اور تُو دیکھے دھوپ، جب نکلتی ہے بچ جاتی ہے اُن کی کھوہ سے داہنے کو،
اور جب ڈوبتی ہے کترا جاتی ہے ان سے بائیں کو،
اور وہ میدان میں ہیں اس کے۔ الکہف 18/18
وفاقی حکومت تو کچھ نہ کچھ دے ہی دیتی ہے۔۔۔
اصل احتجاج تو لایور ہونا چاہیے جو ہر دفعہ ملازمین اور پینشنرز کو اتنا بھی نہیں دیتا جتنا وفاق دیتا ہے۔۔
جب سے یہ خاندان آیا ہے پنجاب کے ملازمین ہمیشہ وفاق کی دی گئی مراعات سے محروم ہی رہتے ہیں۔۔۔۔
آج صدر راولپنڈی، GPO چوک پر ایک عجیب منظر دیکھا، جو ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے
میں بائیک پر کھڑا تھا کہ دو خواتین نے رکشہ بُک کیا۔ کرایہ طے ہونے لگا۔
رکشہ والے نے کہا: 250 روپے لگیں گے باجی
خواتین: نہیں بھائی، 200 سے ایک روپیہ اوپر نہیں دیں گی، بس!
کافی بحث کے بعد غریب رکشے والا 200 پر مان گیا۔ پسینہ بہا کر، محنت سے کمانے والا 50 روپے ہار گیا۔
خواتین رکشے میں بیٹھیں ہی تھیں کہ ایک بھکاری آ گیا۔ ہاتھ پھیلایا۔
اور بنا ایک لمحہ سوچے، اُن میں سے ایک خاتون نے پرس سے 100 کا نوٹ نکال کر اُسے دے دیا۔
میں یہ سب دیکھ کر بس سوچتا رہ گیا...
جس رکشے والے نے دھوپ میں جل کر آپ کو منزل تک پہنچانا تھا، اُس سے 50 روپے کے لیے جھگڑا کر لیا۔
اور جس نے صرف ہاتھ پھیلایا، اُسے 100 روپے فوراً دے دیے؟
یہ کیسی سوچ بن گئی ہے ہماری؟
محنت کی قیمت کم اور بھیک کی قیمت زیادہ کیوں ہو گئی ہے؟
کیا وہ رکشہ ڈرائیور اُس 100 روپے کا زیادہ حقدار نہیں تھا جس نے پسینہ بہانا تھا؟
کبھی کبھی لگتا ہے ہم ہمدردی غلط جگہ دکھا رہے ہیں۔ محنت کش کو اُس کا حق دو، عزت دو۔ بھیک نہیں، روزگار کو فروغ دو۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
اسامہ خان۔۔۔۔
آج کا کیس بہت ہی درد ناک اور دل چیرنے والا تھا۔
میرا دل تو نہیں چاہتا کہ روز روز ہمارے پیج پر غم ناک اور دکھی خبریں ہوں لیکن کیا کریں کام ہی ایسا بن گیا ہے کہ اس کا تعلق براہ راست جذبات سے ہے۔
رخشندہ کی اسٹوری ذرا پڑھیں!
