وزیر اعلی سہیل آفریدی نے عارف خٹک کو فلور پر بلا لیا
عارف خٹک کے عمران خان کے نعرے
ان کالے چینلز کو کچھ نہیں ملا تو بے چارے عارف خٹک صاحب کے پیچھے لگ گئے
یہ شیر ہے
وزیر اعلی سہیل آفریدی
IMRAN KHAN TO DGISPR
جب تم پیدا بھی نہیں ھوۓ تھے نا اس وقت میں ساری دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کر رھا تھا 🔥🔥🔥
پورے بر صغیر بلکہ دنیا کا بڑا نام اور ھیرو عمران خان ھے
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب کعبہ کی تعمیر کی تھی، تو اس کے دو دروازے رکھے تھے جو زمین کے برابر تھے۔ ایک مشرقی جانب جہاں اب موجودہ دروازہ ہے اور دوسرا اس کے بالکل سامنے مغربی جانب تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ایک دروازے سے داخل ہوں اور دوسرے سے باہر نکل جائیں۔ کئی صدیوں تک یہ سلسلہ رہا، یہاں تک کہ قریش نے جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی، تو انہوں نے وسائل کی کمی کی وجہ سے کعبہ کا حجم کچھ کم کر دیا اور مغربی دروازے کو مستقل طور پر بند کر کے دیوار بنا دی۔
حضرت عبدالله بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں جب کعبہ کی از سرِ نو تعمیر کی تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خواہش کے مطابق اس مغربی دروازے کو دوبارہ کھول دیا تھا تاکہ لوگ آسانی سے آمد و رفت کر سکیں، لیکن ان کی شہادت کے بعد حجاج بن یوسف نے اسے دوبارہ بند کر دیا اور کعبہ کو اسی نقشے پر واپس لے آیا جو قریش نے بنایا تھا۔
آج کے دور میں کعبہ کا صرف ایک ہی دروازہ ہے جو سطح زمین سے بلند ہے۔ مغربی سمت، جہاں کبھی دوسرا دروازہ ہوا کرتا تھا، وہاں اب صرف ایک ٹھوس دیوار ہے جو غلافِ کعبہ (کسوہ) سے ڈھکی رہتی ہے۔ تاہم، اگر آپ کعبہ کے اندر داخل ہوں تو اس مقام پر سنگِ مرمر کی دیواروں اور ڈیزائن میں اس قدیم دروازے کی جگہ کی نشاندہی محسوس کی جا سکتی ہے
مگر باہر سے یہ مقام اب ایک مکمل دیوار کی شکل میں ہی موجود ہے۔ مذہبی اور تاریخی طور پر یہ مقام اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ کعبہ کی اصل ابراہیمی بنیادوں میں وسعت اور سہولت کا عنصر شامل تھا۔ سبحان الله ہم بہت قسمت والے ہیں جو اس بابرکت اور تاریخی دروازے کی زیارت کر رہے ہیں۔