يقين المؤمن بأن الله تعالى خبير بعمله يدفعه إلى تحري الخير والرشاد في كل صغيرة وكبيرة ﴿واللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾.
تلاوة فضيلة الشيخ #بدر_التركي من صلاة العشاء 10 محرم 1448هـ.
This new lot of players are really good they have this aura about them, and they train and prepare well. They listen and are keen to learn too. At least from what I observed first hand over 8 weeks in the PSL.
Speaking purely as a PCT fan but we must back (and protect) these guys esp in white ball cricket.
- Maaz Sadaqat
- Farhan Yousuf
- Ghazi Ghouri
- Sameer Minhas
- Ali Raza
- Arafat Minhas
- Sufyan Muqeem
- Faisal Akram
- M Basit
- Abdul Subhan
- Hamza Zahoor
- Ali Shabbir
Invest in these guys (I’m missing a few others). Most of them are good fielders and also good athletes too so perfect for the modern game.
د شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب د شهادت په اړه د اسلامي امارت د غمرازۍ پيغام
په ډيره خواشینۍ سره خبر شوو چې د پيښور اکوړه خټک د دارالعلوم حقانیه مدرسې مشر استاذ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب په شهادت رسول شوی.
انالله و انا الیه راجعون
د ا��غانستان اسلامي امارت په نوموړي باندې برید په تر سختو ټکو غندي او د علماء کرامو په شهادت رسول د اسلام او علماؤو د دښمنانو کار بولي.
د نوموړي جید عالم او د زرګونو علماؤو د استاذ شهادت د ټول علمي کهول، علماء کرامو او اسلامي نړۍ لپاره یوه ستره او نه جبرانیدونکې ضایعه ده.
له الله تعالی څخه مرحوم شیخ صاحب ته جنت الفردوس، کورنۍ، خپلوانو او متعلقینوته د صبر جمیل او اجر جزیل دعا کوو او له الله تعالی څخه د علماء کرامو دښمنانو ته د دنیا او آخرت ذلت غواړو.
د افغانستان اسلامي امارت
۱۸/۱۱/۱۴۴۷هـ ق
۱۵/۲/۱۴۰۵هـ ش ـ 2026/5/5 م
حضرت مولانا ادریس صاحب ترنگ زئی جیسے معزز عالم دین کو جن سنگدلوں نے شہید کیا وہ مسلمان بلکہ انسان کہلانے کے مستحق نہیں ہیں وہ تو شہادت کے اعلی مقام پر سرفراز ھوے لیکن ھم ملک وملت کے عظیم سرمائے سے محروم ھوگئے اناللہ واناالیہ راجعون
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئیؒ علم، وقار، اعتدال کا ایک روشن باب
تحریر:محمدزاھدشاہ،مدیرالجمعیۃ
دارالعلوم حقا،نیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث مولانامحمد ادریس ترنگزئیؒ، رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ جمعیت علماء اسلام وسابق رکنِ صوبائی اس��بلی، آج مورخہ 5 مئی 2026 چارسدہ جنازہ گاہ کے قریب فائرنگ کے افسوس ناک واقعے میں شہییدہوگئے۔انا للہ وإنا إلیہ راجعون۔
حضرت مولانا محمد حسن جان شہییدؒ کے خانوادے سے وابستہ یہ عظیم شخ��یت خود بھی اسی قافلۂ شہداء میں شامل ہوگئی۔ اس سانحے نے نہ صرف چارسدہ بلکہ پورے خیبر پختونخوا کی فضا کو سوگوار کردیاکہ ایک سفید ریش، باوقار علمی شخصیت کو اس بے دردی سے ہم سے جدا کر دیا گیا۔
مولانا محمد ادریس ترنگزئیؒ 1961ء میں ضلع چارسدہ کےعلاقے ترنگزئی میں ایک ایسے علمی گھرانے میں پیدا ہوئےجہاں علم، تدریس، دعوت اور دینی خدمات نسل در نسل منتقل ہوتی رہی تھیں۔ آپ کے والد گرامی مولاناحکیم عبدالحق عوام میں مناظرِ اسلام کے لقب سے معروف تھے۔ آپ کے دادا شیخ الحدیث مفتی شہزادہ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور جید عالم تھے، جبکہ پردادا مولانا محمد اسماعیل بھی اپنے علاقے میں ��لمی مرجع اور شیخ کے نام سے معروف تھے۔یوں اس خانوادے کی علمی روایت نے مولانا محمد ادریسؒ کی شخصیت میں سنجیدگی، وقار اور فکری پختگی پیدا کی۔
