مزے کی بات یوتھیوں کو چ بنانا دنیا کا سب سے آسان کام ہے اب یہ یوتھیوں کے اس ارسطو کی سن لو پہلے سہیل آفریدی اساطیری یونانی دیوتا بنا دیا کہ کیا کمال حکمت عملی ہے اس کے بعد جب گورنر راج لگا تو کہتا اس کے پاس کوئی حکمت عملی نہی ہے
آج وزرات خارجہ کے کرپٹ مافیا میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔۔اربوں کی کرپشن کا راستہ بند۔
وزرات خارجہ نے تصدیق کا نظام ڈیجٹل کرکے بہت اچھا کر دیا۔
Good job @MIshaqDar50 sb..
ایسے بڑے دل والے لوگ ابھی موجود ہیں۔
اس شخص کی ایک کروڑ روپے کی گاڑی اس کا ڈرائیور چلا رہا تھاچانک جیسے وہ G-7 مرکز اسلام آباد پہنچا تو ایک بائیکیا رائڈر نے ایک دم رونگ ٹرن لے لیا
جس کی وجہ سے ڈرائیور اس کو بچاتے بچاتے خود حادثہ کا شکار ہوگیا
بائکیا والے کو چوٹیں آئیں وہ کانپنے لگ گیا رونے لگ گیا کہ اب تو وہ گیا کیونکہ اس کی وجہ سے دس لاکھ سے زیادہ گاڑی کا نقصان ہوگیا
ڈرائیور بھی پریشان تھا کہ اب کیا ہوگا اس نے مالک کو کال کی تو وہ قریب ہی تھا وہ اپنی گاڑی پہ آگیا
اس نے جب صورتحال دیکھی تو کہا کہ یہ سب ﷲ کی طرف سے تھا میں ﷲ کی رضا کی خاظر تمہیں معاف کرتا ہوں
اور جیب سے دو ہزار نکالے اس بائکیا والے کو دے دیئے اور کہا کہ اپنا جاکر علاج کرواؤ ۔
اور اپنے ڈرائیور کو کہا کہ پریشان نہ ہو تمہاری جگہ میں بھی ہوسکتا تھا ۔
یقین مانیں ایسے لوگوں کو ﷲ مزید دے اور ایسا امیر ﷲ پاک ہر انسان کو بنائے۔
آپ اس فرشتہ صفت انسان کے بارے میں کیا کہیں گے؟؟؟
شرعی پردہ رکاوٹ؟
شاید آپ نے سمجھا ہو کہ سر تا پا مکمل نقاب اور شرعی حجاب میں ملبوس یہ خاتون کسی دینی مدرسے کی معلمہ، طالبہ یا کسی "تنگ نظر" مولوی کی اہلیہ ہیں۔ نہیں جی! یہ دنیا کی نامور ترین سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر نجلاء بنت سعد الردادی (Prof. Dr. Najlaa Al-Radadi) ہیں۔ جنہیں گزشتہ روز مسلسل پانچویں بار دنیا کے 2 فیصد ذہین اور اثر انگیز ترین سائنسدانوں کی عالمی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر نجلاء سعودی عرب کی نامور یونیورسٹی جامعہ طیبہ (Taibah University) مدینہ منورہ میں انارگینک اور نینو کیمسٹری (Inorganic & Nanochemistry) کی پروفیسر ہیں۔ انہوں نے کیمسٹری کے شعبے میں اعلیٰ ترین ڈگریاں (Ph.D) حاصل کیں اور اپنی علمی قابلیت کی بنا پر نہ صرف تدریسی میدان میں ہزاروں طالبات کی تربیت کی بلکہ بائیو میڈیکل سائنسز میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔
سائنسی کارنامے اور اختراعات (Patents)
ان کی تحقیق کا بنیادی محور نینو ٹیکنالوجی اور کینسر ریسرچ ہے۔ انہوں نے عجوہ کھجور اور قدرتی نباتاتی اجزاء سے پلاٹینم، گولڈ اور سلور کے نینو پارٹیکلز (Nanoparticles) کی ماحولیاتی دوست (Green Synthesis) تیاری کے سائنسی طریقے ایجاد کیے۔ کینسر کے ٹیومر اور خطرناک بیکٹیریا کے خلاف ان کی تیار کردہ دوا ساز تکنیکوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا اور ان کے نام پر کئی عالمی پیٹنٹس (Patents) درج ہیں۔
