امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کا کہنا ہے کہ ایم ڈی کیٹ کے ٹاپ 100 بچوں کا دوبارہ ٹیسٹ لے کر دیکھ لیں حقیقت کھل جائے گی۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر نے کہا کہ اندرون سندھ کے 80 فیصد والے این ای ڈی میں 26 فیصد نمبرز لیتے ہیں، سندھ حکومت نے تعلیم کا نظام تباہ کردیا ہے۔
#TOKAlert #MDCAT #Karachi
یہ جائز اور حلال بھتہ ہے کیونکہ فرزند زمین سندھی وصول رہا تگا اس بھتے سے انکار کرنے والوں کا یہی انجام ہونا چاہئے تگا۔
کیسے ایک پنجابی کی مجال کے وہ سندھ آئے کاروبار کرے اور حرام خور سندھی وکلا کو بھتہ نا دے ؟
عدالت بس ایک چھوٹا سا کام کرلے
پہلی 100پوزیشن لینے والوں کو کراچی IBA میں بلواکر اسی پرچے میں ترتیب آگے پیچھے کرکے وہی پرچہ ان طلبہ کو دوبارہ حل کرنے کے لیۓ دے دے
عدالت اپنی نگرانی میں میڈیا کی موجودگی میں یہ عمل کرلے
کسی ثبوت کی ضرورت نہیں رھے گی
تصویر میں نظر آنے والے اس شخص کا نام عذیر رستم ہے ۔ اس کو پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے لیاری جنرل اسپتال میں بطور ایکسرے ٹیکنیشن سرکاری نوکری دی۔ اور انتہائی قلیل عرصے میں عذیر رستم ایکسرے ٹیکنیشن سے سیدھا گریڈ 19 میں لیاری میڈیکل کا ڈائریکٹر ایڈمن بن گیا۔
اس نے لیاری جنرل اسپتال کی مشینیں، بیڈ اے سی تک بیچ کھائے۔ نوکریاں رشوت کے نام پر بیچ دیں، غریب مریض دوائی کو ترس گئے ۔
اس پر بلاول بھٹو زرداری کے پرسنل سیکریٹری کا ہاتھ ہے۔ اسی کا نام لیکر لیاری میڈیکل کی سیٹیں بیچنے سے لیکر لیاری جنرل ہسپتال میں غریب لوگوں کو دی جانے والی میڈیسن بھی فروخت کررہق ہے گھوسٹ ملازمین بھی اس نے بھرتی کر رکھے ہیں۔ اپنے بیٹے سمیت اپنا پورا خاندان لیاری میڈیکل میں گریڈ ایک سے گریڈ یارہ تک بھرتی کروا رکھا ہے جو نوکریوں پر تو نہیں آتے ہیں لیکن ماہانہ لاکھوں روپے کی تنخواہیں گھر بیٹھے وصول کرتے ہیں
بی ایس نرسنگ کی جعلی ڈگریاں بنا کر بیچنے سے لیکر لیاری جنرل ہسپتال کو ملے ہوئے جدید میڈیکل آلات پرائیویٹ لیبارٹریوں کو بیچنے تک کے ہر گھناؤنے دھندے میں یہ ملوث ہے۔
یہ کھلم کھلا خود کو چئیرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری کے پرسنل سیکرٹری کا فرنٹ بتاتا ہے اور کرپشن کے مال کاحصہ آگے دینے کا دعوی کرتا ہے ۔
سوچنے والی بات ہے کہ ایک ایکسرے ٹیکنیشن کیسے انیس گریڈ کی سیٹ پر پہنچا اور اب راتوں رات بہادر میں نو کروڑ روپے سے زائد مالیت کے فیلٹس کروڑوں کی گاڑیاں کہاں سے بنی ہے
سندھ میں دیدہ دلیر کرپشن اب اس لیول پر پہنچ گئی ہے جہاں کرپشن کی تحقیقات کرنے والا اینٹی کرپشن ادارہ خود سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا ہے۔
کراچی کے یلو لائن بی آر ٹی منصوبے میں تقریباً 8.5 ارب روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات سندھ اینٹی کرپشن کے حوالے کی گئی تھیں، مگر سندھ ہائی کورٹ نے سخت سوال اٹھایا ہے کہ ایف آئی آر کے مہینوں بعد بھی تحقیقات مکمل کیوں نہیں ہوئیں اور چالان عدالت میں کیوں جمع نہیں کرایا گیا۔عدالت نے اینٹی کرپشن کے چیئرمین کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا تحقیقات میں تاخیر سے ملزمان کو فائدہ پہنچایا گیا اور کیوں نہ معاملہ نیب کے حوالے کردیا جائے۔ شاید یہی پس منظر تھا کہ اس بدنام زمانہ کیس کے مرکزی ملزم کو پہلی سماعت میں ہی ضمانت مل گئی یلو لائن کی لاگت بھی تقریباً 61 ارب روپے سے بڑھ کر 173 ارب روپے سے زیادہ ہوچکی ہے۔
یہ صرف ایک منصوبے کا اسکینڈل نہیں، سندھ کے پورے احتسابی نظام پر بڑا سوال ہے۔مکمل تحقیق اور چونکا دینے والی تفصیلات کے لیے OMR کا YouTube لنک ضرور کلک کریں اور پورا پروگرام دیکھیے۔ https://t.co/6LDvdKXZAC
کراچی کے فارم ہاؤس میں آنیوالی ڈیڑھ سو لڑکیوں سے آرگنائزر سلمان موبائل لیکر فرار ہوگیا متاثرہ لڑکیوں کیمطابق انہیں جاب کی تربیت کیلئے یہاں بلایا گیا تھا سلمان نے کہا کہ کوئی ویڈیو نہ بنائے لہذا فون جمع کرائیں اور اسکے بعد دوسرے لڑکے کیساتھ بیگ میں موبائل بھر کر بھاگ گیا
“Why is the future of Karachi’s children being put at stake? Mustafa Kamal and Azra Pechuho should answer. Conduct a test of the top 100 MDCAT students, and the truth will become clear,” stated Monem Zafar while speaking to the media, referring to Mustafa Kamal and Azra Pechuho over the MDCAT test.
