"دو ٹکےکی عورت آتی ہے اور ایک قابل پروفیسر کی تذلیل کرتے ہوئے کہتی ہے کہ شکر کرو، میں تمہیں ہتھکڑی نہیں لگوا کر جا رہی" -
ڈاکٹر عامر وہ بات کھل کر کہتے ہوئے جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے لیکن کہنے کی جرات کوئی کوئی دلیر انسان کر سکتا ہے۔
خیبر پختونخواہ کی پولیس کو غیر سیاسی رکھنا ہمارا فخر تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں ہماری پولیس نے دیں۔ پختونخواہ کے عوام آج بھی اپنی پولیس کی سر کٹی لاشیں، خودکش دھماکوں کے بعد بجلی کے کھمبوں سے ان کے یونیفارم کے ٹکڑے اور اپنی سڑکوں سے ان کے گوشت کے لوتھڑے جمع کرنے کے مناظر بھولے نہیں۔ قابض مافیہ نے جب خیبر پختونخواہ کو دوبارہ آگ میں جھونکنے کا فیصلہ کیا تو ہماری قوم نے اپنی ملک سعد اور صفوت غیور کی وارث پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کے اس ناپاک منصوبے کو خاک میں ملایا تھا۔ آج عاصم منیر اور اس کی کٹ پتلیوں نے دہشت گردی کا بہانہ استعمال کرکے اپنے ناجائز استعمار کو تقویت دینے کے لیے پولیس کو اپنی عوام کے مقابل کھڑا کر تو دیا ہے۔ مگر اس کا خمیازہ اسی پولیس کو بھگتنا پڑیگا جو ذاتی فوائد، ترقیوں اور تنخواہ کے لیے ان غیر آئینی قوتوں کی آلہ کار بن رہی ہیں۔ کل کو جب ان کے لائے ہوئے دہشت گرد آپ کو اپنی کاروائیوں کا نشانہ بنائیں گے اور عاصم منیر کی فوج ہمیشہ کیطرح آپ کو canon fodder بنائے گی، ایسے میں جب آپ کی پشت پر یہ قوم نہیں ہوگی تو آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کی تنخواہیں اور ترقیوں کی کوئ وقعت نہیں۔ باڑہ میں نہتے مظاہرین کس بات پر احتجاج کررہے ہیں جو وہ واجب القتل ہوگئے؟ ان کا منتخب نمائندہ، تمام عمر سے محروم علاقے کا پہلا وزیر اعلی گذشتہ تین دن سے غاصبوں کے ہاتھوں لاپتہ ہے۔ اُس کا جرم اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکار۔۔
آپ میں رتی برابر غیرت ہوتی تو سوال پوچھتے، کسی کی ہمت کیسے ہوئ آپ کی عملدآری میں آ کے آپ کے چار کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو کو اغوا کرنے کی؟ آپ کی آنکھوں کے سامنے اور آپ سمیت جن کو ایک نئی آگ میں جھونکنے کی سبیل کردی گئی ہے وہ اپنی زندگی کا سوال بھی نا کریں؟ خاموشی سے بے گھری، بے بسی کی موت قبول کرلیں؟
افسوس صد افسوس۔ عاصم منیر اور اس کے حواری تو اپنی طاقت کے لیے ملک کو بیچ چکے۔ آپ کا ہمارا تو جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے آپ کی اس بے ضمیری کا انجام ہم نے اکیلے نہیں بھگتنا۔ مریں گے آپ بھی ہمارے ساتھ۔ جنازے آپ کے گھروں سے بھی اٹھیں گے۔ یتیم آپ کی اولادیں بھی ہونگی۔ تب اپنے افسران کا گریبان مت پکڑنا۔ خود سے سوال کرنا کہ جن پر آج بندوقیں تھامے کھڑے ہو وہ کس کے حق کا سوال کررہے تھے۔
"نایاب زمینی معدنیات جہاں سے بھی نکالی جاتی ہیں، وہاں تابکاری ہوتی ہے، Uranium اور دیگر دهاتوں سے بہت سے لوگوں کوجلد کی بیماریاں اور کینسر جیسا موذی مرضی لاحق ہو جاتا ہے۔
لوگ وہاں مرنا شروع ہو جاتے ہیں" -
عمران ریاض خان
عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مراد سعید
#گھبرانا_نہیں_ہے
#گورنر_راج_نامنظور
"میں جو صوابی کے آگے کا پلان دونگا ان شاء اللہ تعالی اچھے اچھوں کی نیندیں حرام ہوجائیں گی۔ میرے پاکستانیو جس دن ہم صوابی جائنگے آپ سب نے وہاں پہنچنا ہے۔یہ اکیلے عمران خان کی جنگ نہیں ہے وہ قربانی دے رہا ہے اس کا پورا خاندان قربانی دے رہا ہے اور یہ قربانی میرے پاکستانیو وہ آپ کے لیے دے رہے ہیں۔ آپ فیصلہ کریں اس ظلم و جبر کو سہنا ہے یا آزاد ہونا ہے آپ کا فرض ہے ان کے ظلم و جبر سے پاکستان کو آزاد کرانا اور خود کو بھی آزاد کرانا ہے"۔
وزیراعلی سہیل آفریدی
@SohailAfridiISF
#سر_بکف_میدان_میں
وہ لمحہ جب جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا، یہ ٹویٹ عمران خان کے اکاؤنٹ سے شئر ہوا تھا
ان تمام ٹویٹس کو پھر سے وائرل کریں 🔥
فیض اور حبیب جالب کی نظمیں گانے والے یہ نوجوان جو خود کو کیمونسٹ کہتے اور عمران خان کی حکومت میں آزادئ رائے کی وجہ سے سرکاری عمارت الحمرا میں فیض میلوں میں انقلاب کے گیت گاتے تھے ، آج کہاں گم ہیں ۔ کیا کسی کے اشارے پر اکٹھے ہوتے تھے
یہ مناظر زندگی بھر میرے ساتھ رہیں گے۔ آنسو گیس کے (تکلیف دہ) اثرات زائل کرنے کیلئے سر پر پانی انڈیلتے اور دیوانہ وار جھومتے ہوئے بلند کی جانےوالی آزادی کی یہ والہانہ اور پرجوش صدائیں! ماشاءاللہ ایک قوم بالآخر بیدار ہو رہی اور آزادی مانگ رہی ہے۔
تخت بائی اتوار کے ضمنی انتخاب اور ہمارے اسلام آباد مارچ کیلئےتیار ہے۔اس سےپہلےکبھی ہمارا ملک کسی مقصد کیلئےیوں متحرک نہیں ہوا جیسےیہ حقیقی آزادی (کےحصول کیلئے) ہوچکاہے۔