2011 میں ترک صدر نے کہا تھا وہ دن آئیگا ہم دمشق کی جامع اُمیہ مسجد میں نماز پڑھیں گے اور تلاوت کرینگے ۔ اور پھر تاریخ نے 30 جُون 2026 کا وہ دن لایا جب ترک وزیر داخلہ اور انٹیلیجنس چیف دمشق گئے اور اُسی مسجد میں تلاوت فرمائی ۔
“تُرک بھولتے نہیں ہیں “ سند رہے
بصد احترام اگر یہی لب لہجہ پاکستان کی کسی بھی دینی یا سیاسی جماعت کے قائد کا ہوتا تو اب تک کیا ہو چکا ہوتا۔
میرے فوجی بیٹے زندہ جلائے گئے لیکن مجرم آزاد ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا خاص طور پر ان مناظر پر توجہ مرکوز کر رہا اس کی وجہ نہ صرف اس ملاقات اور تاریخی معاہدے کی اہمیت بلکہ وہ دوستانہ اور بے تکلفانہ ماحول بھی جو ان تینوں رہنماؤں کے درمیان دیکھنے میں آیا
ان کے اندازِ گفتگو مسکراہٹوں اور سخت پروٹوکول سے ہٹ کر بات چیت کرنے کے طریقے سے یہ تاثر ملتا کہ انقرہ، ریاض اور اسلام آباد کے درمیان قربت محض فوری مفادات سے بالاتر ہو کر قیادتوں کے مابین ذاتی اور سیاسی اعتماد کی سطح تک پہنچ چکی ہے
بین الاقوامی تعلقات میں اگرچہ محض تصاویر سے معاہدے طے نہیں پاتےلیکن اکثر ان سے اس سیاسی ماحول کی عکاسی ضرور ہوتی ہے جس میں یہ معاہدے وجود میں آتے ہیں
کاش پاکستان کے تمام علماء کرام عوام کو اس طرح دین سے روشناس کرتی تو آج ہماری قوم شرک و بدعت و گناہ میں اس قدر ڈوبی ہوئی نہ ہوتی آج اس طرح درگاہوں پر ہندوانہ رسوم ادا نہ کیا جاتے مخلوط ڈانس نہ ہورہے ہوتے مسلمانوں خدارا اپنے گھروں میں اسلام نافذ کرو اس سے پہلےکہ غیر مزہب داخل ہو
جو مسلمان خام نائی جیسے مسلمان دشمن شخص کے مردار ہونے پر خفا ہیں اللہ ان کے گھر میں جنازے اٹھائے اس قسم کے رزیل شخص کے موت پر بھی کوئی غیرت مند مسلمان رنجیدہ ہوسکتا ہے 😡 سنیے ترک صدر کے زبانی خام نائی کے کالے کرتوت
خیر پور سندھ سے تعلق رکھنے والے انتہائی قابل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اظہر میمن سے ملاقات ایک بے حد جذباتی لمحہ تھا۔ گزشتہ دنوں اُن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ اپنے ماضی سے لے کر آج تک کے مشکل حالات کی کہانی بیان کر رہے تھے، اُنہوں نے کراچی یونیورسٹی سے MBA کیا ہوا ہے۔میں نے اُن کو ملاقات کے لیے اسلام آباد مدعو کیا، اُن کی حوصلہ افزائی کی اور ملازمت کا بندوبست کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
کورنگی فلائ اوور سے شاہراہ بھٹو کو جوڑا گیا ہے غالباً ۔۔۔کسی کو علم ہو تو رہنمائ فرمائے ۔۔
اور اگر ایسا ہے تو آپ سب بہتر جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے پھر وہ کیوں بنائ ہے کیونکہ وہاں سے گزرنا نہایت آسان ڈاکوؤں کے لئیے مناسب ہے کیونکہ وہاں ٹریفک نہیں ۔
کراچی امریکی قونصلیٹ پر حملے میں ملوث بلوائیوں رجیمی تکفیریوں کی تصاویر جاری
مبینہ طور پر اکثر کا تعلق طلباء تنظیم امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور علاقائ تعلق گلگت بلتستان اور پاڑہ چنار سے بتایا جارہا
ان حملہ آوروں میں سے کسی کی بھی شناخت اگر آپ جانتے ہیں تو بتاکر محب وطن پاکستانی ہونے کا ثبوت دیں
آفتاب نذیر
سجدے میں شکر کیججے پاکستان آزاد ہے انڈین مسلمانوں میں چالیس فیصد اہل تشیع بہت بڑی تعداد ہے مگر چیک کریں جب وہاں چینل پر کہا ہر گھر سے خامنہ ای نکلے گا تو اینکر نے کیسا منہ توڑا آگے سے چسکے نہی
کہاں ہیں وہاں کے راجہ ناصر عباس ، شعیہ علما یزید بھول گیا ؟