#TOKReports #MDCAT #KarachiStudents
پختون قبائلی موومنٹ کے دفتر آمد پر عمائدین نے ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنماؤں سید مصطفیٰ کمال، انیس احمد قائمخانی، فرقان اطیب، رکنِ قومی اسمبلی اقبال محسود سمیت دیگر ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کا پرتپاک استقبال کیا۔
#MustafaKamal#HealthMinister#Karachi#MQMPakistan #PQM #انتظامی_یونٹس_تو_بنکر_رہیگا
ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر برائے صحت سید مصطفیٰ کمال نے 6 ماہ سے صومالی قزاقوں کی قید میں پاکستانی شہری اور مرچنٹ نیوی کے سیکنڈ آفیسر کاشف عمر کی شہادت پر گہرے افسوس اور رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
سید مصطفیٰ کمال نے شہید کاشف عمر کے درجات کی بلندی اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے مزید کہا شہید کاشف عمر کا سانحہ نہایت المناک اور دل دہلا دینے والا ہے۔ غم اور درد کی اس سخت گھڑی میں ہم شہید کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے صبرِ جمیل کے لیے دعا گو ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے متعلقہ حکام سے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہید کاشف عمر کے جسدِ خاکی کو صومالیہ سے فوری اور باحفاظت پاکستان منتقل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تمام تر سفارتی و سرکاری اقدامات کیے جائیں، تاکہ لواحقین اپنے پیارے کی تدفین مذہبی و قومی احترام کے ساتھ وطنِ عزیز میں کر سکیں۔
ڈومیسائل اور کاسٹ دیکھ کے نتائج کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہی کام میٹرک اور انٹر بورڈ میں کیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اردو بولنے والوں کی کھلے عام نسل کشی کر رہی ہے۔ ان کتوں سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔
صبح سے پوری پیپلز پارٹی اور ان کے گماشتے ایک جھوٹ کو ڈیفینڈ کرنے میں لگے ہیں۔ شرجیل میمن کی گاڑی کے لیے بچھایا گیا ریڈ کارپٹ اُٹھا کر، ایریل فوٹیج بنا کر یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ بے وقوف ہیں۔۔۔ انہی کی جاری کردہ فوٹیج اور انہی کے سوشل میڈیا سرخیلوں کی پرانی ٹوئیٹس میں وہ ریڈ کارپٹ صاف نظر آ رہی ہے جسے ڈرون فوٹیج میں اُٹھا دیا گیا ہے۔۔۔ ایک تو چور اوپر سے چتر۔
نہ مدعی نہ شہادت۔ حساب پاک ہوا
یہ خون خان نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا
ساڑھے آٹھ سال بعد۔۔ اس مقتول کے قاتلان بری کردیئے گئے۔
یہ میرا 8 سال پہلے لکھا کالم ہے جب یہ افسوسناک قتل ہوا۔۔ لیکن ہم انصاف نہ دلاسکے۔
ہمارے سر شرم سے جھکے ہوئے ہیں۔
جو شہر کو پانی سے فراہم نہ کر سکے، شہر کو کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا، ٹوٹی سڑکیں، گٹر ابللتے نالے، جنہوں نے چھ سال یونیورسٹی روڈ کو کھود کر تباہ حال رکھا، پھر بھی BRT مکمل نہ کرنے کی وجہ سےFWO کو بلوانا پڑا، آج سالوں بعد ایک فلائی اوور بننے پر یہ نالائق اپنے ہی لئیے ریڈ کارپٹ بچھوا کر بادشاہوں کی طرح پریڈ کر رہیے اور عوام انہیں سلامیاں دینے پر مجبور ہے۔ ان عوام کے نوکروں نے عوام کو نوکر سمجھ لیا ہے۔