خدارا! پاکستان کے صاحب استطاعت لوگوں، صاحب استطاعت اداروں، حکومت، عدلیہ، میڈیا اور ہر اس شخص سے میری ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ اس ملک کے بچوں پر رحم کریں۔ اس ملک کے مستقبل پر رحم کریں۔
روز صبح، دوپہر، شام...
کسی بچی کا گلا کاٹ کر اسے باتھ روم میں پھینک دیا جاتا ہے۔
کسی معصوم بچے کو زیادتی کا نشانہ بنا کر چھت سے نیچے پھینک دیا جاتا ہے۔
کسی بچے کا منہ بند کر کے اسے الماری میں بند کر دیا جاتا ہے۔
کسی معصوم کی زبان کاٹ کر اسے مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
کسی کو مدرسے میں دین کے نام پر، کسی کو مولوی کے ہاتھوں، کسی کو ٹیوشن سینٹر میں، کسی کو اسکول میں، کسی کو اپنے ہی محلے میں، کسی کو اپنے ہی پڑوسی کے ہاتھوں، کسی کو اپنے ہی رشتہ دار کے ہاتھوں درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
کسی کے اوپر ٹیوشن سینٹر کی چھت گر جاتی ہے، کوئی اسکول میں محفوظ نہیں، کوئی مدرسے میں محفوظ نہیں، کوئی اپنے پڑوسی کے گھر میں محفوظ نہیں۔
اور یہ کون ہیں؟
یہ وہ بچے ہیں جنہیں ابھی پاکستان کی پوری اسپیلنگ بھی نہیں آتی ہوگی۔
جنہوں نے ابھی زندگی دیکھی ہی نہیں۔
جنہوں نے ابھی یہ بھی فیصلہ نہیں کیا کہ بڑے ہو کر کیا بننا ہے۔
یہ کسی کی جیتی جاگتی اولاد ہیں۔
یہ اللہ کی بنائی ہوئی معصوم روحیں ہیں۔
آخر ان کا قصور کیا ہے؟
اور اگر آپ نے عسکری 10 کا واقعہ نہیں سنا تو جا کر سبحان کے بارے میں پڑھیں۔
وہ حافظ قرآن تھا۔
اسی رہائشی علاقے کے دو لڑکوں نے، مبینہ طور پر گاڑیوں پر ریس کرتے ہوئے، اسے اس بے دردی سے قتل کیا کہ وہ وہیں تڑپ تڑپ کر دم توڑ گیا۔ اس کی انگلیاں الگ پڑی تھیں، جسم لہولہان تھا اور قاتل اپنے گھر والوں کے ساتھ فرار ہو گئے۔
سوچیں...
ایک حافظ قرآن بھی اس معاشرے میں محفوظ نہیں۔
دو سال کی بچی محفوظ نہیں۔
دس سال کا بچہ محفوظ نہیں۔
پندرہ سال کی بچی محفوظ نہیں۔
تو پھر محفوظ کون ہے؟
خدارا، اپنے سیاسی اختلافات ایک طرف رکھ دیں۔
اس بات پر تو ہم سب متفق ہیں نا کہ بچے اس قوم کی روح ہیں۔
اگر وہ اسکول، مدرسے، ہسپتال، ٹیوشن سینٹر، اپنے محلے، اپنے پڑوسی، حتی کہ اپنے ہی گھر میں محفوظ نہیں، تو پھر ہم کس ترقی، کس معیشت، کس سیاست اور کس مستقبل کی بات کر رہے ہیں؟؟؟؟؟
ہم سب کو حکومت پاکستان سے مطالبہ کرنا چاہیئے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر اسٹیٹ ایمرجنسی ڈیکلیئر کی جائے۔
خصوصی عدالتیں بنائی جائیں۔
بچوں کے خلاف جرائم کے مقدمات مہینوں اور سالوں نہیں، ہفتوں دنوں میں نمٹائے جائیں۔
قانون ایسا ہو کہ کوئی درندہ جرم کرنے سے پہلے سو بار سوچے۔
اگر ریاست بچوں کو تحفظ نہیں دے سکتی تو پھر ریاست کی پہلی ذمہ داری ہی ادھوری رہ جاتی ہے۔
اور اگر ہم نے آج بھی خاموشی اختیار کی تو یاد رکھیں.......
