میں رنجور ہو گیا۔۔!!
جب پڑھا کہ
زندگی میں ایک مقام پر پہنچ کر
انسان کی بینائی کمزور یا کھو جاتی ہے۔
کہ
میں تمہاری تصویر کیسے دیکھ پاؤں گا۔
پھر انسان کی سماعت ساتھ چھوڑ دیتی ہے
تو
میں تمہاری ریکارڈشدہ آواز کیسے سن پاؤں گا۔
میں دکھ میں مبتلا ہو گیا
کہ
اگر میں یاداشت ہی کھو بیٹھا؟
ازبک اور ہندی زبان کا اک لفظ ہے بالم۔۔!!
جو اردو میں بھی مستعمل ہے۔
اردو میں بالم کا مطلب "محبوب
اور
ازبک میں بالم کا مطلب ہے
کہ
"مجھے علم ہے۔
دن کے آخر پہ جو اداسی ہے
اسکا سبب
بالم ہے۔
صحرا میں پھول دکھیں
باغ صحرا لگے
درد ہو
سکون ہو
خزاں بہار لگے یا بہار خزاں
اسکا سبب
بالم ہے۔
میں عہد کر چکا ہوں۔۔!!
اور
اس کو ہر صورت ایفا کرتا ہوں
کہ
اپنی ذات میں بدلاؤ رکھوں گا
خاموشی کی مقدار بڑھاتا رہوں گا
کبھی بھی پہلے سوال نہیں کروں گا
منطق ہوگی تو صفائی دوں گا ورنہ نہیں۔
تنہائی کو وسعت دوں گا
تعلق کم بناؤں گا
اور
سدا مسکراؤں گا۔
پھر چاہے سینہ کتنا ہی دہک رہا ہو۔
دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کو اپنے وجود، اپنی ذات سے بڑھ کر کسی سے پیار، کسی کی پروا ہو۔
ہم سب ہی خودغرض ہیں۔
یہ غرضیں ہی ہیں جن کے لیے رشتے باندھتے ہیں ہم سب۔
جس سے کوئی غرض نہ ہو، اُس سے کوئی رشتہ کیوں بنائے گا کوئی؟