رخشندہ کراچی کی بیٹی تھی،کراچی کے علاقے سندھی ہوٹل میں اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کے ساتھ خوشی کی زندگی بسر کررہی تھی۔
تیرہ سال کی عمر میں سن 2000ء کو اچانک گھر سے لاپتہ ہوگئی۔ بیوہ ماں در در ٹھوکریں کھاکر اپنی بیٹی ڈھونڈتی رہی لیکن کوئی سراغ نا ملا۔
ڈیڑھ دو سال بعد کسی نے رخشندہ کی ماں سے کہا آپکی بیٹی سے ملانے لیجاونگا لیکن تم نے کسی سے ذکر کرنا نہیں ہے۔ماں ساتھ گئی جب اپنی بیٹی کی حالت دیکھی تو پاوں تلے زمین نکل گئی۔ نہایت بری حالت میں کمزور اور بیمار تھی۔
معلوم ہوا کہ رخشندہ کو اسکے پڑوس میں رہنے والے شخص عالم نے "بھگایا" تھا۔
رخشندہ تیرہ سال کی تھی اس شخص نے کسی طرح سے اپنے جال میں پھنسایا تھا اور لیکر گیا تھا۔
ماں نے بیٹی کا علاج سول اسپتال میں کروایا،آپریشن ہوا ، رخشندہ کے جڑواں بچے فوت ہوگئے تھے۔
کسی طرح سے ماں نے رخشندہ کے ساتھ عالم کا رشتہ قبول کرلیا اور حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرکے سب برداشت کیا۔
عالم کا تعلق بنگلادیش سے تھا اور وہ در اصل بنگلادیش اس ارادے کے ساتھ آیا تھا کہ وہ براستہ ایران ڈنکی لگاکر یورپ جائےگا۔یہاں کچھ عرصہ کام کرکے کمانا تھا اور جانا تھا لیکن رخشندہ کے ساتھ معاملہ ہوگیا تو یہیں اسکا یورپ بن گیا۔
سال دوہزار تین میں عالم نے اپنی ساس سے کہا کہ وہ رخشندہ کو ساتھ لیکر بنگلادیش جائےگا اور ماں باپ سے مل کر آئےگا۔
ماں نے رخشندہ کو بہت منع کیا کہ تم ساتھ مت جاو لیکن وہ اپنے شوہر کو چھوڑ نہیں سکتی تھی۔
وہ بنگلادیش گئے چھ ماہ تک رابطہ رہا اسکے بعد آج تک رابطہ نہیں ہوا۔
رخشندہ وہاں اپنی زندگی کی تلخیاں گھر میں بتاتی تھی تو سسرال نے رابطہ ہی ختم کروادیا۔
گزشتہ روز رخشندہ کی کزن نے ہم سے رابطہ کرکے انکی تلاش کے لئے کہا اور ماں کا بتایا کہ انکی طبعیت بہت خراب ہے وہ رو رو کر رخشندہ کو یاد کررہی ہے۔
ہم نے تمام تفصیلات لیکر بنگلادیش میں موجود ٹیم کو دیں کہ اس کیس کو ہنگامی بنیاد پر دیکھیں تاکہ ایک ماں اپنی بیٹی سے ضرور ملے۔
اگلی صبح ہمارے پیارے بھائی منظور احمد کی کال آئی کہ رخشندہ مل چکی ہے۔
آج ہم نے ماں بیٹی کی بات کروائی۔ ماں دیوانہ وار روتی رہی،ویڈیو کال پر اپنی بیٹی کا نام لیکر پکارتی رہی لیکن بیٹی منہ سے کچھ بول نہیں پارہی تھی صرف آنکھیں اشک بہا کر ماں کی فریاد کا جواب دے رہی تھیں۔
رخشندہ اردو بھول چکی ہے۔ذہنی توازن بہت متاثر ہوچکی۔ ایک گھنٹے کی ویڈیو کال میں صرف دو باتیں بنگلا زبان میں دہراتی رہی "امی آجاو"
اور "صائم کیسا ہے"۔
صائم وہ بھائی جو بچپن میں رخشندہ کے ساتھ ساتھ رہتا تھا،دونوں بہن بھائی بھی تھے اور گہرے دوست بھی۔ ماں نے بتایا رخشندہ کے جانے کے بعد صائم راتوں کو اٹھ کر روتا رہتا تھا اور بہن کو یاد کرتا تھا،بالآخر صائم کا ذہنی توازن بہن کے لئے خراب ہوا آج تک گولیاں کھاکر سوتا ہے۔
ہم نے والدہ سے پوچھا کہ رخشندہ نے کیوں اتنے کلاں سال شخص کے ساتھ جانے کا قدم اٹھایا تو انکا کہنا تھا "وہ صرف تیرہ سال کی تھی،اور ناسمجھ تھی، شاید میری بیٹی پر جادو کیا گیا تھا جو ہمارے بہت سمجھانے کے بعد بھی جانے پر بضد تھی"۔
آج جب رخشندہ کو دیکھا تو وہ اپنی ماں سے زیادہ کمزور اور ضعیف لگ رہی تھی۔
