اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا اور پچاس ویں امام، "پرنس شاہ رحیم آغا خان"، اس وقت پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کا استقبال کسی ملک کے صدر یا وزیرِ اعظم کی طرح ریڈ کارپٹ، گارڈ آف آنر اور 21 توپوں کی سلامتی جیسے روایتی شاہی پروٹوکول سے کیا گیا ہے۔
صرف پاکستان میں ہی ایسا نہیں ہوا، دنیا کے اکثر ممالک انہیں "سربراہِ مملکت" (Head of State) کے برابر پروٹوکول اور سفارتی استثنیٰ (Diplomatic Immunity) دیا جاتا ہے۔
یہاں سوال جنم لیتا ہے کہ ایک ایسی شخصیت جس کے پاس کوئی خطہِ زمین ہے نہ کوئی اپنی فوج، وہ عالمی سیاست مین کوئی کردار رکھتی ہے، وہ اس مقام تک کیسے پہنچی؟؟
اس راز کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے بند پَردوں کو ہٹا کر اس داستان کے تانے بانے دیکھنا ہوں گے۔
اسماعیلی، اہل تشیع کی ایک اہم شاخ ہیں۔ آٹھویں صدی عیسوی میں چھٹے امام، حضرت جعفر صادقؑ کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے اسماعیل بن جعفر کی پیروی کرنے والے "اسماعیلی" کہلائے۔ تاریخ میں ان کا سب سے سنہری دور "خلافتِ فاطمیہ" تھا، جس نے مصر، شمالی افریقہ اور شام پر صدیوں تک حکومت کی اور قاہرہ کی مشہورِ زمانہ "الجامعۃ الازہر" کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی تھی۔ اس حکومت کا خاتمہ صلاح الدین ایوبی ک ہاتھوں ہوا تھا۔
بعد میں یہ ایران منتقل ہو گئے، صفوی دور حکومت میں معتوب رہے، اور صدیوں بعد، انیسویں صدی کے آغاز میں یہ خاندان ایران کے شاہی دربار سے وابستہ ہوا۔ 1818ء میں ایران کے "قاجار بادشاہ"، فتح علی شاہ نے اسماعیلیوں کے 46 ویں امام، حسن علی شاہ کو اپنا دماد بنایا اور پہلی بار "آغا خان" کا شاہی لقب دیا۔
لیکن یہ تعلقات جلد ہی ایک بڑے جغرافیائی اور سیاسی تنازع کی نذر ہو گئے۔ ایران کی قاجار حکومت اور ��غا خان اول کے درمیان جھگڑے کی اصل بنیاد انکے برطانوی سلطنت (انگریزوں) کے ساتھ بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات بنے۔ یہ وہ دور تھا جب برطانوی سلطنت خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو پھیلا رہی تھی اور ایران اس نوآبادیاتی طاقت کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا تھا۔
آغا خان اول کے انگریزوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط نے قاجار دربار میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے، جس کے نتیجے میں اختلافات اتنے بڑھے کہ مسلح تصادم کی نوبت آ گئی۔ ایران میں اپنے سیاسی حریفوں سے شکست کھانے کے بعد آغا خان اول کو 1840ء کی دہائی میں ایران چھوڑ کر افغانستان اور پھر وہاں سے برطانوی ہندوستان ہجرت کرنی پڑی، یہ وہ دور تھا ج�� انگریز ہندوستان پر اپنے پاؤں جما رہا تھا اور اسے سندھ اور سرحد (کے پی کے) میں وفاداروں کی ضرورت تھی۔ آغا خان اول نے برطانوی افواج کی فوجی اور سیاسی مدد کی، جس کے بدلے انگریز حکومت نے انہیں نہ صرف پناہ دی بلکہ "ہز ہائینس" (His Highness) کا شاہی خطاب دے کر بمبئی (موجودہ ممبئی) میں مستقل طور پر آباد کر دیا۔