امریکہ کی دنیا سے تسلیم شدہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی (Stanford University) ہر سال عالمی سطح پر شائع ہونے والے تحقیقی مقالوں، سائٹیشنز (Citations) اور علم کے میدان میں حقیقی اثر (h-index) کو پرکھ کر سائنسدانوں کا انتخاب کرتی ہے۔ ڈاکٹر نجلاء الردادی کو 2022ء سے لے کر 2026ء تک مسلسل پانچویں سال اس فہرست کا حصہ بنایا گیا، جو ان کی بلاشرکتِ غیرے سائنسی برتری کا ثبوت ہے۔
کیا سمجھے؟ کیا پیغام ہے اس میں؟ کیا دینی وابستگی، نقاب اور پردہ خاتون کے راستے کی رکاوٹ ہے؟ پاوں کی بیڑی ہے؟ ترقی میں حائل ہے؟
مغرب اور مغرب زدہ ذہن اکثر یہ پروپیگنڈا کرتے نظر آتے ہیں کہ اسلام، بالخصوص عورت کا نقاب اور شرعی پردہ، اس کی ترقی، عقل اور سائنسی پیشرفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ڈاکٹر نجلاء الردادی کا مبارک سراپا اس باطل و فرسودہ نظریئے کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔
وہ نہ صرف مدینہ منورہ کی فضاؤں میں اسلامی احکامات کی پابندی کرتے ہوئے کامل شرعی پردہ کرتی ہیں، بلکہ ان کا حجاب ان کی سائنسی لیبارٹری، بین الاقوامی کانفرنسوں اور تحقیقی صلاحیتوں میں کبھی حائل نہیں ہوا۔ ان کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ پردہ ذہن کا قید خانہ نہیں، بلکہ عورت کے وقار کا محافظ ہے اور سائنس کا تعلق انسان کی صلاحیت سے ہے، اس کے لباس کی اختصار پسندی سے نہیں۔
یہ صرف ڈاکٹر نجلاء نہیں، بلکہ مکمل شرعی حجاب کے ساتھ کئی دیگر ہماری بہنیں بھی عالمی سطح پر سائنسی میدان میں اپنا لوہا منوا چکی ہیں۔ جیسے کہ مصر کی پروفیسر سمیرا موسیٰ۔ پہلی عرب ایٹمی سائنسدان جنہوں نے طبی مقاصد کے لیے ایٹمی انرجی کی سستی دستیابی پر کام کیا۔ ان کے علاوہ مصر ہی کی ڈاکٹر یاسمین مصطفیٰ۔ نینو ٹیکنالوجی اور اینوائرنمنٹل سائنس کی عالمی ماہر، جن کے نام پر NASA نے ایک سیارچے (Asteroid) کا نام رکھا ہے۔ سعودیہ کی ڈاکٹر ریم الترکی بھی اس کی بہترین مثال ہیں۔ جینیٹکس اور کینسر ریسرچ کی ممتاز ترین سائنسدان ہیں۔
کھوپڑی میں گوبر بھرا ہو تو برہنگی کو ترقی اور پردے کو پسماندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ حجاب عورت کو پسماندہ نہیں بناتا، بلکہ بے حیائی کو روشن خیالی سمجھنا ہی ذہنی پسماندگی ہے۔ جب نیت سچی اور عزم پختہ ہو تو ایک باحجاب خاتون لیبارٹری کی مائیکروسکوپ سے لے کر کائنات کی وسعتوں تک، ہر میدان فتح کر سکتی ہے۔(ضیاء چترالی)
میں چیلنج کرتا ہوں
عمران خان کو گرفتار کر کے دکھائیں
پنکی پیرنی کے ڈوپٹے کو ہاتھ لگا کر دکھائیں
عمران خان کی بہنیں ہماری ریڈ لائن ہیں گرفتار کر کے دکھائیں
پختونخواہ میں گورنر راج لگا کر دکھائیں
تواڈی پین دی سری سب کچھ کر دیا ہے
کاش سہیل آفریدی ایسے الفاظ منہ سے نکالنے سے پہلے کچھ سوچ لیتے۔ وہ ایک صوبہ کے حکمران ہیں اور سیاسی رہنماؤں کا کام مشکل ترین حالات میں بھی جذبات کا اظہار بردباری اور ملکی مفاد کو مقدم رکھ کر کیا جانا چاہئے
🚨آپ جھوٹ بولیں گے میں ریکارڈ سے سچ بتاؤں گا۔
