7 ستمبر 1974 کو آئین کی دفعہ 260 میں یہ الفاظ شامل کئے گئے “ہر فرد جو حضور صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کے بعد کسی مدعی نبوت کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہووہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں” یہ ایک متفقہ آئینی ترمیم تھی مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہ آیا
جامعہ فریدیہ اسلام آباد کا سات سالہ غیر معمولی نابغۂ روزگار بچہ
کبھی کبھی قدرتِ الٰہی ایسے غیر معمولی ذہن اور نادر صلاحیتوں کے حامل بچوں کو دنیا کے سامنے لاتی ہے کہ انسان بے اختیار حیرت و استعجاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جامعہ فریدیہ اسلام آباد میں گزشتہ شب ایسا ہی ایک حیرت انگیز مشاہدہ ہوا، جہاں ایک سات سالہ بچے کی عربی دانی، قوتِ حافظہ، فصاحتِ بیان اور علمی استعداد نے اہلِ مجلس کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔
گزشتہ شب جامع مسجد جامعہ فریدیہ میں تکرار کی ذمہ داری انجام دے رہا تھا کہ حضرت مولانا اعجاز صاحب دامت برکاتہم ایک کم سن بچے کو اپنے ہمراہ لائے۔ تعارف کرواتے ہوئے فرمایا:
"یہ بچہ عربی زبان میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہے اور مشکل سے مشکل عبارت بھی نہایت روانی سے پڑھ لیتا ہے۔"
طبعاً اس بات نے تجسس پیدا کیا۔ میں نے بچے سے عربی میں پوچھا:
«أين تعلَّمتَ اللغةَ العربية؟»
اس نے بلا توقف، نہایت اعتماد اور بے ساختگی سے جواب دیا:
«علَّمني الله هذه اللغة.»
اس مختصر مگر معنی خیز جواب میں اس کی خود اعتمادی، حاضر جوابی اور غیر معمولی ذہانت کی جھلک نمایاں تھی۔ اسی لمحے اندازہ ہوگیا کہ اس ننھے طالبِ علم میں قدرت نے کوئی خاص صلاحیت ودیعت فرمائی ہے۔
اتفاق سے ہمارے سامنے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی معروف تصنیف «الفقه الأكبر» کی شرح «أحسن الفوائد» موجود تھی۔ میں نے اس میں سے ایک نسبتاً دقیق اور مشکل مقام منتخب کرکے بچے کے سامنے رکھا۔ حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس نے عبارت نہ صرف صحت کے ساتھ پڑھی بلکہ ایسی روانی، اعتماد اور تسلسل کے ساتھ قراءت کی کہ مجلس میں موجود اہلِ علم ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔
اسی دوران بچے کے والد محترم مفتی سلمان پشاوری، جو جامعہ دارالعلوم کراچی میں ہمارے عزیز بھائی مفتی Furqan Rahmani کے ہم سبق اور ہمارے دوست ہیں، نے بتایا کہ یہ بچہ فلکیات، کائنات اور تخلیقِ عالم کے بارے میں نہایت دقیق اور غیر معمولی نوعیت کے سوالات کرتا ہے، جنہیں سن کر بڑے بھی حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔
ان کی گفتگو سن کر تاریخِ اسلام کے ان روشن ابواب کا خیال آیا جہاں کم سنی ہی میں بعض نابغۂ روزگار شخصیات نے اپنی غیر معمولی ذہانت، حافظے اور علمی شغف سے اہلِ علم کو حیران کردیا تھا۔
اسی موقع پر مولانا اعجاز صاحب نے تجویز پیش کی کہ عربی شعبے کے طلبہ بھی اس بچے کی علمی صلاحیت کا براہِ راست مشاہدہ کریں۔ چنانچہ طے ہوا کہ اسے مائیک پر بٹھا کر طلبہ کے سامنے گفتگو اور سوال و جواب کا موقع دیا جائے۔