بیسویں صدی کے آغاز میں یہ خاندان انگریزوں کی سرپرستی میں برصغیر کے مسلمانوں کا بااثر رہنما بن کر ابھرا۔ سرسید کی تعلیمی مہم میں آغا خان سوئم نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے اداروں کے قیام میں کردار ادا کیا۔ آغا خان سوم (سر سلطان محمد شاہ) کو 1906ء میں قائم ہونے والی "آل انڈیا مسلم لیگ" کا پہلا مستقل صدر بنایا گیا۔ شملہ میں مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے وائسرائے سے ملاقات کی۔ گول میز کانفرنسوں میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی میں پیش پیش رہے۔ چونکہ وہ انگریزوں کے بہت قریبی اور معتمد تھے، اس لیے انہیں عال��ی سطح پر برطانوی راج کی سرپرستی حاصل رہی۔
پہلی جنگِ عظیم کے بعد، جب خلافتِ عثمانیہ اور ینگ ترکس کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ تھے، تو انہی آغا خان سوئم نے ینگ ترکس (Young Turks) کے نمائندے اور ترکی کے وزیرِ اعظم عصمت انونو کو خط لکھ کر "خلافت کو برقرار رکھنے" کی اپیل کی۔ "مصطفیٰ کمال" (اتاترک) نے آغا خان کے انگریزوں کے ساتھ گہرے روابط کی بنیاد پر وجہ سے اس خط کو "برطانوی سازش" اور "ترکی اندرونی معاملات" میں مستقل مداخلت کی راہ قرار دیا، اور پھر اسی خط کو بہانہ بنا کر مارچ 1924ء میں خلافت کے خاتمے کا اعلان کر کر دیا۔ موقف اختیار کیا کہ جب تک خلاف کا دارہ قائم رہے گا برطانوی ایجنٹوں کی مداخلت ختم نہیں ہو سکے گی۔
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں اس خاندان نے اپنی رہائش اور سرمائے کا رخ برصغیر اور برطانیہ سے موڑ کر فرانس کی طرف کرنا شروع کر دیا۔ برطانیہ کے بجائے فرانس کو اپنا مستقل مسکن بنانے کے پیچھے گہری سٹریٹجک اور ذاتی وجوہات تھیں۔ برطانیہ اس وقت ایک بڑی نوآبادیاتی طاقت تھا اور وہاں رہ کر کام کرنے کا مطلب یہ ہوتا کہ آغا خان خاندان دنیا بھر میں موجود اپنے مریدین (جو مختلف نوآبادیات میں پھیلے ہوئے تھے) کی نظر میں برطانوی پالیسیوں کا رنگ الیکٹڈ نظر آتا۔
فرانس نے انہیں ایک ایسا "غیر جانبدار" اور بین الاقوامی پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں سے وہ کسی ایک ��یاسی بلاک کا حصہ بنے بغیر اپنے عالمی نیٹ ورک کو چلا سکتے تھے۔ مزید برآں، فرانس کا ماحول، وہاں کی اشرافیہ کا طرزِ زندگی اور پیرس کی عالمی سفارتی مرکزیت اس خاندان کے عالمی وژن کے عین مطابق تھی، جس کے لیے یہ خاندان منتقل طور پر فرانس منتقل ہوگیا۔ پیرس کے مضافات "ایگلیمو اسٹیٹ" (Aiglemont estate) میں ان کا مستقل ہیڈکوارٹر اور عالیشان شاہی محل قائم ہوا۔
