We are delighted to announce the Release of Hafeez Baloch S/O Mohammad Iqbal after the #EnforcedDisappearance of one month and 6 days. But the release does not serve the justice until the perpetrators are punished and the last forcibly disappeared is released. Yet many of our fellows are in dark torture cells with thousands of other Baloch forcibly disappeared. There is no Baloch that is not suffering the trauma of enforced disappearances. This pain is a part of collective memory of Baloch Nation. Now the choice is with us whether we take it as a mere suffering or our power to resist. Our History has never taught us Silence over Resistance, Hence We will soon announce our further course of actions against the menace of enforced disappearances.
#SaveBalochStudents
Today, the family of Asif Baloch led a protest rally in Khuzdar, demanding his safe release. Asif Baloch was forcibly disappeared on 13 July 2026. Days have passed, yet there is still no information about his whereabouts. His family continues to seek only one answer.
Where is Asif Baloch?
Enforced disappearance is a continuing crime. It inflicts permanent psychological suffering on families who are forced to live between hope and fear. No family should be left searching endlessly for a loved one.His family deserves truth, justice, and accountability.
#ReleaseAsifBaloch
میرے بڑے بھائی کوئٹہ خروٹ آباد تھانے میں آصف بلوچ کی جبری گمشدگی کیخلاف FIR درج کرانے گئے ہیں مگر FIRدرج نہیں کی جارہی۔پولیس عوام کو تحفظ دینے کیلئے بنی ہےمگر وہی پولیس بااثر لوگوں کیخلاف عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔
ہم اپنے بھائی کی جبری گمشدگی کیخلاف خاموش نہیں رہینگے
کہا جاتا ہے کہ بلوچ نوجوانوں کے لیے ترقی کے دروازے کھولے جا رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کتنے ہی تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر کے بجائے جبری گمشدگیوں اور تاریک زندانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
آصف بلوچ سمیت چار نوجوان تاحال لاپتہ ہیں۔
#ReleaseAsifBaloch
اگر 24 گھنٹوں کے اندر ہمارے بھائی کو بازیاب نہ کیا گیا یا ان کو منظر عام پر نہیں لایا گیا تو ہم مجبوراً قومی شاہراہ کو بند کریں گے، ہم نہیں چاہتے کہ راستے بند ہوں، لیکن ہمیں اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے یہ قدم اٹھانا پڑے گا۔
#ReleaseAsifBaloch
بلوچ طلبا کا مستقبل بچانے کی خاطر ہمیں جبری گمشدگیوں کے خلاف ایک منظم آواز بن کر ابھرنا ہوگا۔ (ترجمان، بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد)
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں 13 جولائی کو کوئٹہ سے جبری گمشدگی کے شکار ہونے والے آصف، سلمان، نبیل اور زبیر کی جبری گمشدگی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اُن کی فالفور رہائی کا مطالبہ کیا۔ آصف بلوچ ولد محمد خضدار کے رہائشی ہیں اور وہ یونیورسٹی آف پشاور کے گریجوئیٹ ہیں، جبکہ اپنی طالبعلمی کے دوران وہ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پشاور کے بطور جنرل سیکریٹری اور چئیرمین فرائض انجام دے چکے ہیں۔ آصف کے ہمراہ جن تین دوستوں کو اغوا کیا گیا ان میں سلمان ولد انور پنجگور کے رہائشی ہیں، اور وہ ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور سے ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔ جبکہ زبیر اور نبیل نے خضدار سے اپنی گریجویشن مکمل کی ہے۔ یہ نوجوان بلوچ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں، ہزاروں مصائب اور تکالیف کا سامنا کرنے کے باوجود وہ نہایت دلیری اور ہمت کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں، تاکہ اپنی اور اپنے خاندان کے مستقبل کا سہارہ بن سکیں، لیکن یہ ریاست بے دردی سے اُنہیں اغوا کرکے ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار بناتی ہے۔
بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی شاید پنجاب و وفاق میں بیٹھے لوگوں کے لئے صرف ایک خبر ہو، اور ایسی خبر جو اُن کے مین اسٹریم میڈیا کے کونوں کھدروں میں بھی جگہ بنانے کے قابل نہ ہو، لیکن ہمارے لئے یہ ہماری زندگی اور قومی بقا کا سوال ہے۔ ریاست شاید سمجھتی ہو، کہ وہ تشدد کے بے دریغ استعمال کے ذریعے ہمیں خاموش کرے، اور ہم چھپ سادھ کر یہ ظلم سہیں، لیکن ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہیں خاموشی اس ریاست کے مظالم میں دیدی دلیری کا سبب ہے۔ اور جب تک ہم خاموش رہیں گے، ہر بلوچ نوجوان اسی ڈر اور خوف میں زندگی گزارے گا، کہ شاید کل کے پوسٹر میں اُس کی تصویر ہو۔ یہ کوئی الگ یا نیا واقعہ نہیں، بلکہ بلوچ قوم کا الم ہے، اور اسی غم کے بوجھ تلے آج بلوچ نوجوان اس کالونیل فسطائیت کی دین ہزاروں ذہنی بیماروں کا شکار ہوا جا رہا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اب فیصلہ کرنے کا وقت آ چکا ہے، اور ہمیں بحیثیت ایک زندہ قوم اس ظلم کے خلاف “اب اور نہیں” کا نعرہ بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ بی ایس سی اسلام آباد، بطور ایک طلبا تنظیم اپنی قوم، دیگر طلبا تنظیموں، وکلا برادری، صحافی حضرات اور سول سوسائٹی سے مخاطب ہوتی ہے کہ آج اس ظلم کے سامنے آپ کا فیصلہ تاریخ میں آپ کے مقام کا تعین کرے گی، کہ آپ اپنی مفاد کی خاطر یزیدی لشکر کے ساتھ کھڑے رہے یا حسینی روایت کو زندہ رکھے حق کا نعرہ بلند کرتے ہو۔ کیونکہ ظلم کے خلاف ہماری خاموشی ہمارے اندر کے انسان کا دم گھونٹ دیتی ہے، اور آہستہ آہستہ ہم میں اور جنگل کے جانوروں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ جنگل کے جانوروں کا بھی شاید کوئی دستور ہو، لیکن بلوچ کی خاطر یہ سرزمین اس قدر تنگ کردی گئی ہے، کہ نہ اُس کے لئے کوئی دستور ہے اور نہ ہی اس ملک کا آئین اس پر لاگو ہے۔ ہم اس بیان کے ذریعے حکومتِ وقت اور وفاقی اداروں سے ڈیمانڈ کرتے ہیں آصف بلوچ اور اُس کے ساتھیوں سمیت دیگر گمشددہ افراد کو فالفور رہا کیا جائے وگرنہ ہم اپنے تمام قانونی حقوق کو بروئے کار لاتے ہوئے اس ظلم و بربریت کے خلاف بھر پور مہم چلائیں گے۔ ہماری یہ جدوجہد کسی مفاد یا آسائش کی خاطر نہیں بلکہ بلوچ طلبا کی زندگی کا حق مانگنے کے لئے ہے۔ اور اس ضمن میں ہم اپنی قوم اور اس ملک کے باشعور عوام سے پُر زور اپیل کرتے ہیں کہ ہماری آواز بنیں، کال کھوٹڑی میں بند آصف کی آواز بنیں اور ہمارا ساتھ دیں۔
#ReleaseAsifBaloch
#ReleaseSalmanBaloch
#EndEnforcedDisappearances
میں لاپتہ آصف بلوچ کی بہن سارہ میرے بھائی کو 13- جولائی 2026 کی صبح 5 بجے 4 ساتھیوں سمیت لاپتہ کیا گیا جسکے برخلاف آج رات 8:00 سے 11: 00بجے تک X campion چلائی جائیگی میں تمام بلوچ قوم اور سیاسی تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کے وہ اس میں حصہ لے کر ہماری آواز بنیں
# ReleaseAsifBaloch
میں لاپتہ آصف بلوچ کی بہن سارہ میرے بھائی کو 13- جولائی 2026 کی صبح 5 بجے 4 ساتھیوں سمیت لاپتہ کیا گیا جسکے برخلاف آج رات 8:00 سے 11: 00بجے تک X campion چلائی جائیگی میں تمام بلوچ قوم اور سیاسی تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کے وہ اس میں حصہ لے کر ہماری آواز بنیں