جب یہ سات سالہ بچہ منبر پر جلوہ افروز ہوا تو اس نے سب سے پہلے «مسند الإمام الأعظم» کی عبارت اس قدر سلاست، روانی اور فصیح لہجے میں پڑھی کہ محسوس ہوتا تھا جیسے وہ طویل عرصے سے عربی متون اور کتبِ حدیث کا مطالعہ کر رہا ہو۔ اس کے بعد صحیح بخاری کی عبارت بھی اسی اعتماد اور روانی سے پڑھ کر سنائی۔
واقعی یہ منظر قابلِ حیرت تھا کہ ایک کم سن بچہ ایسی عبارتیں اس انداز میں پڑھ رہا تھا جس کے لیے عام طور پر باقاعدہ علمی مشق اور طویل مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس کے بعد حاضرین میں سے ایک صاحب نے سورۂ نمل کی آیت:
﴿وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ﴾
کا مفہوم دریافت کیا۔
اس ننھے طالبِ علم نے نہایت سادہ، مربوط اور بلیغ انداز میں آیت کی تشریح بیان کی۔ اس کے اندازِ بیان میں صرف حفظ و تکرار نہیں بلکہ فہم، ربطِ کلام اور مفہوم کو اپنے الفاظ میں ادا کرنے کی صلاحیت بھی نمایاں تھی۔
پھر کسی نے سوال کیا:
«تفقّد» کا کیا معنی ہے؟
اس نے فوراً ایک عملی مثال دیتے ہوئے جواب دیا:
«إذا ضاع أحدُ الفلوسِ وبدأ يبحثُ عنها، فحينئذٍ نقول: تفقَّدَ الفلوسَ.»
یعنی اس نے محض لغوی معنی بیان کرنے کے بجائے مثال کے ذریعے لفظ کا مفہوم واضح کیا، جو اس کے فہم اور زبان پر گرفت کی ایک اور نمایاں علامت تھی۔
تقریباً ستائیس منٹ تک وہ طلبہ کے مختلف سوالات کا بلا جھجک جواب دیتا رہا۔ اس دوران اس کے اعتماد، حاضر جوابی اور علمی استعداد نے حاضرین کو مسلسل متوجہ رکھا۔
مجلس کے اختتام پر وہ ہمارے کمرے میں آیا تو میں نے اس سے پوچھا:
«هل أعجبتكَ الجامعة؟»
اس نے فوراً جواب دیا:
«أعجبتني في هذه الجامعة القراءةُ والكتبُ والأحاديث، أمّا البناءُ فلم يُعجبني؛ لأن هذا البناءَ يُذيبُ أعينَ الفقراء، وأرى الناسَ اليومَ يتفاخرون بالبناء، وهذا ليس شيئًا جيدًا.»
اس جواب نے ایک مرتبہ پھر سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ سات برس کے بچے کی زبان سے کتب، مطالعہ اور احادیث سے محبت، دنیاوی نمود و نمائش، تفاخر اور اسراف سے بے زاری پر مبنی ایسی بامعنی گفتگو سننا یقیناً غیر معمولی تجربہ تھا۔
اس وقت اس بچے کی عمر محض سات سال ہے۔ وہ قرآنِ کریم کے سترہ پارے حفظ کر چکا ہے، اکابر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
+
RSS-BJP goons throw ink at me and around 20 other women in Ranchi, Jharkhand!
For them ink is a tool to try to shame others, we will write the future with ink!
محترمہ نیہا نے طوفانوں کا رخ موڑ دیا،پہاڑوں کو ہلا دیا،زمین میں زلزلہ بپا کردیا اور آسمانوں میں بادل بن کے چھا گئی،جس کی برق سے انڈین ایوانوں میں خوف کی فضا محسوس کی گئی۔
اگر اس دور میں کسی کو زنِ آہن کا لقب دیا جائے گا تو محترمہ @neha_aisa ہونگی جو انقلاب کی ماں بھی کہلوائے گی
Major update: Bihar Government accepts all demands and signs order withdrawing all cases and releasing all arrested students We will continue to keep watch and make sure the government follows through on its order.