یہیں سے مغرب اور خاص طور پر فرانس کا وہ دوہرا معیار اور منافقت کھل کر سامنے آتی ہے جو موجودہ عالمی نظام کا خاصہ ہے۔ فرانسیسی حکومت اپنی سخت ترین سیکولر پالیسیوں (Laïcité) کے تحت عام مسلم تارکینِ وطن، پناہ گزینوں اور غریب مسلمان��ں کے خلاف انتہائی سخت قوانین نافذ کرتی ہے۔ وہاں حجاب پر پابندی لگائی جاتی ہے، داڑھی یا روایتی مسلم شناخت کو عوامی مقامات پر جرم کی طرح دیکھا جاتا ہے اور مسلم کمیونٹیز کو پسماندہ رکھنے کے لیے ریاستی قوانین کا سہارا لیا جاتا ہے۔ لیکن جب باری کسی کھرب پتی مذہبی پیشوا کی آتی ہے، تو یہی سیکولر قوانین موم کی ناک بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ فرانس جیسے سیکولر ملک میں بیٹھ کر اپنی مذہبی پیشوائی کا نیٹ ورک پوری دنیا میں چلاتے ہیں، اور اس پر فرانس کے سخت ترین سیکولر قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔مغرب کا یہ دوہرا معیار ثابت کرتا ہے کہ ان کے ہاں قانون، تہذیب اور سیکولرازم کی پابندیاں صرف غریب اور کمزور مسلمانوں کے لیے ہیں، جبکہ ارب پتی اور بااثر شخصیات کے لیے تمام قوانین اور نظریات یکسر بدل دیے جاتے ہیں۔
آغا خان فیملی کا شمار فرانس کے سب سے بڑے ٹیکس دہندگان میں ہوتا ہے، وہ وہاں کے مہنگے ترین ریمپ اور گھوڑوں کی ریس ک�� فارمز کے مالک ہیں، اور ان کا سرمایہ فرانسیسی معیشت کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ فرانسیسی اعلیٰ اشرافیہ کا ناگزیر حصہ مانے جاتے ہیں۔
پوری دنیا میں پرنس شاہ رحیم آغا خان "سربراہِ مملکت" کا پروٹوکول ملتا ہے۔
ان کا کھربوں ڈالر پر محیط "آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک" (AKDN) ہے۔ یہ نیٹ ورک دنیا کے درجنوں ممالک میں تعلیم، صحت اور مائیکرو فنانس کے شعبوں میں کام کرتا ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں کے ساتھ باقاعدہ دو طرفہ س��ارتی معاہدے کر رکھے ہیں، جس کے تحت انہیں ایک خودمختار ریاست کی طرح حقوق اور سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ دنیا کے سیاسی ایوانوں میں عزت اور پروٹوکول حاصل کرنے کے لیے زمین کی سرحدوں سے زیادہ دولت، اچھے تعلقات اور اسمارٹ ڈپلومیسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں مغرب اور مشرق کا کوئی فرق نہیں۔
پاکستان ائیر فورس سعودی عرب پہنچ گئی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب جنگیں در جنگیں ہونگی تو اللہ غیرعرب میں سے ایک فوج اٹھائے گا جو عربوں سےاچھے سوار ہونگے اوربہتر ہتھیار رکھتے ہوں گےاللہ اسکے ذریعہ دین کی مدد فرمائے گا سنن ابن ماجه
