مولانا فضل الرحمان پارلیمنٹ کے اندر کچھ اپوزیشن جماعتوں کے کردار سے مطمئن نہیں انکا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے ایک حالیہ قانون کو پڑھے بغیر منظور کروا دیا جو آئین سے متصادم تھا مولاناکا خیال ہے اپوزیشن جماعتوں کو آئندہ پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے
ہر زی شعور پاکستانی یہ تحریر ضرور پڑھے اور مولانا صاحب کے اس بیان کو بھی سماعت فرمائیں، پر فیصلہ کیجئے گا۔۔۔باقی #معافی_مائی_فٹ
______________
مولانا فضل الرحمان کی جس تقریر کو بنیاد کر فوجی شہداء سے جوڑا گیا ہے، اور ایک منظم منصوبے کے تحت وائرل کیا گیاہے، اس کی بنیاد پر ان پر تنقید نہیں بلکہ لعن طعن اور غداری کے سرٹیفکیٹ دیئے جا رہے ہیں،مقدمات درج کرانے کی درخواستیں عدالتوں میں جمع ہورہی ہیں، معافی کے مطالبے کیئے جارہے ہیں۔
غداری کے سرٹیفکیٹ دینے والے اگر پورا کلپ سن لیتے تو اندازہ ہو جاتا کہ مولانا فضل الرحمان نے کس تناظر میں یہ بات کی تھی، یہ پورا چار منٹ کا کلپ ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ
"پختون خواہ میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، شام کو سڑکیں مسلح گروہوں کے کنٹرول میں ہوتی ہیں، اور اب ہمیں کہا جاتا ہے کہ اپنے لشکر نکالو، تو ہم کہتے ہیں کہ تم تنخواہ کس بات کی لیتے ہو؟"
یعنی انہوں نے یہ بات کھول دی کہ " ہمیں کہا جاتا ہے کہ لشکر نکالو" اور مولانا انکاری ہے۔
دوسری بات، جو ملک چلانے والوں کو سمجھ نہیں آتی وہ یہ ہے کہ جس سیاستدان کی اپنی زمین کا سکون برباد ہوجائے، اس کے خطے کے مفادات داؤ پر لگ جائیں تو اسے اسلام آباد کی نہیں اپنی زمین کی بات کرنا پڑتی ہے، وہ سیاست دان، جن کی جڑیں اور ووٹ جس زمین سے جڑا ہے، اگر وہ ہی غیر محفوظ ہو جائیں یا اجتماعی مفادات خطرے میں پڑ جائیں تو کوئی بھی عقل مند خاموش نہیں رہتا۔
بلوچستان میں جو حالات ہیں، ان پر کھل کر بات نہیں ہوتی، لیکن بلوچستان کے وہ سیاستدان، جو آئینی فریم ورک میں مل کر چلنا چاہتے تھے، ان کو دور کردیا گیا، جو پل کا کردار ادا کرنا چاہتے تھے، انہیں نکال دیا گیا،باقی جو ہیں ان کے مفادات بلوچ سرزمین سے نہیں اسلام آباد سے جڑے ہیں، ان کا حق ہے کہ وہ اسلام آباد کے مفادات کی بات کریں، کیونکہ ووٹ شوٹ تو ان کا مسئلہ نہیں۔ الیکشن ہوں تو جیت جائیں گے، اس لیئے کہ ان کی جڑیں اپنی زمین میں نہیں ہیں، ملک کے کسی صوبے میں پانچ سو ووٹوں سے کونسلر نہیں بنتا وہاں چیف منسٹر بن جاتا ہے۔ بہت سارے ایسے بھی ہیں جو کبھی کبھی اندر کا اظہار کر دیتے ہیں کہ "ہم اپنے قبرستان بھی نہیں جاسکتے"
گزشتہ سال کی مثال پیش کی جائے تو جب سندھ میں کینال مخالف تحریک عروج پر تھی، مانا کہ ایوان صدر میں اجلاس ہوا، منظوری ہوئی، پریس رلیز بھی جاری ہوئی، لیکن جب عوام کھڑی ہوگئی تو آصف زرداری کو پیچھے ہٹنا پڑا، انہیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کہنا پڑا کہ "کینالوں کی تعمیر وفاق کیلئے خطرہ بن جائے گی". کیونکہ انہیں اندازہ تھا کہ انہیں کی جڑیں کہاں پیوست ہیں۔
یا اس سے پہلے، نواز شریف کے انٹرویوز، نااہلی کے بعد جی ٹی روڈ پر مارچ اور اس میں نعرے، مریم نواز کی تقاریر سب ریکارڈ پر ہیں، تب ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکالی گئی تھی، وہ غدار بن چکے تھے۔
آصف زرداری کی جانب سے مشہور زمانہ" اینٹ سے اینٹ بجانے " کا بیان سب کو یاد ہے، ہر بار ایسے بیانات کو قومی سلامتی کے ساتھ جوڑ کر پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، حالانکہ ہر بیان کا اپنا ایک پسمنظر ہوتا ہے، کبھی بند کمروں میں بات کی جاتی ہے، کبھی لوگوں کو بتاکر منصوبے ناکام بنائے جاتے ہیں۔ سیاستدانوں کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں، پروپیگنڈہ سے یہ مزید مضبوط ہوجاتی ہیں بقول آصف زرداری کے
" تم تین سال ہو، ہم ہمیشہ ہیں"
اس بار مولانا نشانہ ہے، وقت گزرے گا تو کوئی اور نشانے پر ہوگا، سیاستدانوں کی بے عزتی کا سفر سیاستدانوں کے استعمال ہونے تک جاری رہے گا۔
ن لیگ کی پریشانی سمجھ میں آتی ہے کہ لاہور کے ساتھ قصور میں مولانا اتنا بڑا جلسہ کیسے کرگئے، مقتدرہ کو یہ غصہ ہے کہ مولانا نے لشکر نکالنے والا راز کیوں کھول دیا۔
سینیئر صحافی عبدالرزاق کھٹی کی تحریر
فیلپ ٹورنی سابق امریکی نیول جنرل ایک لیجنڈ ہے🚨
ہمیں کوئی صدر کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارا ملک تو یہودی لابی کنٹرول ہے وہ صدر ہاؤس ہو ، کانگریس، پیسہ ہو ، سب کچھ دجالی کنٹرول کررہے اور اب ہمارے بچے دجالیوں کو خوش کرنے کیلئے ایران کے ساتھ جنگ لڑ رہے !!
اسپین کے پاس تیل کے ذخائر یا نیوکلیئر بم جیسے وسائل نہیں ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سامراجی اسرائیل کے خلاف نہیں لڑیں گے اور انہیں روکنے کی کوشش نہیں کریں گے، کچھ جنگیں حق کا ساتھ دینے کے لیے لڑی جاتی ہیں
وزیر اعظم سپین پیڈرو سانچیز
🔴🔴🔴مسجد اقصی کو میزائل مار کر گرایا جائے گا پھر وہاں یہودی عبادت خانہ بنایا جائے گا اور الزام لگادیا جائے گا کہ مسجد اقصی پر ایران نے میزائل مارا ہے ۔
امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے اسرائیلی خفیہ پلان بے نقاب کردیا جس میں ایک مذہبی یہودی ربی کے کلپ کا حوالہ دیا گیا