जंतर मंतर में भूख हड़ताल करने वाली नेहा ऐस ने अपने इंस्टाग्राम पर एक विडियो के जरिए कल पटना जाने का ऐलान किया!
उनका कहना है कि बिहार में चल रहे छात्र विरोधी दमन के ख़िलाफ कल में पटना आ रही हूँ!
हमारे साथियों की रिहाई के बिना ये जीत अधूरी है, सरकार का छात्रों को दिया गया आश्वासन झूठ है!
क्या BJP सरकार ने स्टूडेंट्स के साथ फिर से धोखा किया है?
ویڈیو میں نظر آنے والی لڑکی نیہا ہے جو کہ Asia یعنی آل اسٹوڈنٹس انڈیا ایسوسیئیشن کے مرکزی رہنماؤں میں سے ایک ہے مگر نہایت متانت اور سنجیدگی سے اپنا ما فی الضمیر بیان کرتی ہے اور عوامی مسائل پہ مدلل گفتگو کرنے کا سلیقہ جانتی ہے یہ نڈر ،ذہین اور سیاست سے مکمل باخبر ہے
पूरे आंदोलन में सोनम वांगचुक जी के साथ अगर किसी ने बहुत करारा असर छोड़ा है तो वो हैं नेहा 🔥🤗✊
भाई ये लड़की अपने आप में हिम्मत की मिसाल है। भूखे रहते हुए इतना लंबा अनशन करना कमाल है।
आगे का भविष्य बहुत उज्ज्वल है इनका। https://t.co/2oVtQugNzM
ایک ایک لفظ گویا دل میں اتر رہا ہے۔۔۔۔!!
جنتر منتر پر ایک خاتون مقرر نے جو گفتگو کی، اس گفتگو کا تعلق گو کہ انڈیا سے ہی ہے لیکن یہ گفتگو ہمارے لئے اجنبی نہیں ہے۔
اس ویڈیو کو صرف سنیں نہیں، بلکہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ دیکھیں کہ گفتگو کس ترتیب سے کی گئی ہے، دلائل کیسے پیش کیے گئے ہیں، آواز کی پچ کہاں بلند یا نرم ہوتی ہے، لہجہ کتنا پراعتماد ہے، الفاظ کی ادائیگی کتنی واضح ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دلیل کتنی مضبوط اور منطقی ہے۔ ایک اچھی گفتگو صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ انداز، لہجے اور مضبوط استدلال سے مؤثر بنتی ہے۔
دنیا نے بہت سے انقلابی لوگ دیکھے ہوںگے مگر ہم نے آپ لوگوں کو دیکھا ہے محترمہ آپ کے جذبہ کو دیکھا ہے آپ کی انقلابی آواز کو سنا ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور آپ کے جذبے کو سلامت رکھے پیاری بہن اپنا خیال رکھنا کیونکہ راستے اور بھی ہیں منزلیں اور بھی ہیں۔
जब बच्चे तक न उठा सकते आवाज़
तो कैसे कहें कि ये वतन है आज़ाद?
आज भाजपा के कट्टर समर्थक भी शर्मिंदा हैं और पश्चाताप और प्रायश्चित की आग में जल रहे हैं, उनका भी तो परिवार है और परिवार में बच्चे भी हैं, और उन बच्चों का भी वर्तमान और भविष्य है।
अब कोई भाजपा से भविष्य की क्या उम्मीद करे, जब वर्तमान में ही जनता भाजपा से पूरी तरह नाउम्मीद हो गई है।
आज हर उम्र के लाखों लोगों ने बेख़ौफ़ होकर जिस तरह भाजपा के विरोध में एकजुटता दिखाई है, सच तो ये है कि उस जन-आक्रोश को देखकर भाजपाई और उनके संगी-साथी बेहद डर गये हैं। ये वो आम जनता है जिसे सरकार की किसी भी एजेंसी का भय नहीं है।
भाजपा ख़त्म!
