عالمی ضمیر مذہبی تعصب، انتہا پسندی اور عدم برداشت کے نتیجے میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کے انہدام کے اس وحشیانہ آغاز کو نہ صرف روکنے میں ناکام رہا بلکہ اپنے مفادات کے تحت عالمی طاقتوں نے مذہبی جنونیوں کو سپورٹ کیا اور پھر دنیا کے مختلف مذاہب کے آثار کو نقصان پہنچانے کا
حسینؓ تم نہیں رہے تمہارا گھر نہیں رہا
مگر تمہارے بعد ظالموں کا ڈر نہیں رہا
مدینہ و نجف سے کربلا تک ایک سلسلہ
ادھر جو آ گیا وہ پھر اِدھر اُدھر نہیں رہا
صدائے استغاثہ حسینؓ کے جواب میں
جو حرف بھی رقم ہوا وہ بے اثر نہیں رہا
صفیں جمیں تو کربلا میں بات کھل کے آگئی
کوئی بھی حیلۂ نفاق کارگر نہیں رہا
بس ایک نام---اُن کا نام اور اُن کی نسبتیں
جز اُن کے پھر کسی کا دھیان عمر بھر نہیں رہا
کوئی بھی ہو کسی طرف کا ہو کسی نسب کا ہو
جو تم سے منحرف ہوا وہ معتبر نہیں رہا
افتخار عارف
گلے یوں عون ع و محمد ع ملے تھے مقتل میں
کہ معجزوں کے گلے جیسے معجزات ملے
ہزار صدیاں بھی کچھ فاصلہ بنا نہ سکیں
کہ نام عون ع و محمد ع کے ساتھ ساتھ ملے
حسنین اکبر
#Shehzady_AunOMuhammad
تاریخ نے لکھا ہے ایسے لڑے جعفر طیار ع کے پوتے کہ کربلا میں ایک دم شور بپا ہوگیا یزیدی لشکر کبھی مشرق کبھی مغرب بھاگتے اور کہتے لگتا ہے جیسے علی ع میدان میں آ گئے۔
#Shehzady_AunOMuhammad
@majidsnizami بعض سیاسی جماعتیں انتخابی میدان میں ووٹ مانگتی ہیں، اور بعض کو میدان پہلے دیا جاتا ہے پھر ووٹ تلاش کیے جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک درخت بیج سے اگتا ہے اور دوسرا کہیں سے لا کر زمین میں گاڑ دیا جاتا ہے، بعد میں اسے عوامی شجرکاری قرار دے دیا جاتا ہے۔