سہیل آفریدی نے کل پھر پشتون نسل پرستوں والا چورن بیچتے پاکستان پر ڈالروں کی جنگ کا الزام لگایا ہے یہ امریکہ کا سرکاری ریکارڈ ہے آپ @grok سے چیک کروا لیں امریکہ سے 1946 سے اب تک سب سے ریکارڈ ڈالر لینے والے ممالک میں سب سے ٹاپ پر اسرائیل اور تیسرے نمبر پر افغانستان ہے اور پہلے دس ممالک میں پاکستان شامل نہی ہے انڈیا 8 نمبر پر ہے ان پشتون نسل پرستوں نے تو سویت یونین تک سے کھلا مال آن ریکارڈ پکڑ رکھا ہے ڈالروں کی جنگ میں ڈالرز صرف پشتون افغانوں اور ان کے نسل پرستوں نے کمائے ریکارڈ آپ کے سامنے ہے
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والےسابق مسلمان باڈی بلڈر احمد حرائشی جو اب آسٹریلیا میں مسلمانوں کی میت کو غسل دیتا ہیں اور اسلامی تدفین کے منتظم کے طور پر ایک تنظیم چلا کر خدمات انجام دیتے ہیں اپنے حالیہ انٹرویو میں اس سے سوال ہوا کوئی ایسا واقعہ سنائیں جو آپ اتنے سارے مسلمانوں کو غسل دیتے ہے جو آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے احمد حرائشی نے کہا کہ آسٹریلیا کی مختلف ریاستوں میں قبر کی جگہ 25 سے 99 سال تک کے لیے لیز پر دی جاتی ہے۔ مقررہ وقت پر لواحقین سے رابطہ کیا جاتا ہے اگر وہ چاہئے تو مزید رقم دیکر مزید سالوں کیلئے لیز نیا کراسکتے ہےایک قبر تھا 25سال کے بعد جب ان کے لواحقین سے رابط کیا گیا تو ان سے رابطہ نہیں ہوسکا پتہ چلا کہ وہ عراق کے رہنے والے تھے اور آسٹریلیا میں کام کاج کیلئے آئے تھے اس آدمی کے انتقال کے بعد وہ آسٹریلیا چھوڑ کر چلے گئے جب اس کی قبر کو ہٹایا جارہاتھا تو وہ شخص قبر کے اندر ایسا پڑا ہوا تھا جیسے یہ ایک منٹ پہلے رکھا گیا ہو مجھ سے رابطہ کیا گیا جب میں پہنچا تو میں نے سبحان اللہ کہدیا کیونکہ اس کے آس پاس بھی بہت سے قبریں مسمار کردگئی تھی تمام کے اندر سے سوائے مٹھی کے کچھ بھی نہیں تھا میں نے اپنی تنظیم کی طرف ہمیشہ کیلئے قیمت دیکر اس کیلئے وہ جگہ خرید لی قبر بند کردیا گیا لیکن میرے ذہن میں سوال تھا کہ آخر یہ شخص کون ہوگا میں نے تحقیقات شروع کردی کہ یہ شخص کیا کرتا تھا تو میں نے جب پوری معلومات حاصل کرلی کہ وہ شخص محمد طلال کے نام سے تھا اور حافظ قرآن تھا آسٹریلیا میں ایک فیکٹری میں کام کرتا اور ایک مسجد میں فی سبیل اللہ پانچ سال تک امامت کرائی اس نے اور اسکے ہاتھوں پر بہت سارے لوگ اسلام میں داخل ہوئے تھے یہ وہ واقعہ ہے جو میں نے اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے
میر صاحب آپ معاملے کو جس زاویے سے دیکھ رہے ہیں در اصل حقائق اس سے مختلف ہیں اور یہی سوال تو ہم مسلسل اٹھا رہے ہیں کہ کیا ایمل ولی اور مولانا فضل الرحمن وغیرہ بھی ان اضلاع میں پی ٹی آئی کی طرح جلوس"بخیرو عافیت" گزار لیں گے؟
اگر نہیں ! تو پھر "پس پردہ معاملے" کو سمجھنا بھی چاہیئے۔
دو دن مل بیٹھے تھے تو آج پھر مل بیٹھیں۔کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ مذاکرات بحال نہیں ہو سکتے۔ دہشت گردی،لانگ مارچ ،افراتفری ملکی معیشت کی کمر توڑ دیتی ہے۔ غریب پستا ہے اور پرتشدد مظاہروں کا نشانہ سرکاری اہلکار اور غریب کارکن بنتے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر بیٹھے ارسطو بس آگ لگاتے ہیں۔