HEARTBREAKING VISUALS FROM THE NATIONAL CAPITAL 💔
Just look at how brutally the Delhi Police are dealing with the protesters
A peaceful protest has been turned into a violent confrontation
GODI MEDIA WILL NEVER SHOW YOU THIS
بہترین اقدام
چیزیس پاکستان نے ہر آرڈر پہ 50 روپے غز۔ہ کیلئے وقف کردئیے۔
ایک تو یہ پاکستانی برانڈ ہے، اس کے پیزہ اور برگرز بہت اچھے ہوتے ہیں، اور اس کے علاوہ متوسط آدمی بھی بہت آسانی سے خرید سکتے ہیں، سستا ہے۔ اسلام آباد اور دیگر شہروں میں جہاں اس کی برانچز اوپن ہوئی ہیں، اس وقت یہ ٹاپ پر جا رہا ہے۔ ہم نے بھی اسلام آباد کے چند دن کے قیام میں کئی چکر لگائے، واقعی بہت شاندار ہے۔
اگر آپ کا پیزہ یا برگر کھائے بغیر گزارا نہیں تو میکڈونلڈ، کے ایف سی کی بجائے چیزیس سے کھائیں۔
اس پاکستانی برانڈ کو ہم میں سے ہر ایک کو اسپورٹ کرنا چاہیے ۔ شہباز علی
ایک خاتون نے انباکس میں کہا کہ آپ معاشرتی مسائل پر لکھتے ہیں۔ میں بھی اپنا ایک مسئلہ بتاتی ہوں۔
میں میٹرک میں تھی تب ہی میری منگنی میرے کزن سے کر دی گئی تھی۔ شادی چند سال تاخیر کا شکار رہی کہ وہ ابھی کمانے والا نہیں ہوا تھا۔ منگنی کے دو سال بعد وہ پاکستان سے باہر چلا گیا۔ میرا بی اے مکمل ہوا تو وہ پاکستان آیا، تب ہماری شادی طے کر دی گئی۔میں نے والدہ صاحبہ سے کہا کہ وہ یہاں نہیں رہتا تو میری شادی کا فائدہ لیکن میری بات کسی نے سنی ہی نہیں، ماننی کہاں تھی۔ سب کو وہ پیسہ نظر آ رہا تھا جو وہ لایا تھا۔
شادی کے بعد وہ چند دن میرے ساتھ رہا اور پھر اس کی چھٹی ختم ہوگئی۔ میں نے تب ہی اس سے کہا تھا کہ میں اکیلے یہاں کیسے رہوں گی۔ مجھے ساتھ لے جاؤ یا پھر تم بھی یہاں آ کر کوئی کام کرلو۔ اس نے ان باتوں کا کوئی خاص جواب نہیں دیا۔ فون پر یا وٹس ایپ پر ہماری بات چیت ہوتی تھی لیکن بہت زیادہ نہیں کیونکہ میں اکثر یہی بات کرتی تھی اور اب اسے اس بات سے چڑ سی ہونے لگی تھی۔ لیکن میری مجبوری تھی۔ میں اس سے یہ بات نہ کرتی تو کس سے کرتی۔
اس نے یہاں اپنا گھر بنایا جس میں اس کے والدین، بہن بھائی سب اکٹھے رہتے، گاڑی، موٹرسائیکلیں لے کر دیں۔ میرا مطالبہ یہی تھا کہ اتنا خرچ کرنے کی بجائے اس میں سے ہی کچھ بچا لیں ، تو مجھے ساتھ لے جائیں یا پھر خود پاکستان آجائیں اور یہیں ان پیسوں سے ہی کچھ کام کر لیں۔