ہر جیت سنگھ انڈین ائر فورس کا ریٹائرڈ افسر ہے۔۔۔
تقریبا 45 منٹ کا ان کا وی لاگ سنا ۔۔
خدا کی قسم دل کو ٹھنڈ پڑ گئی۔۔ آج سکون ملا کہ 75 سال جو فوج پر خرچہ کیا واقعی بہترین خرچ کیا۔۔
ہرجیت سنگھ نے 7 مئی سے 10 مئی کی شام تک کی مکمل کہانی سنا ڈالی ۔۔
کہنے لگا کہ 6 تا 7 مئی انڈین فضائیہ نے پاکستانی سرحدوں اور لائن آف کنٹرول کے اپنی طرف پٹرولنگ تیز کر دی اور بیک وقت 70 سے 80 جہاز فضا میں اڑنے لگے ۔۔
ا��ھر پاکستانی فضائیہ نے ان کو انگیج کرنے کی بھرپور تیاری اور پلاننگ کر رکھی تھی ۔۔
جیسے ہی رات 12 بج کر 20 منٹ پر انڈین فضائیہ نے پاکستان کی طرف حملے کا رخ کیا تو پاک فضائیہ نے حملہ روکنے کی بجائے ۔۔ حملہ آور جہازوں کو نشانے پر لیا ۔۔کیونکہ پاک فضائیہ نے رافیل کو فیل کرنے کا مربوط پلان بنا رکھا تھا ۔۔
اس لیئے حملہ تو ہوگیا ۔۔لیکن پاک فضائیہ نے جوابی میزائیل فائر کرکے انڈین سرحد کے اندر 3 رافیل زمین بوس کر دیئے ۔۔ایک سو30 اور ایک مگ طیارہ بھی نشانہ بنا ۔۔اور باقی جن جہازوں کو لاک کیا تھا ۔ان کو آخری لمحات میں وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا۔۔اور پوری کارروائی انڈین ائر فورس سے شیئر کر دی کہ ہم چاہتے تو مزید 15 جہاز گراسکتے تھے ۔۔۔
انڈین فضائیہ نے فوری سب کچھ انڈین فوج کو بتایا اور مزید نقصان سے بچنے کے لیئے جہاز اڑانے سے انکار کر دیا ۔۔
7 مئی کے بعد انڈیا کا ایک بھی جہاز فضا میں بلند نہی ہوا۔۔بلکہ سری نگر ائرپورٹ خالی کر دیا گیا۔۔اور تمام جہازوں کو 500 کلو میٹر دور چھپایا گیا ۔۔
اب پاکستان نے جوابی کارروائی کا کہا ہوا تھا۔ 8 مئی سے پاکستان نے پورے بھارت پر ڈرون بھیجنے شروع کر دیئے ۔۔ یہ ڈرونز دلی تک پرواز کرنے لگے ۔۔
اور 8 اور 9 مئی کی رات 4 دفعہ پاکستانی سائبر فورس نے بھارت میں اٹیک کرکے 87 ویب سائیٹس کو ہیک کیا اور بھارت کی بجلی بند کر ڈالی۔۔۔
انڈین ائر فورس اور ذمینی فورس کا رابطہ ختم کر دیا گیا۔۔
بالآخر انڈین فوج نے تنگ آکر 9 مئی سے پاکستان پر واپسی ڈرونز چھوڑنے شروع کیئے ۔۔۔لیکن جب پاکستانی ڈرونز نے بھٹنڈہ کے ہوائی اڈے پر خودکش حملہ کیا تو اسی رات 2 بجے 10 کو بھارت نے پاکستان کو خوف زدہ کرنے کے لیئے بھرموس میزائلوں سے پاکستان میں 6 جگہوں پر حملہ کر دیا ۔۔ان بھرموس میزائلوں میں سے 3 بھارت کے اندر امرت سر کے قریب کھیتوں میں گرے اور 3 پاکستان میں گرے۔۔ جن میں ایک نور خان ائر بیس اور 1 سکھر میں عرب اماراتی ائربیس پر گرا۔۔ لاہور میں گرنے والے میزائل سے 3 پاکستانی فوجی جوان شہید ہوگئے۔
بس پھر کیا تھا۔ صبح 4 بجے پاک فضائیہ نے خودکش مشن کیا اور پاکستان نے 3 طیاروں نے پورا اودھم پور کا ہوائی اڈہ تباہ کر ڈالا۔۔ انہی طیاروں نے ایس 400 کی بیٹری اڑا ڈالی ۔۔اور جاتے جاتے بھرموس ڈپو بھی تباہ کر دیا۔۔