آج خبر کسی اور کے بچے کی ہے۔
کل خبر میرے یا آپ کے بچے کی بھی ہو سکتی ہے۔
ہم سب یہ سوچ کر خاموش ہیں کہ ابھی آگ میرے گھر نہیں پہنچی۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب اس ملک میں کوئی بچہ محفوظ نہیں رہا۔
خدارا...
اس سے پہلے کہ حالات مکمل طور پر قابو سے باہر ہو جائیں، اس سے پہلے کہ ہر شخص قانون اپنے ہاتھ میں لینے لگے، اس سے پہلے کہ ہر والدین اپنے بچے کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے خوف میں جینا معمول بنا لیں...
اب تو جاگ جائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے تمام بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے، ہر مظلوم کو انصاف عطا فرمائے، اور ہمیں اس ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کی توفیق دے۔
آمین۔
تعلیم BSc ڈبل کمپیوٹر ، لیکن نوکری نہ ملنے پر مایوس ہو کر گھر بیٹھنے
کے بجائے اس غیرت مند نوجوان نے بائیک پر خودداری کا سفر شروع کر
دیا ہے یونیورسٹی چوک بہاولپور پر روزانہ دوپہر 3 سے شام 6 بجے تک یہ بھائی
صرف 100 روپے میں صاف ستھری اور گھر کی بنائی ہوئی لذیذ چنا چاٹ اور میکرونی بیچتے
ہیں۔ مجبوری کے آگے ہار ماننے اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے
رزقِ حلال کمانے والے ایسے پڑھے لکھے نوجوان ہی ہمارے ملک کا سرمایہ ہیں
رزق حلال کمانے والوں کو اللہ کبھی ناکام و مایوس نہیں کرتا
بہاولپور کے تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ یونیورسٹی چوک سے
گزرتے ہوئے اس بھائی کے پاس لازمی رکیں اور ان کا چاٹ میکرونی ضرور ٹرائی کریں اور
ان کا حوصلہ بڑھائیں تاکہ اس کا حوصلہ مضبوط رہے اللہ تعالیٰ تمام رزق حلال کمانے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے آمین ثمہ آمین ۔
بہت سے لوگ اِس کیس میں والدین کو قصوروار مان رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ والدین نے ایک چھوٹی بچی کو کسی کے گھر میں کام کرنے کے لیے رکھا کیوں تھا جہاں اس کا ریپ ہوتا رہا اور پھر ابارشن کے دوران اس کی جان گئی۔
دیکھیں یہ بات آپ اور میں کر سکتے ہیں کیونکہ ہمارا پیٹ بھرا ہوا ہے۔ ان لوگوں کا سوچیں جن کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں ہے، وہاں بات سروائیول پر آ جاتی ہے۔ جس یورپ کو آج ہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا مرکز دیکھتے ہیں، یہ وہی یورپ ہے جہاں دوسری جنگ عظیم کے دوران چاکلیٹ کی ایک بار کے عوض عورتیں اپنی عزت بیچنے پر مجبور تھیں۔
دوسری بات ایسی فضول تنقید سے صرف وکٹم کو نقصان پہنچتا ہے اور مجرم کو فائدہ۔ جب بھی ریپ کے واقعات ہوتے ایک طبقہ ریپسٹ کے بجائے عورت کے کپڑے اور اس کے گھر سے نکلنے جیسی فضول باتوں پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں۔ درحقیقت وہ ریپسٹ کے بالواسطہ مدد کر رہے ہوتے ہیں اور وکٹم کو بلیم کر کے اس کا کیس خراب کر رہے ہوتے ہیں۔