# ReleaseAsifBaloch
میرےبھائی آصف بلوچ کو13جولائی کی صبح کوئٹہ سےاغوا کیا گیاجسکےبعدسےانکاکوئی سراغ نہیں مل سکاہےخاندان شدید کرب میں مبتلاہےتمام طبقہ فکرکےلوگوں انسانی حقوق کےعلمبرداروں اورصحافیوں سےاپیل ہےکہ آصف کی باحفاظت بازیابی کےلیےآواز اٹھائیں#ReleaseAsifBaloch
#ReleaseBalochMissingPersons
میرےبھائی آصف بلوچ کو13جولائی کی صبح کوئٹہ سےاغواء کیا گیاجسکےبعدسےانکاکوئی سراغ نہیں مل سکاہےخاندان شدید کرب میں مبتلا ہےتمام طبقہ فکرکےلوگوں انسانی حقوق کےعلمبرداروں اورصحافیوں سےاپیل ہےکہ آصف کی باحفاظت بازیابی کےلیےآواز اٹھائیں#ReleaseAsifBaloch#ReleaseBalochMissingPersons
اس طرح تیزی کے ساتھ بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی انتہائی خطرناک عمل اختیار کرتی جارہی ہے۔ ہم ان اعمال کی شدید الفاظ میں نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ اس کے خلاف آواز بلند کرنے اور ریاستی اداروں سے درخواست کرتے ہوئے ان کی باحفاظت رہائی کی اپیل کرتے ہیں۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اب معمول بن چُکی ہیں، یہ اعمال دن بہ دن بڑھتی ہوئی شدت اختیار کرتی جارہی ہیں، جہاں ایک جانب سیاسی کارکنوں کی جبراً نما گرفتاریاں جاری ہیں، وہیں دوسری جانب بلوچ طلبہ کی ایک بڑی تعداد جبری گمشدگی جا شکار ہوتا جارہا ہے۔ بلوچستان میں جاری یہ غیر یقینی اور قابِل تشویش عمل کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ اختیار کرچکا ہے۔ یہ تشویشناک صورتحال ایک خوف کی فضا کو جنم دے رہی ہے، جو کہ قابِل مذمت ہے۔
#EndEnforcedDisappearances
Educational institutions and cities should be spaces of safety, not fear, for students from every background. Standing in solidarity with families demanding answers and safety for their loved ones.
#ReleaseHafeezBaloch#SaveBalochStudents
Rubina Baloch, a member of the Baloch Students Council Islamabad and a fourth-semester BS Mass Communication student at the International Islamic University Islamabad, has been subjected to enforced disappearance in Islamabad on 2nd july.
Rubina Baloch, a member of the Baloch Students Council Islamabad and a fourth-semester BS Mass Communication student at the International Islamic University Islamabad, has been subjected to enforced disappearance in Islamabad on 2nd july.
Over the past week, there has been an alarming escalation in raids on the residences of Baloch students in Islamabad, accompanied by intimidation and harassment. These actions have created a climate of fear and insecurity among Baloch students and raise serious concerns regarding their safety and fundamental rights.
The Baloch Students Council Islamabad strongly condemns the reported enforced disappearance of its member, Rubina Baloch, and demands her immediate and safe recovery. We call upon human rights organizations, the legal fraternity, political parties, civil society, and student organizations to unequivocally condemn enforced disappearances and the targeting of students, and to take a clear stand in defense of human rights, the rule of law, and the protection of fundamental freedoms. Silence in the face of such actions only deepens impunity and further endangers those at risk.
#ReleaseRubinaBaloch
#SaveBalochStudents