں آزادی ہے ،
ٹی وی پر اسلام ہے ،
میرے پیارے اللہ میاں ،
سوچ کے دل گھبراتا ہے ،
بند ڈبوں میں خالص کھانا ،
ان کا کتا کھاتا ہے ،
میرا بچہ روتے روتے ،
بھوکا ہی سوجاتا ہے ،
میرے پیارے اللہ میاں ،
دو طبقوں میں بٹتی جائے ،
ایسی اپنی سیرت ہے ،
ان کی چھت پر ڈش انٹینا ،
میرے گھر میں بصیرت ہے ،
میرے پیارے اللہ میاں ،
میری آنکھ کیوں چھوٹی ہے ؟
اس کی آنکھ میں کوٹھی ہے ،
میری آنکھ میں روٹی ہے ،
میرے پیارے اللہ میاں ،
تیرے راز بھی گہرے ہیں ،
ان کے روزے سحری والے ،
میرے آٹھ پہرے ہیں ،
میرے پیارے اللہ میاں ،
روزہ کھولوانے کی ان کو ،
دعوت ملے سرکاری ہے ،
میرا بچہ روزہ رکھ کر ،
ڈھونڈتا پھرے افطاری ہے ،
میرے پیارے اللہ میاں ،
یہ کیسا وٹہ سٹہ ہے ؟
این ٹی ایم کا سر ہے ننگا ،
پی ٹی وی پہ ڈوپٹہ ہے ،
( این ٹی ایم پہلا پرائیویٹ
چینل تھا )
میرے پیارے اللہ میاں ،
بادل مینہ برسائے گا ،
اس کا گھر دھل جائے گا ،
میرا گھر بہہ جائے گا ،
میرے پیارے اللہ میاں ،
*چاند* کی ویڈیو فلمیں دیکھ
کر اس کا بچہ سوتا ہے ،
میرا بچہ روٹی سمجھ کر
چاند کو دیکھ کے روتا ہے ،
میرے پیارے اللہ میاں
یہ کیسی ترقی ہے ؟
ان کی قبریں تک ہیں پکی
میری بستی کچی ہے
ھن دور ۾ خانداني ماڻھن جي ڳالھ ئي نه رھي آ عزت وارن جي نسل کي چمچا گيري ڪندي ڏٺو آ ۽ بي نسلي خاندانن جي ٻارن کي عزت وارن جي محفلن ۾ ڏٺو آ ھي دنيا جو دستور آ نسل نسلن جھڙا نه آھن رھندا