میری آپ سے درخواست ہے کہ اس روش کو ترک کر دیں۔ خدانخواستہ خدانخواستہ کل کو آپ کی فیملی کو ایسا کچھ فیس کرنا پڑا تو لوگوں کی ایسی فضول تنقید آپ کو جو تکلیف پہنچائے گی اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔
کسی مظلوم کی مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کے دُکھ اور درد میں اضافے کا سبب نہ بنیں۔
میں نے عید کے فوراً بعد اپنا یوٹیوب چینل لانچ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان شاء اللہ۔
یہ چینل آپ کی مدد کے لیے ہو گا۔
کوئی سنسنی خیز مواد نہیں، کوئی سستی سیاست نہیں۔
ٹاپکس ہوں گے:
خود کو بہتر بنانا (Self Improvement)، عالمی امور (Global Affairs)، فنانس (Finance)۔
1. میں اپنے تمام کیپیٹل مارکیٹس کے ویڈیو کورسز سب کے لیے مفت اپ لوڈ کروں گا، بشمول میرا انویسٹمنٹ بینکنگ کورس بھی مکمل طور پر FREE ہونگے۔
2. میں عالمی مسائل، عالمی معیشت اور سیاسی معیشت پر ویڈیوز بناؤں گا۔
3. میں نوجوانوں اور تمام عمر کے لوگوں کے لیے سیلف امپروومنٹ ویڈیوز بناؤں گا تاکہ وہ زندگی کی رکاوٹوں کا سامنا کر سکیں، مثبت سوچ پیدا کریں اور کامیاب ہو سکیں۔ تمام ویڈیوز اردو میں ہوں گی اور کبھی کبھی انگریزی میں بھی۔
ج
4. ہفتے میں ایک بار میں ناظرین کے سوالات لوں گا اور انہیں رہنمائی دیتے ہوئے جواب دوں گا۔
براہ مہربانی ری ٹویٹ کریں۔
پہنچی وہاں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
گلگت بلتستان انتخابات میں مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی مل کر الیکشن لڑ رہی ہیں۔ جماعت اسلامی کے 2 امیدوار ن لیگ کے حق میں دستبردار ہو گئے ہیں۔
ویلڈن حافظ صاحب۔ وِچوں وِچوں کھائی جاؤ، اُتوں رولا پائی جاؤ
“No Pakistanis or Somalis shitting on the streets.”
Dear @DubaiPoliceHQ. Almost 1.9 million Pakistanis live in UAE which is almost 19% of the population. It is against the UAE laws I know to spread religious or racial hatred. This man is the biggest religious bigot in London and now he has brought this to the UAE.
Please take action against this racist bigot and preserve the dignity of those 1.9 million Pakistanis in the UAE.
Thanks.
All Pakistanis please Retweet.
To All The Sectarian Mullahs Trying To Stir Shia-Sunni Rift In Love Of Saudi Arabia During The War……..
Talking against Mother Aisha (r) is not part of Shia faith. Neither is talking about the Khulfa e Rashedeen (r).
If any Shia mullah says anything else I condemn it in advance now all my Sunni brothers should condemn the Sunni mullah who tries to divide us by lying.
We are one. We are the followers of Aqa ﷺ and it is about time we become united. Ameen.
