امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت کو عندیہ دے دیا۔ ہر طرف سے اسلام آباد پہنچیں گے اور اسلام آباد پہنچ کر اپنے فون بند کر دیں گے، پھر آپ سے کوئی بات نہیں کریں گے۔ ہم پرامن رہنا چاہتے ہیں اور اسی طریقے سے اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ لیوی بھتہ ختم کرو، پٹرول کی قیمت کم کرو۔ ✊🏼🔥
@NaeemRehmanEngr
#BhattaLevyKhatamkro
#NoMoreBhattaLevy
#JusticeForDrKaramElahi
کسٹم آفیسر ڈاکٹر کرم الٰہی کئی ماہ سے ایک مبینہ مشکوک کیس میں گرفتار ہیں۔ ان کی ایمانداری، فرض شناسی اور دیانت داری خیبرپختونخوا میں معروف ہے۔ اگر ان کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی تو یہ ایک فرض شناس افسر کی حق تلفی کے ساتھ ساتھ عوام کے نظامِ انصاف اور ریاستی اداروں پر اعتماد کو مزید مجروح کرے گا۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو شفاف تحقیقات، جوڈیشل کمیشن اور منصفانہ ٹرائل کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں اور انصاف کیا جائے۔
پٹرول کی قیمت کم کرو۔ پٹرولیم لیوی ختم کرو، یہ بھتہ ٹیکس ہے، یہ جگا ٹیکس ہے۔ یہ عوام پر ڈاکا ہے۔
7 اگست کا احتجاج پاکستان میں مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کرے گا۔ طلباء ، نوجوان، بائیکیا رائیڈرز، ڈیلیوری بوائز، کورئیرز، مزدور، کسان اور پوری قوم موٹرسائیکلز اور گاڑیاں لے کر سڑکوں پر آجائیں۔ پرامن سیاسی مزاحمت سے عوام اپنا حق لیں گے ۔۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر لوٹ مار اور عوام کی جیب پر ڈاکا ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کا روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا مطلب کیا ہے؟ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بجائے پیٹرول پر 120 روپے کے ٹیکسز کا خاتمہ کیوں نہیں کرتی۔انہوں نے کہا کہ لیوی کا پیٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں،
حکومت لیوی کے نام پر بھتہ خوری کیوں ختم نہیں کرتی۔
حافظ نعیم نے کہا کہ ناکام حکومت اپنی ناکامی کا بوجھ مسلسل عوام پر ڈال رہی ہے۔
#پیٹرول_سستا_کرو
ملک کے عوام کا جو حصہ زکوٰۃ کا مستحق اور حق دار ہے حکومت اس سے بھی ہر لیٹر پٹرول پر 117 روپے لیوی وصول کررہی ہے۔ یہ ظلم کی انتہا ہے کہ جن لوگوں کے لیے آج محدود تنخواہ میں اپنا ماہانہ خرچ پورا کرنا ناممکن ہوگیا ہے ان سے اذیت ناک اندازہ میں ٹیکس وصولی کی جارہی ہے۔ صرف رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں 1200 ارب روپے سے زائد لیوی وصول کی جاچکی ہے جب کہ 30 جون تک یہ ظالمانہ وصولیاں 1700 ارب روپے پہنچنے کا امکان ہے۔ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ عدالت کو آئینی حدود سے متجاوز اس لیوی کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔
پیٹرول کی قیمتیں بڑھانا مجرمانہ اقدام ہے،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، 15 مئی کو مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اسلام آباد میں ایک بڑا احتجاج کریں گے، پہیہ جام کا آپشن بھی موجود ہے۔
@NaeemRehmanEngr
بنوں میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں پندرہ پولیس اہلکاروں کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا مسلسل بدامنی، دہشتگردی اور خونریزی کی لپیٹ میں ہے مگر حکمرانوں کی بے حسی اور ناکام پالیسیوں نے عوام کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
پٹرولیم لیوی کے نام پر موٹر سائیکل چلانے والے طلباء و محنت کش بھاری ٹیکس ادا کر رہے ہیں، گزشتہ ایک سال میں حکومت نے 1234 ارب روپے لیوی کی مد میں عام آدمی سے نچوڑا ہے۔
حکومت اگر مذاکراتی عمل سے فارغ ہو گئی ہے تو ملک میں جاری مہنگائی کا فوری نوٹس لے، کیونکہ اس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ عوام پہلے ہی آٹا، بجلی، گیس اور ادویات کی بڑھتی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