عشق وہ آتش ہے جو جلائے بھی،سنوارے بھی
ویران دل کو برباد کرے،پھر آباد کرے
تمام تفصیلات ان شاءاللہ ویڈیو رپورٹ میں جلد دیکھ سکیں گے
#waliullahmaroof
وطن عزیز دنیا کا واحد ملک ھے جہاں بازار دوپہر کے بعد کھلتے ھیں اور نصف رات کے بعد بند ھوتے ھیں۔ کئی دفعہ ھر سطح پہ یہ مسئلہ اٹھایا ھے مگر تاجر حضرات کی طاقت کے سامنے حکومتیں لاچار ھیں ۔ سالوں سے بجلی کا رونا رویا جاتا ھے۔ بجلی چوری حق سمجھ کے کی جاتی ھے۔ اللہ نے ھمیں بارہ مہینے سورج کی روشنی سے نواز ا ھے۔ مگر ھم مصر ھیں کے کاروبار رات اندھیرے میں بجلی کی روشنی میں کرنا ھے۔ دنیا مغرب کے بعد بازار بند کرتی ھے ھفتے میں ایک مکمل چھٹی ضرور ھوتی ھے۔ ھمارے ملک میں ایسی مارکیٹیں بڑے شہروں میں موجود ھیں نام بتائے جا سکتے ھیں جہاں رزق حلال چوری کی بجلی سے کمایا جاتا ھے۔ ھمارا میڈیا ھر بات و ایشو پہ بات کرتا ھے مگر اس ایشو پہ مکمل خاموش ھے۔ جب مارکیٹوں کہ اوقات آدھی کے بعد تک ھوں تو سمجھ نہیں آتی بچوں اور فیملی کے لئے وقت کب میسر ھوتا ھے۔
کفایت شعاری کی بات ھم حکمران کرتے ھیں مگر بازاروں کے اوقات سے جسطرح آمدنی اور وسائل کا ضیاع ھوتا ھے اسکی کوئ بات کوئ نیں کرتا ۔ پارلیمنٹ بلڈنگ میں بھی بجلی کی بچت کی جارہی ھے۔ مگر بازار شام گئے بند کرنے کی کوئ بات نہیں کرتا جب اتنا بڑا تضاد ھو تو عام شہری پھر وقت کی نزاکت کا احساس نہیں کرتا۔
ایک بیٹی کے لیے اس کا پہلا ہیرو اس کا باپ ہوتا ہے، اور ایک باپ کے لیے اس کی بیٹی اس کی کائنات کی سب سے قیمتی شہزادی۔ اللہ پاک تمام بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے اور والدین کا سایہ ہمیشہ سلامت رکھے۔"
👑🥰
یہ ایران کے ایک سکول پر اسرائیل/امریکہ بمباری کی سی سی ٹی وی فوٹیج ہے یہ بچے معصوم ہیں آپ ان کی سفاکیت کا اندازہ لگا لیں اگر کسی مغربی ملک کا سکول ہوتا کسی مسلمان ملک نے یوں کیا ہوتا اس وقت قیامت آ جاتی
مگر مہذب پھر بھی یہ کہلاتے ہیں
پنجاب میں گرمی بڑھتی جا رہی ہے اس کا حل شجر کاری ہے اور یہ کام مریم نواز اگر شروع کروا دیں تو آئندہ پانچ دس سال میں پنجاب کا اوسط درجہ حرارت شاید کچھ کم ہو جائے۔
کشمیر میں ہزار یونٹ کا بل چھ ہزار ہے کوئی کسی قسم کا ٹیکس نہی ہے جبکہ پنجاب میں 201یونٹ کا بل آٹھ سے نو ہزار ہے اس پر اعتراض نہی حکومت اپنی جیب سے جو مرضی دے مگر ان کا بل عام لوگوں سے کیوں لے ؟
اس پر سوال کیوں نا کریں سارے ملک کا ہرجانہ پنجاب والے کیوں بھریں ؟
چین کی پیپلز لبریشن آرمی اور پاکستان کے درمیان اب پہلے سے زیادہ بہت قریبی تعاون ہوگا اور چینی ٹیکنالوجی بہت تیزی سے پاکستان منتقل ہوگی۔چین کے نزدیک پاکستان کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جائیگی، نئے بلاک کا لیڈر چین ہوگا اور پاکستان اس کا مرکزی کردار ہوگا، اس کی اپنی نئی کرنسی بھی ہوگی۔
Piare Modi Ji
Apka Shukria apne PL 15 mizile ko Rafale, aur CM 400 ko SU 400 pr test krne ka moqah dia.
Hmra sirf ek test bcha he.
CM 400 AKG mizile ko behri jahaz pr test karna he.
Apka dhanewat hoga agr thori der ko Vikrant bhej dejiye.
Hm test krte hi turant wapis kr den ge 🙏