یہ محض ایک وڈیو کلپ نہیں ہے۔
یہ پاکستان میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی کہانی ہے۔ جہاں غریب غربت، مہنگائی اور بےروزگاری میں پِس رہا جبکہ اشرافیہ کی عیاشی اور جشن جاری ہے۔ امیر، امیر سے امیر تر اور غریب، غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔
" پاکستان میں اس وقت مارشل لاء نہیں “عاصم لاء” نافذ ہے-
ملک میں عاصم منیر کا قانون چل رہا ہے اور آئی ایس آئی اسے تحفظ دے رہی ہے- جو چیز عاصم منیر کو طاقت دیتی ہے وہ اس ملک کا قانون بن جاتا ہے- عاصم منیر اپنی طاقت کے لیے ملک کی ہر چیز کی قربانی دے گا- یہ آرمی چیف فوج کی بدنامی کروا رہا ہے، جیسا کہ یحییٰ خان نے کیا تھا۔
اس وقت سینیٹ ، قومی اسمبلی، وزیراعظم اور صدر سب غیر قانونی ہیں۔ ایک جعلی آئینی عدالت بنا کر ہماری نشستیں کم کی گئیں- جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ ایک جماعت کی نشستیں کسی اور کو دے دی جائیں۔ وہ آئینی عدالتیں جن میں انصاف ملنا چاہیے، آج وہاں عاصم منیر نے اپنے ذاتی نوکر بٹھا رکھے ہیں۔ سکندر سلطان راجہ نے تاریخی الیکشن فراڈ کیا، اور اُسے توسیع دے کر اس دھاندلی کو تحفظ دیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج سات ماہ سے میری اپیلیں نہیں سن رہا، کیونکہ اسے بھی ہدایات عاصم منیر سے مل رہی ہیں۔ اس وقت ملک میں عاصم منیر کا قانون ہے، جیسے پاکستان اس کی ذاتی ملکیت ہو۔
ملک میں عدلیہ، ادارے اور جمہوریت کو منظم طریقے سے تباہ کیا گیا ہے۔ ملٹری کورٹس کو قانونی قرار دے دیا گیا، اور یہ اقدام دراصل عدلیہ کی جانب سے خود اپنے اوپر عدم اعتماد ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مجھے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن میں یہ واضح کر دوں: میں مر جاؤں گا، مگر کبھی عاصم منیر کی بادشاہت کو تسلیم نہیں کروں گا۔ یہ ایک قبضہ گروپ ہے، جس نے ملک پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔
اس وقت پاکستان میں "ڈاکو، ڈفر الائنس" مکمل طور پر قابض ہے۔ چھبیسویں ترمیم سے ججوں کی خودمختاری مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ ججز کے احکامات کی کوئی اوقات نہیں رہ گئی، ایک پولیس والا بھی جج کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیتا ہے۔ آج دورانِ کاروائی جج صاحب نے باہر گیٹ پر منتظر میری فیملی کو اندر بلانے کا حکم دیا اور بارہا کاروائی رکوائی بھی مگر میری فیملی کو اندر نہیں لایا گیا۔ اسکا مطلب ہے کہ پولیس اہلکار کے سامنے بھی جج کے احکامات کی کوئی وقعت نہیں۔ ہمارا انصاف کا نظام مکمل طور پر دفن ہو چکا ہے۔
ملک اس وقت تباہ ہوتا ہے جب نا اہل شخص کو اس پر بٹھا دیا جائے۔۔۔
عاصم منیر ملک اور محسن نقوی کرکٹ سنبھال کر بیٹھ گیا ہے- ان کی اہلیت کیا ہے؟ محسن نقوی کی وجہ سے آج ہماری ٹیسٹ ٹیم نویں نمبر پر پہنچ چکی ہے۔ جب اس طرح کے نااہل بٹھائے جائیں گے، تو کھیلوں سمیت ہر شعبے کا یہی حال ہوگا۔ ملک تباہ تب ہوتا ہے جب نااہل لوگ اہم عہدوں پر قابض کر دئیے جائیں۔ یہ بہت خطرناک ہوتا ہے کہ کسی کو بغیر اہلیت صرف طاقت کے زور پر اداروں پر مسلط کر دیا جائے۔
مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ مجھے 22 گھنٹے سیل میں قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، کتابیں نہیں دی جا رہیں، حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے نہ ہی اخبار دیا جارہا ہے اور نہ ہی ٹی وی دیکھنے کی اجازت ہے۔ یہ نہ صرف مقامی بلکہ عالمی انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ آج جج کے حکم پر 3 گھنٹے کے بعد فقط ایک کتاب مجھے مہیا کی گئی ہے۔ جبکہ میری فیملی نے گزشتہ 1.5 ماہ کے دوران کم از کم 2 درجن کتابیں بجھوائی ہوئی ہیں۔ جب سے جیل سپرنٹینڈنٹ غفور انجم آیا ہے، مجھ پر ٹارچر بہت بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ تمام ٹارچر اس کی سربراہی میں کیا جارہا ہے۔
ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، پاکستان میں اس وقت جو بھی امن کیساتھ کھڑا ہے، امن مارچ کر رہا ہے ہمیں اسکے ساتھ بھرپور یکجہتی دکھانی چاہیے۔
آج سات ماہ ہو گئے، مجھے اپنے بچوں سے بات نہیں کرنے دی گئی۔ یہ اُن کا حق ہے کہ وہ عدالت میں جائیں، اور میں نے خود اپنے بیٹوں کو کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی بنیاد پر عالمی عدالت سے رجوع کریں۔ وہ امریکا میں کسی سے مدد نہیں مانگ رہے، صرف اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ جب صدر ٹرمپ کی حکومت آئی تب بھی میں نے یہی کہا تھا کہ پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے ۔
ہم نے تمام دروازے کھٹکھٹائے، لیکن کہیں سے سنوائی نہیں ہوئی۔ میں نے صرف ایک بار مذاکرات کا کہا تھا، وہ بھی 26 نومبر اور 9 مئی کے کمیشن کے مطالبے کے ساتھ۔ 26 نومبر کو نہتی عوام پر گولیاں چلانے کے پیچھے عاصم منیر ہے۔ میں آج پھر واضح کر رہا ہوں کہ اب بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ گروہ پورا نظام ہتھیا چکا ہے-
بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، علی امین گنڈاپور اور جنید اکبر کو تاکید کرتا ہوں کہ بھرپور طریقے سے تحریک چلائیں۔ تحریک کا مقصد انصاف کا نظام، قانون کی بالادستی اور آئین کا تحفظ ہونا چاہیئے۔ اگر ہم نے سڑکوں پر آواز نہ اٹھائی تو یہ قبضہ گروپ پارلیمانی پارٹی کو بھی آہستہ آہستہ تباہ کر دے گا۔ میں کھڑا ہوں، تو آپ کو بھی کھڑا ہونا ہوگا۔
1/2
میں نے آج ایک بات پڑھی، ایسی بات جو صرف لفظ نہیں تھی، ایک آئینہ تھی اور میں اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر ٹوٹ گئی۔
کہا گیا کہ "عورت کی آزادی کا دائرہ اتنا تنگ کر دیا گیا ہے کہ اب وہ صرف روزگار کو ہی نجات یا آزادی سمجھنے لگی ہے۔"
میرا دل جیسے کسی نے مٹھی میں بھینچ لیا ہو…
کیا واقعی ہم وہیں کھڑے ہیں؟
کیا واقعی ہم نے سوچنا چھوڑ دیا ہے کہ آزادی صرف کمائی نہیں ہوتی، آزادی تو رائے میں تھی، اختیار میں تھی، چاہت کے انتخاب میں تھی اور سب سے بڑھ کر 'احساس تحفظ' میں تھی۔
لیکن افسوس…
ہم نے آزادی کو چند نوکریوں، تنخواہوں اور "برابر کا شریک" ہونے کی جنگ تک محدود کر دیا ہے۔
ہم نے سیکھ لیا کہ اگر ہم معاشی طور پر آزاد ہیں
تو باقی زنجیریں قابل برداشت ہیں۔
ہم نے ہنس ہنس کر قبول کیا کہ گھر کے اندر جو بےحسی ہے،
سماج کی وہ نظروں کی تراشی،
وہ جملے، وہ خاموش طنز،
سب ٹھیک ہے....