کیا یہ ناجائز مطالبہ ہے؟ کیا شادی کے بعد عورت کو صرف یہی چاہیے ہوتا کہ اس کا شوہر بس اچھا کماتا ہو؟ کیا اس کی جسمانی ضروریات نہیں ہوتی ہیں؟ جسمانی ضروریات وہ کیسی پوری کرے؟پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ رشتے دار جن پر شوہر بے تحاشہ خرچ کر رہا ہوتا ہے وہی اس کی بیوی کو غلط کام کے لیے ورغلا رہے ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں سب کو یہ کیوں لگتا ہے کہ یہ بہت آسان ٹارگٹ ہے۔ اتنے لوگوں کو خود کو کیسے بچائے؟ شوہر کو ڈائریکٹ بھی نہیں بتایا جا سکتا کہ اس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ خاندان میں لڑائیاں کروا رہی ہے۔ باہر بیٹھے مردوں کو اس سادہ سی بات کی سمجھ کیوں نہیں آتی ہے؟ ایک طرف ان کا دعویٰ ہوتا ہے کہ انھوں نے دنیا دیکھی ہوئی ہے لیکن اس بات سے وہ بھولے کیوں بن جاتے ہیں؟ بیوی اشارے کنایوں میں بھی بات کرے تو اسے ہی غلط کہہ کر کیوں خاموش کروا دیا جاتا ہے۔
پھر ایسی شادیوں کے وقت لڑکی کو اتنی سمجھ نہیں ہوتی لیکن ان کے والدین کو یہ سب نظر کیوں نہیں آتا؟ پیسے کو دیکھ کر وہ گونگے بہرے اور اندھے کیوں بن جاتے ہیں؟
پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ جو بھی باہر کما رہا ہوتا ہے اس کے پیسے پر باقی سب تو عیش کر رہے ہوتے، خود اس کی اپنی زندگی کا کیا؟ وہ کیوں اپنی ساری زندگی اسی دوڑ و دھوپ میں تیاگ دیتا ہے؟ آخر میں اس کے ہاتھ کیا آتا ہے؟
میری زندگی کے سات سال تو اسی آس میں گزر گئے ہیں کہ شاید حالات ٹھیک ہو جائیں لیکن ایسا کچھ بھی نظر نہیں آرہا۔ میرا اب دل کرتا ہے کہ خلع لے لوں کیونکہ اگرصرف ضروریات زندگی ہی پوری کرنی ہیں تو وہ تو میرے والدین کے گھر میں بھی ہو جائیں گی اور میں خود بھی جاب کرکے کما سکتی ہوں پھر اس سولی پر ہی کیوں اٹکتی رہوں۔ میرا ایک بیٹا ہے چار سال کا ۔ صرف یہ پریشانی ہوتی ہے کہ اس کا کیا بنے گا؟ اور بچے کی وجہ سے مجھ سے کون شادی کرے گا؟
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میرا کیا قصور ہے؟ میں اس مشکل سے کیسے نکلوں اور کیا کروں۔ میری مشکل، میری تکلیف کا کسی کو اندازہ ہی نہیں ہو پاتا ہے۔ سب یہی کہتے کہ میں ہی نا شکری ہوں۔ کیا واقعی مجھے ایسے ہی زندگی گزار دینی چاہیے؟ اگر میں کبھی اس وجہ سے گناہ میں مبتلا ہو گئی تو میری دنیا تو پہلے ہی خراب ہے، آخرت میں بھی میرے پاس کچھ نہیں بچنا۔ کوئی میرے مسئلے کا حل بھی ہے؟ ڈاکٹرعدنان نیازی
چین نے امارت اسلامیہ افغانستان کے مقرر کردہ سفیر ملا اسداللہ (بلال کریم) کے سفارتی کاغذات کو قبول کر کے باقاعدہ چائنہ میں امارت اسلامیہ کا سفیر تسلیم کر لیا۔ بالفاظ دیگر چین وہ پہلا ملک بن گیا جس نے امارت اسلامیہ افغانستان کی حکومت کو تسلیم کر لیا ہے۔