نو مئی کے اسلام آباد ہائی کورٹ سے اغواء کے بعد جب میری عمران خان صاحب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوبارہ ملاقات ہوئی تو اس موقع پر میں نے ان سے ایک سوال کیا جو میرے ذہن میں تھا۔
میں نے عرض کیا:
“سر، ایک بات بتائیے۔ نو مئی کے دن جب آپ کو گرفتار کرنے کے لیے کھڑکیوں کے شیشے توڑے جا رہے تھے اور چاروں طرف غیر یقینی اور ہنگامہ خیز صورتحال تھی، تو میں نے انتہائی پریشانی کے عالم میں آپ کی طرف دیکھا۔ آپ ہتھیلی پر چہرہ رکھے نہایت پُرسکون اور مطمئن بیٹھے تھے۔ ایسے حالات میں اس قدر اطمینان اور سکون کی وجہ کیا تھی؟”
عمران خان صاحب نے مختصر مگر انتہائی معنی خیز جواب دیا:
“لا الٰہ الا اللہ، بس۔”
ان کے اس ایک جملے نے مجھ پر گہرا اثر چھوڑا۔ اس جواب میں یقین، توکل اور استقامت کا وہ پیغام تھا جس نے میرے ایمان کو مزید مضبوط کیا اور مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے کا حوصلہ عطا کیا۔ مجھے احساس ہوا کہ جب انسان کا بھروسہ اپنے رب پر ہو تو شدید ترین آزمائشوں میں بھی دل مطمئن رہ سکتا ہے اور قدم ڈگمگاتے نہیں۔
On this blessed Day of Arafah, wishing peace, mercy and countless blessings to Muslims around the world. 🤍
Please keep me and my family in your prayers as well. 🤲
#DayOfArafah#Hajj
اسلام آباد ہمک میں 14 سالہ بچی سے گن پوائنٹ پر زیادتی تھانہ ہمک کے تفتیشی اور لیڈی کانسٹیبل نے ڈرایا کہ اگر میڈیکل کروایا
تو ساری عمر تمہاری شادی نہیں ہوگی ،یہ پولیس بجاۓ ملزموں کو پکڑنے کے یہ انصاف کیلیے آنے والوں کو ڈراتے ہیں
متاثرہ بچی اور والد کی iG اسلام آباد سے اپیل
Journalists across the world are one family. They are under professional duty and obligation to speak for the rights of their colleagues especially when they are being punished for speaking the truth.
Journalists keep attending events around the world and they are trained to listen to all kinds of views and opinions. Their questions are most of the time in public domain and if they chose not to ask any at the right time then they should not be disturbed by others asking some.
ضلعی انتظامیہ اسلام آباد/اہم اعلان
وفاقی دارالحکومت میں پبلک اور ہیوی ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کا اہم اعلان، شہر میں ہیوی ٹرانسپورٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ کو تاحکم ثانی معطل کیا جا رہا ہے، شہریوں سے التماس ہے کہ سیکورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں, شکریہ
عمران خان کو صحت کے حقیقی مسائل ہیں، ان کی اہلیہ کا بھی صحت کے شدید مسائل چل رہے ہیں، ان کے پارٹی لیڈرشپ سینٹر اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر بھی شدید بیماریوں سے گزر رہے ہیں،یاد رہے کہ یاسمین راشد اور سینٹر اعجاز چوہدری کے صحت کے بارے میں میڈیکل رپورٹس اور ان کے خاندانی ذرائع پہلے ہی تشویشناک صورتحال کا بتا چکے ہیں۔ان کا جیلوں میں بند رکھنا،انصاف کے حصول سے محروم رکھنا،علاج معالجہ کی سہولیات سے دور رکھنا یہ سیاسی انتقام ہے،
انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے اور شدید قابل مذمت ہے۔
موجودہ عالمی، علاقائی صورتحال میں شاید اسٹیبلشمنٹ اور حکومت اپنی شہرت اور عالمی لیڈرشپ سے ایک پیج پر ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت محسوس نہیں کرتے لیکن یہ سیاسی انتقام غیرمعمولی قومی پیچیدگیوں کا باعث بنے گا۔
ملک کے مسائل کا حل سیاسی استحکام اور رول آف لاء میں ہے،
لہذا عمران خان، ان کے خاندان اور پارٹی لیڈرشپ کو غیر جانبدار انصاف کی فراہمی، صحت کی سہولیات تک رسائی دی جائے اور ان کیخلاف سیاسی انتقام کی روش بند کیجائے۔
بڑے غلط ملک میں پیدا ہوا۔ دعا کر رہا ہوں رب سے کہ مجھے چار مرتبہ مختلف اٹیکس ہوئے اور ہر بار تُو نے مجھے بچا لیا۔ کیوں بچا لیا مجھے؟ اُٹھا لے مجھے۔ ناقابلِ برداشت ہو گیا ہے۔ اس ملک کی ساری زندگی جو خدمت کی، میں نے غلط کیا۔ میں بھی چوروں کے ساتھ شامل ہو جاتا تو آج میں بھی یہ چیخا چہارا نہیں کر رہا ہوتا، لیکن مجھے اپنے رب کے پاس جا کے بھی تو حساب دینے ہیں۔ 45,388 روپے کا بل آ گیا ہے، ارے، تم ہمیں کچھ دے نہیں سکتے تو ہمارا جینا بھی ہم سے چھین رہے ہو۔ اداکار راشد محمود