آپ آزاد نہیں ہیں اگر آپ کا ذہن دوسروں کے پھیلائے ہوئے فریب یا غلط فہمیوں کی پیروی کرتا ہےحقیقی آزادی صرف جسمانی نہیں ہوتی بلکہ ذہنی بھی ہوتی ہے۔اگر ہم اپنی سوچ خیالات اور یقین دوسروں کے بنائے ہوئے جھوٹ، فریب باتوں پر مبنی باتیں جوحقیقت سے ہٹ کر ہوں، تو ہم ذہنی طور پر غلام بن جاتے
@ammarmasood3 مجھے نہیں لگتا بلوچستان کی تاریخ کے ساتھ اپکا قلم انصاف کر سکتا ہے ۔
بلوچ سرزمین صدیوں سال استحصالی قلم نے غیض غضب کے کچھ نیا پن نہیں دکھایا۔
ہتھورام سے لیکر موجودہ وقتی مفکران نے صرف جھوٹ کو قلم بند کرنے کا عنر سیکھا ۔
@ZahoorBuledi@betterpakistan@rafiullahkakar سر بہت اہم کام اپنی تکمیل کو پہنچ رہا ہے بلیدہ سمیت بلوچستان کے بیشر علاقون میں بارش کی پانی ضاٸعے ہو رہی ہے براۓ مہربانی ڈمبانی ڈیم جسکا کام 20پرسٹ مکمل ہے لیکن سکیورٹی خدشات کی وجہ سے بند پڑا ہے براۓ مہربانی اس پر خاص توجہ دیں۔
اہل علاقہ اپکا مشکور رہے گا
@KhawajaMAsif خواجہ ص آپ کو اسطرح ری ایکشن دینا نہیں چاہیئے تھا آپ نے چھوٹے صوبوں کے مساٸل حل کرنے کی تگودو ہونے کا عنصر ہونا تھا ہم نے آپ کو باکمال اور زیرک سیاست دان سمجھا تھا لیکن نکلے اسکے برعکس۔
ملک خداداد کا پورا سٹم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے علاوہ کسی اورکام کا نہیں رہا ایسا لگ رہا ہے ۔
نیشنل پارٹی کو بلوچستان اور بلخصوص مکران کے عوام نے 2024 کے الیکشن میں یکسر مسترد کر دیا۔ یہ بلوچستان اور بلوچوں کی نمائندہ سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک مخصوص ٹولے کی پارٹی ہے جس کا کام اپنی مفادات کے لیے بلوچ اور بلوچستان کی محرومیوں پر سیاست کرنا ہے۔ 2024 کے الیکشن میں نیشنل پارٹی کو بلوچستان کے تمام 51 انتخابی حلقوں سے صرف 135919 ووٹ ملے ہیں جو بلوچستان کے ٹوٹل رجسٹرڈ ووٹوں کا محض 2.5 فیصد بنتے ہیں جبکہ دوسری طرف وفاقی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو 365646 ووٹ ملے ہیں جو کہ مجموعی طور پر 17 فیصد بنتے ہیں اور اسی طرح پاکستان مسلم لیگ ن کو 255058 ووٹ ملے ہیں جو کہ ٹوٹل ووٹوں کا 11 فیصد بنتے ہیں۔ نیشنل پارٹی الیکشن میں بری طرح شکست کھانے کے بعد اب سیاسی بلیک میلنگ پر اتر آئی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے الیکشن میں جب مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے تمام حربے کارگر نہیں ہوئے تو نیشنل پارٹی کی قیادت دیگر سیاسی جماعت کے قائدین کو گالم گلوچ اور طوفان بد تمیزی پر اتر آئی ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ جب عوام نے ان گھناونا چہروں کو مسترد کیا تو انہوں نے ریاستی اداروں پر الزام تراشی اور بہتان بازی شروع کی ہے جو انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔ نیشنل پارٹی نے الیکشن میں گھناؤنا کھیل کھیلنے کی کوشش کہ ہے اور مختلف حربوں سے ہمارے کارکنوں کو دھمکیاں دی گئی اور حتی کہ ہمارے گھروں پر حملے کروائے گئے۔ انہوں نے شر پسندوں کو پیسے کی لالچ دے کر ہمارے کارکنوں کے گھروں پر فائرنگ بھی کروائے ہیں۔ یہ نام نہاد قوم پرست جماعت کئی دونوں سے بلوچ علاقوں میں ہڑتال اور دھرنوں کے زریعے بازاروں اور قومی شاہراوں کو بند کرکے لوگوں کے روزگار اور کاروبار کو تباہ کر رہی ہے۔ نیشنل پارٹی اپنی اشتعال انگیزی کی سیاست اور منفی حرکتوں سے باز آئے اور سیاسی بلیک میلنگ کا رویہ ترک کرکے قانون و آئین کے تحت پرامن راستہ اپنا کر سیاست کرے۔
Alhamdulillah, the Returning Officer has issued consolidated result Form 49 of my constituency PB 25 Kech 1. The political saboteurs who tried to derail public political will have been defeated. Congratulations to the people of my constituency.
منی واجہ بصد احترام ،معذرت اور نہایت ادب کےساتھ ایوب کے سیاسی، نظریاتی اور فکری وارث وہ تو نہیں جنہیں آپ مخاطب کررہے ہیں مگر آپ اور آپ کے جماعت کے نظریہ فروش ، سیاسی سوداگر بھی نہیں۔ جو اپنے مفادات کے عوض بلوچ قومی سوال اور حق خودارادیت کے جدوجہد کو کمپرومائز کر چکے ہیں۔
میں اللہ تعالی کی ذات کا اور اپنے حلقے کے عوام کا بےحد مشکور ہوں جنہوں نے مجھ پر ایک مرتبہ پھر اعتماد کرکے تیسری بار بھاری اکثریت سے منتخب کرکے بلوچستان اسمبلی میں نمائندگی کا موقع فراہم کیا۔ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین @BBhuttoZardari اور صدر آصف علی زرداری کا بھی مشکور ہوں۔ انشاءاللہ اپنے حلقے کے عوام کی خدمت اور پورے بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کےلیے کام کرتا رہوں گا۔