عالمی منڈی میں آج کروڈ آئل 101 ڈالرز سے واپس 96.10 پہ آگیا ہے۔
اب دیکھنا ہے روزانہ کی بنیاد پہ تیل مہنگا کرنے والے فرعون اعظم آج کتنے روپے سستا کرتے ہیں۔
اندازہ کریں ان بے شرموں کا جو نیازی کے دور میں 121 روپے والے پٹرول پہ تو چیختے تھے مگر 331 والے پہ دلیلیں دیتے ہیں کنجر۔
جو کام جنرل پرویز مشرف، کیانی اور باوجوہ ملکر نہ کرسکے وہ کام وزیر خزانہ اورنگزیب، اویس لغاری اور علی پرویز ملک تینوں نے انتہائی اچھے طریقے سے سرانجام دیا ہے
ن لیگ جتنے مرضی ترقیاتی کام کروا لے
لیکن مہنگائی غربت بیروزگاری اور اختیارات کے غیرضروری استعمال کی وجہ سے عوام متنفر ہیں
شہباز شریف کی فرعون صفت حکومت نے آج پھر پٹرول 4 روپے 40 پیسے اور ڈیزل 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے
پندرہ دن پرانے خریدے تیل پر حکومت پچھلے پانچ دنوں سے مسلسل اضافہ کر کے عوام کی ہڈیوں کو نچوڑ رہی ہے
تجربہ کار حکومت عوام کا پیٹ کاٹ کر الیٹ کلاس کو نواز رہی ہے
کل پٹرول اور ڈیزل مہنگا کیا آج بھی پھر پٹرول 6.39 روپے اور ڈیزل 7.83 روپے مہنگا کردیا یے۔
آبنائے ہُرمز سے آدھی دُنیا کا تیل گزرتا ہے مگر اتنی بے شرمی اور بے غیرتی کسی مُلک کی حکومت میں نہیں جتنی ہمارے والوں میں ہے۔
جتنا جی کرتا ہے ظلم کرلیں۔۔ان شا اللہ جلد پکڑ ہوگی
لگاتار دوسرے دن پٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافہ سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ وفاقی حکومت کا عام عوام سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی آئندہ انتخابات میں عوام سے ووٹ کی توقع ہے اور شاید لون لیگ کا حال بھی ق لیگ جیسا ہونا ہے
یہ معاشی ٹیم کی نالائقی نہیں بلکہ مجرمانہ اقدام ہے
🚨🚨فرعون سے بھی ظالم حکومت نے غریب عوام کو تیل مافیا کے سامنے پھینک دیا ہے
حکومت نے پیٹرول آج پانچ روپے اور ڈیزل سات روپے لیٹر بڑھا دیا ہے اب ایک لیٹر پیٹرول 320 روپے لیٹر اور ڈیزل 367روپے کا لیٹر ہو چکا ہے
پچھلے چار دن میں ڈیزل کی قیمت میں حکومت نے 45 روپے اضافہ کیا ہے
اس حکومت نے پاکستان کے عوام کو جیتے جی زندہ درگور کر دیا ہے
جناب علی پرویز ملک صاحب
آپ قوم کے ساتھ ہاتھ کرنا بند فرمائیں۔ یہ جو پٹرول کی قیمتوں میں "اوسط" قیمت کے فراڈ کے نام پر آپ تیل بیچنے والی کمپنیوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں اسے ختم فرمائیں۔ سیدھا انوائس اور بل آف لیڈنگ کی بنیاد پر قیمت کا فیصلہ کریں۔
مہربانی ہو گی
صحافیوں کی جگہ سرکاری ملازمین بٹھا کر پریس کانفرنس کرنا دراصل اپنے ہی مؤقف پر عدم اعتماد کا اعتراف ہے۔کیونکہ جب دلیل کمزور ہو تو حاضرین کرائے کے ڈھونڈے جاتے ہیں البتہ جب مؤقف مضبوط ہو تو آزاد صحافیوں کا سامنا کیا جاتا ہے۔ حکومت اگر نیک نیت بھی ہو تو ایسی حرکتیں اس کی نیت پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہیں۔ شفافیت اور شعبدہ بازی ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔۔۔۔
"پٹرولیم کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر ہوگا"، یہ خبر ہفتہ دس دن سے چل رہی تھی لیکن خدا کی قسم میں یہی سمجھا کہ یہ کوئی مذاق ہے ورنہ ایسے کیسے ہو سکتا ہے, کوئی جاہل سے جاہل شخص بھی یہ پالیسی نہیں بنا سکتا، لیکن پٹرولیم مافیا کو اربوں کھربوں کا فاعدہ دینے کیلئے قابض رجیم کی طرف سے آج باقاعدہ طور پر اس پالیسی کا اعلان کر دیا گیا ہے، اب ضروریات زندگی کی تمام چیزوں کی قیمتوں اور کرایوں کا تعین کس بنیاد پر کیا جائے گا اور مہنگائی جو پہلے ہی لوگوں کی جان نکال رہی اس کو کیسے کنٹرول کیا جائے گا؟؟؟
اوئے نالائقو۔۔۔۔ ذاتی ملازمین کو صحافی بنا کر بٹھانا ہی تھا تو کم از کم کسی ایک ملازم کے ہاتھ میں کوئی کاغذ پینسل ہی پکڑا دیتے۔۔۔ جعلی ہی صحیح لیکن صحافی تو لگتے۔۔۔