بس نوکری ہے نا؟
بس اپنی پہچان ہے نا؟
بس اکیلی باہر جا سکتی ہوں نا؟
تو آزاد ہوں نا؟
لیکن نہیں۔
یہ آزادی نہیں، یہ سودا ہے!
ایک مکمل وجود کو چند حقوق کے بدلے گروی رکھنے کا سودا۔
اصل آزادی تو یہ تھی کہ عورت کو یہ نہ سکھایا جائے کہ باہر نکلنا ہی آزادی ہے، بلکہ یہ حق دیا جائے کہ وہ جہاں چاہے، جیسے چاہے، محفوظ اور باوقار زندگی گزار سکے۔
کہ وہ اگر گھر میں رہے تو قید نہ ہو اور اگر باہر نکلے تو اپنے وجود سے زیادہ بوجھ نہ اٹھائے بس عزت، اختیار اور مان کے ساتھ جئے۔
مجھے دکھ اس بات کا نہیں کہ ہم میں سے کسی نے روزگار کو اپنایا، دکھ اس بات کا ہے کہ ہم نے اسی کو آزادی سمجھ لیا۔
آزادی…
جو ایک احساس تھی، ایک سانس تھی،
اب صرف ایک سسٹم کا پرزہ بن گئی ہے۔
اور شاید سب سے بڑا ظلم یہی ہے کہ ہم نے یہ سب خود سے قبول کر لیا ہے۔
میں نے "پبک انٹرسٹ" پر آپ سب کی ٹویٹس پڑھی ہیں۔
ایک بنیادی پوائنٹ ہے جو آپ سب لوگ مِس کر رہے ہو۔ میں مثال دے کر سمجھاتا ہوں۔
آپ کے دروانے پر دستک ہوتی ہے، سِول کپڑوں میں ایک بندہ کھڑا ہے اور وہ کہتا ہے گھر کی تلاشی لینی ہے۔ کیا آپ اُسے تلاشی لینے دو گے یا پہلے اس سے سروس کارڈ، وارنٹ مانگو گے؟
ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ یہ چیک کرنے کے لیے کہ اِس شخص کے پاس کام کرنے کی اتھارٹی ہے یا نہیں۔
فوج جو کرتی ہے "پبلک انٹرسٹ" میں کرتی ہے کی دلیل کے جواب میں کوئی مارشل لا گنوا رہا، کوئی گم شدگیاں گنوا رہا، کوئی آمریت اور فسطایت گنوا رہا۔ یہ سب کرتے وقت آپ ان ڈائریکٹلی یہ بات تسلیم کر رہے ہیں کہ فوج کے پاس پبلک انٹرسٹ کے فیصلے کرنے کا اختیار ہے۔
یہاں آپ کو سوال یہ پوچھنا چاہیے کہ کیا پاکستان کے آئین میں فوج کے پاس یہ اختیار اور اتھارٹی ہے کہ وہ منتخب حکومتیں گرائے اور اپنی مرضی کے لوگ لائے بھلے اس کو پبلک انٹرسٹ کا نام دیا جائے؟
ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ جس کے پاس ایک کام کرنے کی اتھارٹی ہی نہیں ہے، جن فیصلوں کا مینڈیٹ ہی نہیں ہے، اُس کا کیا ہر فیصلہ غیرقانونی اور غلط ہے۔ آپ وضاحتیں دینے کے بجائے بنیادی پوائنٹ پر فوکس کریں۔
بینادی پوائنٹ یہ ہے کہ پبلک انٹرسٹ کے فیصلے کرنے کا اختیار صرف پبلک کے منتخب کردہ لوگوں کے پاس ہوتا ہے جو ان کو مینڈیٹ کی صورت یں یہ اختیار دیتے ہیں۔ باقی کسی کے پاس یہ اختیار نہیں ہے۔