صبح 6 بجے سے پاکستانی زمین سے فائر کیئے جانے والے الفتح میزائیلوں نے بھارت میں 26 فوجی مقامات کو جب نشانہ بنایا تو انڈین وزیرخارجہ نے دو دفعہ مارکو روبیو کو کال کی اور جنگ رکوانے کی درخواست کی ۔۔
مارکو روبیو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سویا ہوا جگایا اور صورت حال سے آگاہ کیا۔۔ جس پر ڈونلڈ ٹرمپ انتہائی غصے میں آگیا اور مارکو روبیو سے کہا کہ مجھے سونے دو صبح دیکھیں گے۔
لیکن جب ٹرمپ سے دوسعی دفعہ کہا گیا کہ جنگ چند گھنٹوں بعد نیوکلیئر تصادم میں بدلنے لگی ہے تو ٹرمپ نے سیدھی جنرل عاصم منیر کو کال لگوائی اور جنگ روکنے کی درخواست کی ۔۔
پاکستان نے امریکی ضمانت ��ر جنگ روک دی۔۔۔
۔
اسی دن انڈین وزارت خارجہ ، اور دو فوجی خواتین نے پریس کانفرنس کرکے کہا کہ انڈیا جنگ کو بڑھانا نہیں چاہتا ۔۔
جواب میں پاکستان نے بھی بالکل ویسا ہی رویہ اختیار کرتے ہوئے سیز فائر پر اتفاق کیا۔۔
۔
ہرجیت سنگھ کے مطابق انڈین میڈیا اور اندین حکومت عوامی دباو کی وجہ سے مسلسل جھوٹ بول رہی ہے ۔اور شکست کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے ۔
پاک فوج زندہ باد ❣️ پاک فضائیہ زندہ باد ❣️ پاکستان پائندہ باد ❣️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
🚨 ادھوری خبر:
ایران نے آبنائے ہرمز سے بھارتی ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت دے دی۔
🚨 مکمل خبر:
ایران نے آبنائے ہرمز سے صرف دو بھارتی ٹینکرز کو گزرنے کی اجازت اس شرط پر دی ہے کہ وہ ا�� کے بدلے میں ان تین ایرانی ٹینکرز کو ایران وآپس بھجوائے گا جنہیں بھارت نے 10 فروری کو امریکی ایماء پر ضبط کیا تھا۔۔۔!!
جب عرب برج خلیفہ ، پام جمیرہ اور جدہ ٹاور بنا رہے تھے تب ہم ناساز حالات کاٹ کر ایٹم بم ، شاہین ، غوری ، نصر ، ابدالی اور JF-17 تھنڈر بنا رہے تھے
آج تم وہی بلڈنگز خالی کر کے محفوظ جگہیں تلاش کر رہے ہو اور ہم سکون سے گھروں میں بیٹھے ہیں۔
ہماری انڈیا سے جنگ ہو ، افغانستان سے ہو یا امریکا بھی آ جائے ہمیں خود پر اور اپنی فوج پر اتنا اعتماد ہے کہ وہ ہمیں محفوظ رکھے گی۔
زندگی میں دفاع آسائشوں سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
😴🌍 سب سے کم سونے والے ممالک — 2026
1ـ 🇯🇵 جاپان ـ 5 گھنٹے 52 منٹ
2ـ 🇸🇦 سعودی عرب ـ 6 گھنٹے 2 منٹ
3ـ 🇰🇷 جنوبی کوریا ـ 6 گھنٹے 2 منٹ
4ـ 🇵�� فلپائن ـ 6 گھنٹے 8 منٹ
5ـ 🇰🇼 کویت ـ 6 گھنٹے 15 منٹ
6ـ 🇹🇼 تائیوان ـ 6 گھنٹے 21 منٹ
7ـ 🇮🇩 انڈونیشیا ـ 6 گھنٹے 25 منٹ
8ـ 🇶🇦 قطر ـ 6 گھنٹے 26 منٹ
9ـ 🇲🇾 ملائیشیا ـ 6 گھنٹے 27 منٹ
10ـ 🇸🇬 سنگاپور ـ 6 گھنٹے 34 منٹ
11ـ 🇹🇷 ترکی ـ 6 گھنٹے 35 منٹ
12ـ 🇮🇳 بھارت ـ 6 گھنٹے 35 منٹ