” حسبنااللہ ونعم الوکیل۔ نعم المولیٰ ونعم النصیر“۔
ایرانی قوم کو بے مثال مزاحمت پر سلام پیش کرتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ اس جنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے امریکا اور اسرائیل کو ذلّت کے سوا کچھ نہیں دیا۔
نہ رجیم چینج ہوئی، نہ میزائل پروگرام ختم ہوا، نیوکلیر پروگرام پر بات مذاکرات میں ہوگی۔ آبنائے ہرمز تو ایران نے بند ہی جنگ کے بعد کی تھی۔۔ امریکا اور اسرائیل کو اخلاقی، سفارتی اور جنگی شکست ہوئی ہے اور ایرانی قوم کا وقار بڑھ گیا ہے۔
جنگ بندی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں قابل تعریف ہیں، بالخصوص خلیجی ریاستوں اور ایران کے درمیان حالات کو بہتر بنانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔ سعودی عرب نے تحمل کا مظاہرہ کیا جو قابل تعریف ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں ایران اور ترکیے کو شامل کیا جائے۔ پاکستان ایران سے آزاد تجارت کرے، پٹرولیم مصنوعات خریدے اور پاک ایران گیس پائپ لائن پراجیکٹ کو فوری مکمل کیا جائے۔
روسی ناول نگار ٹالسٹائی کہتے ھیں کہ
اگر کسی رات اچانک کوئی ایسی وبائے خاص پھیلے کہ جس کے سبب سے دنیا بھر کے تمام بادشاہ ، نواب ، مہاراجے ، راجے ، رئیس ، جاگیردار ، سیٹھ ، ساہوکار ، اُمراء ، سرمایہ دار، وکیل ، بیرسٹر وغیرہ سب مرجائیں تو نظامِ عالم میں ذرہ بھر فرق نہ پڑے۔۔
لیکن۔۔۔
اگر اس قسم کی وبا کے شکار سے
کسان ، جلاہـے، لوہار ، بڑھئ ، دھوبی ، درزی ، معمار ، تیلی ، نائی ، چمار ، بھنگی ، گولے گدیڑیے ، کوچوان ، قلًی ، مزدور ، گاڑیبان اور ڈرائیور وغیرہ شکار ھو جائیں تو یہ دُنیا کسی کام کی نہ رھے اور بہت بڑا دوزخ بن جائے۔
ملک میں پولرائزیشن تو ایک عرصہ سے چل رہی ہے، لیکن ایک حالیہ ٹویٹ اور پھرایک جوابی پریس کانفرنس کے بعد اسکی شدت میں بہت اضافہ ہوگیا ہے- میں زاتی طور پر خان کے انداز سیاست کا ناقد ہوں اور سمجھتا ہوں کہ وہ جب دوسروں پر بے دھڑک گھٹیا سے گھٹیا کرپشن اور دیگر الزامات دھرتے ہیں تو انکی اپنی ذات کو بھی ایک مثالی ہونا چاہئے جو افسوس کہ نہیں ہے۔ تفصیل میں فی الوقت جانے کا موقع نہیں-لیکن میرے خان کو نا پسند کرنے کے باوجود میں اس حقیقت پر کیسے پردہ ڈال سکتا ہوں کہ پاکستان میں ایک بڑا طبقہ انکی محبت کا اسیر ہے۔
انکی اصطبل سے جاری جنگ میں وہ شاید بہت سی لائینیں کراس کر چکےہیں، جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ دوسری سائڈ سے بھی لائین کو توڑا گیا ہے، جو ممکن بھی ہے۔
میں نے کسی انصافی رہنما کی کل پرسوں ہونے والی پریس کانفرنسیں پوری تو نہیں دیکھی ، البتہ کچھ ویڈیو کلپس اور ولوگس سے اندازہ ہوا کہ پی ٹی آئی معاملات کو سنبھالنا چاہتی ہے۔میرے خیال میں یہ موقع ملنا بھی چاہئے۔
اب اصطبل تو شاید براہ راست خان والوں سے بات نہ کرے اور ممکن ہے نون لیگ بھی ایسی کسی بات چیت کی حامی نہ ہو۔ لیکن کسی نہ کسی سیاسی رہنما/پارٹی کو تو دونوں محاذوں کو ٹھنڈا کرنے کا اہتمام کرنا ہی ہو گا۔
میرے خیال میں یہ کام زرداری اور انکی پارٹی کو اپنے ہاتھ لینا چاہئے، اور وہ اگر ایسا کرتے ہیں تو خان کو بھی راستہ نکالنا چاہئے اور پیپلز پارٹی سے تعاون کرنا چاہئے، تا کہ اسکی پارٹی کو کالعدم نہ قرار دیا جائے، کے پی میں انکی حکومت ختم نہ کی جائے، اور لیڈروں اور کارکنوں پر آپریشن کے نام پر کوئی نئی آفت اٹھا دی جائے، ابھی تو نو مئی کا عذاب مکمل نہیں ہوا۔ ایک اور آپریشن بہت تکلیف دھ ہو گا۔
خان پچھلے تین برسوں سے اصطبل کے شدید مخالف ضرور ہیں لیکن ان پر غداری اور انڈین ایجنٹ ہونے کا الزام اسی طرح جائز نہیں جیسے بینظیر اور نواز شریف پر قطعا" جائز نہ تھا۔
سچی بات یہ ہے کہ اس عمر میں میں اپنے وطن کو کسی نئی مصیبت میں نہیں دیکھنا چاہتا، اور سمجھتا ہوں کہ شاید مجھ جیسے بے شمار ہوں گے جو ملک کو اس نہج تک لے جانے کےحق میں نہیں ہیں-