آپ عالمی شہرت یافتہ عالم دین فاضل مدینہ یونیورس��ی،شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد حسن جان مدنیؒ شہیید کے داماد تھے۔ گویا علم، نسبت اور کردار تینوں حوالوں سے آپ ایک ممتاز دینی و علمی خانوادے کے امین تھے۔
آپ نے 1983ء میں جامعہ نعمانیہ اتمانزئی چارسدہ میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا اور طویل عرصے تک مختلف علوم و فنون پڑھاتے رہے۔ پھر دارالعلوم اسلامیہ تنگی میں بطور شیخ الحدیث خدمات انجام دیں، بعد ازاں مختلف مدارس میں صحیح بخاری، جامع ترمذی، صحیح مسلم اور مؤطا کی تدریس جاری رکھی۔اور 2013ء میں آپ دارالعلوم نعمانیہ اتمانزئ ،چارسدہ میں شیخ الحدیث اور صدرالمدرسین کے منصب پر فائز ہوئے۔
آپ چونکہ دارالعلوم حقا،نیہ اکوڑہ خٹ�� کے فاضل تھے اور بانی دارالعلوم شیخ عبدالحق رحمہ اللہ کےشاگرد خاص اور خادم ہونے کا شرف بھی حاصل تھا،چنانچہ شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ کی وفات کے بعد حضرت مولانا سمیع ا،لحق شہییدؒ کےپرزور اصرار پر آپ نے دارالعلوم حقاانیہ میں درسِ حدیث کا آغاز کیا اور بخاری و ترمذی کی تدریس سے ہزاروں طلبہ کو فیض پہنچایا۔ تدریسِ حدیث کے میدان میں آپ کی تین دہائیوں پر محیط خدمات آپ کو اپنے عہد کے نمایاں اساتذۂ حدیث میں شامل کرتی ہیں۔
سیاسی میدان میں بھی آپ ایک سنجیدہ، نظریاتی اور باوقار شخصیت تھے۔ 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر چارسدہ سے رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ۔آپ جمعیت علماء اسلام کی مرکزی اورصوبائ مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی تھے۔
مولانا محمد ادریسؒ شہیید کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کا نرم لہجہ، شائستگی اور اعتدال تھا۔ ان کے مزاج میں نہ شدت تھی، نہ نفرت، نہ تعصب اور نہ ہی فرقہ وارانہ تلخی؛ بلکہ ان کی گفتگو میں حکمت، شفقت اور دل نشینی کا وہ اثر تھا جو سننے والوں کے دلوں میں گھر کر جاتا تھا۔ وہ محض مدرس نہیں بلکہ ایک مصلح، مربی اور درد مند داعی تھے۔ ہزاروں طلبہ ان کے حلقۂ درس سے وابستہ رہے، جبکہ لاکھوں افراد نے ان کے بیانات اور مواعظ سے رہنمائی حاصل کی۔
گزشتہ دنوں ایران، امریکہ مذاکرات اور خطے میں کشیدگی کم کرنے ک�� کوششوں کے تناظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کےکردار کو سراہنے پر آپ کو سوشل میڈیا اوربعض سیاسی حلقوں خصوصاً تحریک انصاف کے بعض کارکنان اور پختون قوم پرستوں کی جانب سے سخت تنقید اور ناپسندیدہ رویوں کا سامنا تھا،اور دھمکیاں بھی ملیں،۔ اس پس منظر میں آج کاافسوسناک واقعہ مزید تشویش کا باعث ہے۔ تاہم واقعے کی حقیقت تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔
یہ سانحہ ایک بڑے سماجی سوال کو ضرور جنم دیتا ہے: آخر ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہمارا معاشرہ اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں اختلافِ رائے برداشت کرنے کی صلاحیت مفقود ہوتی جا رہی ہے؟ جہاں دلیل کی جگہ دشنام، اور مکالمے کی جگہ نفرت لے رہ�� ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جو اس سانحے کے بعد پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔
مولانا محمد ادریسؒ شہیید نےان تمام حالات میں خاموشی، وقار اور تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ان کی خاموشی کمزوری نہیں بلکہ تہذیب، متانت اور کردار کی طاقت تھی۔ یہ خاموشی گویا ایک اعلان تھی کہ اہلِ علم اشتعال کے جواب میں اشتعال نہیں، بلکہ حلم اور وقار کو ترجیح دیتے ہیں۔
آج ان کی شہادت صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ مدارس، علمی حلقوں، دینی طبقات اور جمعیت علماء اسلام کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