13ـ 🇮🇱 اسرائیل ـ 6 گھنٹے 36 منٹ
14ـ 🇲🇽 میکسیکو ـ 6 گھنٹے 37 منٹ
15ـ 🇨🇴 کولمبیا ـ 6 گھنٹے 37 منٹ
16ـ 🇨🇷 کوسٹا ریکا ـ 6 گھنٹے 39 منٹ
17ـ 🇨🇱 چِلی ـ 6 گھنٹے 39 منٹ
18ـ 🇭🇰 ہانگ کانگ ـ 6 گھنٹے 39 منٹ
19ـ 🇧🇷 برازیل ـ 6 گھنٹے 40 منٹ
20ـ 🇹🇭 تھائی لینڈ ـ 6 گھنٹے 42 منٹ
21ـ 🇨🇳 چین ـ 6 گھنٹے 43 منٹ
22ـ 🇦🇪 متحدہ عرب امارات ـ 6 گھنٹے 45 منٹ
23ـ 🇷🇺 روس ـ 6 گھنٹے 45 منٹ
24ـ 🇵🇱 پولینڈ ـ 6 گھنٹے 50 منٹ
25ـ 🇺🇦 یوکرین ـ 6 گھنٹے 52 منٹ
26ـ 🇬🇷 یونان ـ 6 گھنٹے 54 منٹ
27ـ 🇮🇹 اٹلی ـ 6 گھنٹے 54 منٹ
28ـ 🇪🇸 اسپین ـ 6 گھنٹے 56 منٹ
29ـ 🇸🇰 سلوواکیہ ـ 6 گھنٹے 57 منٹ
30ـ 🇷🇴 رومانیہ ـ 6 گھنٹے 58 منٹ
31ـ 🇵🇹 پرتگال ـ 6 گھنٹے 59 منٹ
32ـ 🇨🇿 چیکیا ـ 7 گھنٹے
33ـ 🇭🇺 ہنگری ـ 7 گ��نٹے 2 منٹ
34ـ 🇿🇦 جنوبی افریقہ ـ 7 گھنٹے 4 منٹ
35ـ 🇺🇸 امریکا ـ 7 گھنٹے 6 منٹ
نوٹ: یہ اعداد و شمار اصل نیند نہیں بلکہ اوسطاً بستر پر گزارے گئے وقت پر مبنی ہیں؛ ڈیٹا پرانا ہے مگر 2026 کی رپورٹس میں اب بھی حوالہ دیا جاتا ہے۔
ماخذ: World Population Review
شاعر : طفیل ہوشیارپوری
سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام
اپنے من میں جانوں اور پی کے من کی رام
پریم رنگ میں ایسی ڈوبی بن گیا ایک ہی روپ
شام کی مالا جپتے جپتے آپ بنی میں شام
انگ انگ میں رچی ہوئی ہ�� یوں موہن کی پریت
ایک آنکھ بندرابن میری دوجی گوگل دھام
پریم پیالہ جب سے پیا ہے جی کا ہے یہ حال
انگاروں پر نیند آجاے کانٹوں پر آرام
پیتم کا کچھ دوش نہیں ہے وہ تو ہیں نردوش
اپنے آپ سے باتیں کر کے ہو گئی میں بدنام
جاگ اٹھتی ہے جب بردے میں پریم کی سچی جوت
اس نگری میں ہو جاتا ہے پیتم کا بسرام
جی نے جب سے جان لیا ہے دکھ بھی بے اُن کی دین
پاپ سمجھ رکھا ہے میں نے لینا سکھ کا نام
جیون کا سنگار ہے پریتم مانگ کا ہے سندور
پریتم کی نظروں سے گر کر جینا کس کام
درشن جل کی پیاسی آنکھیں رو رو کر گئیں سوکھ
اندھیاروں میں ڈوب گے برہن کے صبح شام
غیر ملکی سیاح کے 6 ہفتے انڈیا اور تین ہفتے پاکستان کا ٹور کرنے کے بعد تاثرات
انڈیا کا کیپٹل دہلی بہت گندا ھے اور بہت Smell آتی جبکہ پاکستان کا کیپٹل اسلام نہایت خوبصورت اور صاف ستھرا ھے انڈیا میں فراڈ بہت کیا جاتا جبکہ پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ھوتا ❤️
🚨نیوزی لینڈ میں صورتحال شدید کشیدہ!
کیوی باشندوں اور ماؤری قبائل نے ہندو مذہبی جھنڈے نذرِ آتش کر کے ہندو مذہب سے نفرت کا شدید مظاہرہ کیا!
ماؤری قبائل نے بھارت سے آنے والی ہندو آبادی کے خلاف "جنگ" کا اعلان کر دیا ہے۔
🚨 کینیڈا نے بھارتی میڈیا کو G7 سمٹ کی عمارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی!
بھارتی میڈیا کی مودی سے شکایت جس پر مودی نے کہا "اوہ میرے خدا! آپ کو اندر نہیں آنے دیا؟"